Daily Mashriq


اک بلھے شاہؒ درکار ہے اس عہد کو

اک بلھے شاہؒ درکار ہے اس عہد کو

تاریخ کے دستر خوان پر بھوکے کے لئے بھی سب کچھ موجود ہے۔ طالب علم کے لئے اور تحقیق پسندوں کے لئے بھی۔ پچھلے تین عشروں سے جب بھی کسی عزیز نے تاریخ اور اس گھٹالوں پر سوال کیا تو بہت ادب سے عرض کیا۔ ہمیں اوراق الٹنے اور رائے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضرور ذہن میں رکھنا ہوگا کہ لکھنے والا اپنے عہد سے متاثر ہوا۔ درباروں کی نوازشات سے یا پھر اس نے نا مساعد حالات میں ڈھنگ سے حالات کا نقشہ کھینچا۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب آپ تاریخ کے گھٹالوں پر کف اڑاتے دوستوں کو دیکھیں تو جناب عدم سے رجوع کریں‘ عدم کہتے ہیں

عشق کی چوٹ تو سبھی پہ پڑتی ہے یکساں

پر ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے

کیسی عجیب بات ہے طالب علم کے حافظے پر جب بھی عدم کے اس شعر نے دستک دی بے اختیار شہید سرمدؒ یاد آگئے۔ سرمدؒ کہتے ہیں ’’ آدمی اپنے ظرف سے کلام کرتا ہے‘‘۔ بہت سال ہوئے ہیں جب چند طالب علم دوستوں کے ہمراہ دادو سندھ کے تاریخی قصبے ’’ سن‘‘ میں مرشد جی ایم سید کے حضور حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ دو تین گھنٹوں پر پھیلی اس نشست کی یادوں نے ان سموں حافظے پر دستک دی۔ یاد آیا کہ ہم نے تاریخ کے گھٹالوں کو سمجھنے کے لئے ان سے رہنمائی چاہی تھی۔ مرشد بولے ’’ تاریخ کو اپنے سچ کے طور پر دیکھنے کی بجائے لازم ہے کہ تقابلی مطالعہ کرلیا جائے تاکہ نتیجہ حاصل کرنے میں دشواری نہ ہو‘‘۔ سفر حیات کے اس ساٹھویں برس میں بھی چار اور ہوتے مناظروں اور مناظرہ بازوں کے کچے پکے دلائل پر حیران ہوں۔ اس کرب کو لفظوں میں بیان کرنا از بس مشکل ہے جب محسوس ہو کہ اختلاف رائے میں دلیل کم اور نفرت زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم انسان اور طالب علم کی حیثیت سے زندہ رہنے پر اکتفا کیوں نہیں کرلیتے؟ کاش ہم سمجھ سکیں کہ تلواروں کے زخم بھر جاتے ہیں مگر لفظوں سے لگے گھائو نہیں بھرتے۔ بچپن کے دنوں میں مادر تربیت آپا سیدہ فیروزہ خاتون فرمایا کرتی تھیں۔ تاریخ سے لڑتے ہیں ناچار اور کے لوگوں سے۔ ہر شخص اپنے سچ اور جھوٹ کے ساتھ جینے پر بضد ہے۔ مناسب یہ ہے کہ طالب علم کے طور پر جینے کی لگن کو استقامت کے ساتھ پروان چڑھاتے رہو۔ فائدہ یہ ہوگا کہ سنھل کر کلام کرو گے اور احترام انسانیت کو روندنے سے محفوظ رہ جائو گے۔ کل کی طرح یاد ہے کہ جواباً آپا حضور کی خدمت میں عرض کیا۔ سید ابو الحسن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم بھی تو یہی فرما گئے۔‘‘ انسان اپنی زبان کے پیچھے پوشیدہ ہے۔ کلام کرے گا تو پہچانا جائے گا‘‘۔ ماتھے پر انعام میں ایک بوسہ ملا اور بہت ساری دعائیں۔ یہ سال 1972ء کی بات ہے۔ آج 2018ء ہے۔ چھیالیس سال قبل کے سبق کو طالب علم نے کبھی فراموش کرنے کی غلطی نہیں کی۔ کتابوں کے اوراق الٹے‘ مکالموں کی نشستوں میں عرض گزار ہوا۔ بحثوں میں کودا‘ ہمیشہ کوشش یہ کی کہ ظرف کا پیالہ نہ چھلکنے پائے۔ جب کبھی اپنے چار اور دندناتے زبان دانوں اور قدم قدم پر ملتے دانائوں سے واسطہ پڑتا ہے تو سوچتا ہوں لوگ آخر جھوٹ کی بکل مار کر کیسے جی لیتے ہیں۔ ایسے میں ہمیشہ حافظ شیرازی یاد آئے۔ فرماتے ہیں ’’ اپنے عہد اور گزرے وقت پر جھوٹ باندھنا ایسے ہی ہے جیسے اگلے ہوئے لقمہ دہن میں ٹھونسے جائیں‘‘۔ ان ساعتوں میں تلسی داس یاد آرہے ہیں‘ کہتے تھے ’’ چوتھائی روٹی سے جیا جاسکتا ہے تو حلق تک ٹھونس کر کھانے کی ضرورت کیا ہے؟‘‘ ہمیں اپنے سچ کے ساتھ بہر طور جینا چاہئے مگر یہ سچ اجتماعی زندگی کے لئے زہر نہ ہو ورنہ خطائے اجتہادی کے پیچھے پناہ لینا پڑے گی۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ ان سطور میں تواتر کے ساتھ یہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ ہمیں تاریخ کی کتابوں کے صرف وہ اوراق پسند ہیں جہاں ہمارے موقف کی تائید لکھی ہو۔ بد نصیبی یہ ہے کہ بسا اوقات ہم ہزار بارہ سو سال پہلے دنیا سے گزر چکے تاریخ نویسوں کے بارے عدالت لگاتے وقت اپنے تعصب کو انصاف کا ہتھوڑا بنا لیتے ہیں۔ یہ روش‘ فہم اور ضد درست نہیں تقابلی مطالعے کے بنا تاریخ کے سچ کو پانا ممکن نہیں ہوتا۔ کامل انکار ضد سے جنم لیتا ہے۔ انسانیت کا پہلا سبق اعتدال اور دوسرا احترام ہے۔ اچھا چلیں آدمیوں کے جنگل میں انسان تلاش کرتے ہیں۔ کیا اس مرحلہ پر بہت ادب کے ساتھ عرض کروں۔ انسان تلاش کرنے کی بجائے ہم خود انسان کیوں نہیں بن جاتے۔ طلباء اور نوجوان عزیز جب کبھی مکالمے کی مجلس سجاتے ہیں تو ان سے یہ ضرور عرض کرتا ہوں۔ آپ خود دوسروں کے لئے مثال کیوں نہیں بنتے؟ طالب علم کا کندھا ہلاتے ہوئے فقیر راحموں نے کہا‘ کن الجھنوں میں ہو۔ بھائیوں کا گوشت شوق سے کھانے کی عادت پڑ جائے تو سچ دریا کے کنارے قتل ہوتا ہے۔ مکرر عرض ہے تاریخ فہمی لازم ہے اور اس سے زیادہ لازم یہ کہ یہ تعصب سے عبارت نہ ہو۔ ہائے مگر تصعب سے یہاں کون محفوظ ہے۔ فقیر راحموں نے ایک دن کہا تھا ’’ حب ذات اندھے تعصب کو جنم دیتا ہے جو اس سے بچ رہے وہی ہمیشہ زندہ رہیں گے‘‘ جب کبھی اس حوالے سے سوچتا ہوں تو سقراط سے نفس ذکیہؒ تک اور حسین بن منصور حلاج سے سرمد یا پھر حاذق سے بلھے شاہؒ تک کے وہ سارے اجلے لوگ یاد آتے ہیں جنہوں نے زمانوں کی اپنے علم و کردار سے رہنمائی کی۔ کاش ہمارے عہد کو بھی کوئی بلھے شاہؒ نصیب ہوجاتا۔

متعلقہ خبریں