Daily Mashriq


ڈیم مخالفین پر آرٹیکل 6کا نفاذ؟

ڈیم مخالفین پر آرٹیکل 6کا نفاذ؟

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پانی سونے سے مہنگا ہے ڈکیتی نہیں ہونے دیں گے لوگوں کو منرل واٹر کی عادت ڈال کر نوٹ کمائے جارہے ہیں ۔ آرٹیکل 6کا مطالعہ کر رہا ہوں ، ڈیم مخالفت پر غداری کا مقدمہ ہوگا ۔ چیف جسٹس نے اور بھی کچھ کہا ہے بلکہ جب سے انہوں نے دیا مر بھا شا اور مہمند ڈیمز بنانے کیلئے فنڈز قائم کیا ہے تب سے اس معاملے پر اندرون ملک کئی آراء سامنے آرہی ہیں، تاہم سب سے پہلے ان کے تازہ ارشادات کے اس حصے پر بات کرتے ہیں اور بعد میں آگے بڑھیں گے ۔ پانی کو سونے سے مہنگا قرار دینے اور منرل واٹر کے ذریعے نوٹ کمانے کی جو بات انہوں نے کی ہے اس نے ہمیں کئی برس قبل اپنے جرمنی جا کر ریڈیو ڈرامے کی ٹریننگ کا وہ عرصہ یاد دلا دیا ہے،جہاں لگ بھگ 19گھنٹے کے طویل فضائی سفر کے بعد ہوٹل جہاں ہمیں ٹھہرایا گیا تھا ، پہنچے تو ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی ، ہم نے اپنے کمرے سے ہوٹل کے استقبالیہ فون کر کے پانی مانگا تو مشورہ ملا کہ ہوٹل ہی کی دوسری منزل پر ایک مشین لگی ہوئی ہے جس میں مختلف مشروبات یعنی ہارڈ ،کولڈ اور واٹرکے خانے بنے ہوئے ہیں ، مطلوبہ خانے میں سکہ ڈالئے اور مزے کیجئے۔ خاتون ریسپشنسٹ نے البتہ یہ نیک مشورہ دیا کہ ہوٹل سے پانی مہنگے داموں ملے گا جبکہ نیچے سڑک پر بڑے سٹور سے منرل واٹر کی بڑی بوتل مقابلتاًزیادہ سستی مل جائے گی ۔ بعد میں جب ایک نہیں کئی بڑے سٹورز تلاش کئے تو یہ عقدہ بھی کھلا کہ وہاں منرل واٹر کی بوتلیں مہنگی جبکہ کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں اور چھوٹے کین مزید سستے ہیں ، تب اپنے قیام کے آخری لمحے تک منرل واٹر کے بجائے مشروبات سے ہی کام چلاتے رہے ، اسی دوران ہمارے ایک جرمن ٹرینر(استاد) مسٹر وولفرام فراملیٹ نے ہمیں بتایا کہ آپ کے ہوٹل کے نلکوں میں جو پانی آرہا ہے وہ بھی بے ضرر ہے اور اس سے آپ لوگوں کو ڈرانے والے دراصل منرل واٹر کی خریداری پر مجبور کر کے آپ کی جیبوں سے جرمن کرنسی نکلوانا چاہتے ہیں ، تب ہم نے کم از کم کمرے کے اندر پیاس سے نمٹنے کیلئے نلکوں کا پانی پی کر بقول رنگیلا یہ ڈائیلاگ بولنے کے قابل بنایا کہ جرمنی کے نلکوں کا پانی پیا ہے کوئی حقہ نہیں پیا۔ (الحمد للہ ہم تمباکو بلکہ ہر قسم کی ‘‘نوشی‘‘ سے احتراز کرتے ہیں) بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ ہم نے جرمنی میں بھی منرل واٹر سے تجوریاں بھرنے والوں کو مایوس ہی رکھا اور پانی کی جگہ مشروبات شریفانہ سے استفادہ کرتے رہے ، اس لئے ہم چیف جسٹس کی اس بات کو اپنے جرمن استاد کے قول کی روشنی میں کہ منرل واٹر والے آپ کی جیبوں کو خالی کرانے پر تلے بیٹھے ہیں ، درست سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو منرل واتر کا عادی بنا کر نوٹ کمائے جارہے ہیں ۔ تاہم یہ جرمنی یا کوئی اور مغربی ملک نہیں ہے اورہمارے ہاں تو اب پانی اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ اس میں کئی قسم کی خطرناک کثا فتیںشامل ہونے سے جان لیوا امراض لاحق ہو رہے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ جو منرل واٹر کے نام پر ہمیں فروخت کیا جارہا ہے ان کو فروخت کرنے والی لا تعداد کمپنیوں کے بارے میں اکثر یہ خبریں آجاتی ہیں کہ وہ بھی بوتلوں میں حقیقی اور عالمی معیار کا منرل واٹر مہیا نہیں کر رہی ہیں بلکہ بعض تو بس سادہ ٹیوب ویلوں سے حاصل کیا جانے والا پانی ہی منرل واٹر کے نام پر بیچ کر عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں ۔ البتہ یہ جس مسئلے کی جانب چیف جسٹس نے اشارہ کیا ہے وہ تھوڑا سا مختلف ہے یعنی ملک میں پانی کے بحران کی جانب اشارے کئے جارہے ہیں ڈیمز کی کمی کی وجہ سے لاکھوں بلکہ کروڑوں کیوسک پانی سمندر برد ہورہا ہے جبکہ منرل واٹر والی کمپنیاں زیر زمین پانی مفت میں کھینچ کر عوام پر فروخت کر رہی ہیں اور انسان کی زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے پانی کے ناتے کو کیش کر کے تجوریاں بھر رہی ہیں اور صورتحال کی وضاحت پی ٹی وی کے ایک مقبول گیت جو بچوں کیلئے کسی زمانے میں سہیل رعنا نے موسیقی کے قالب میں ڈھا لا تھا کے حوالے سے یوں (تھوڑی تحریف کے ساتھ) کی جا سکتی ہے کہ

’’پانی‘‘ ایسا ناتا جو سونے سے بھی مہنگا

جو سونے سے بھی مہنگا۔۔۔۔

اب ڈیم مخالف عناصر پر آئین کے آرٹیکل 6کے اطلاق پر بات کرتے ہیں، اگرچہ چیف جسٹس نے خود بھی فرمایا ہے کہ وہ محولہ آرٹیکل کا مطالعہ کررہے ہیں ، اس لئے ہم ایسے آئین وقانون سے نابلد لوگ بھلا اس حوالے سے کیا رائے دے سکتے ہیں ۔ اگرچہ آئین کی مطلوبہ شق اس وقت بھی ہمارے سامنے ہے مگر اس پر کوئی رائے اس لئے نہیں دے سکتے کہ ہر آرٹیکل کی وضاحت کیلئے بڑے بڑے جید علمائے آئین وقانون عدالتوں میں بحث کے دوران طرح طرح کی تاویلیں پیش کر کے آخری فیصلے کیلئے عدالت کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں تو ہم کس شمار قطار میں ہیں ۔البتہ ایک ضمنی سا سوال ضرورجناب چیف جسٹس کی خدمت میں رکھتے ہوئے ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ آئین کے آرٹیکل 6 کیمطالعے کے دوران اس نکتے پر بھی ضرور غور کریں کہ اگر ڈیم کی مخالفت واقعی سنگین غداری کے زمرے میں آتی ہے تو زیادہ دور جانے سے احتراز کرتے ہوئے ہم جنرل (ر) مشرف کے دور میں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ریڈیو اور ٹی وی پر ہونے والے مباحث کی پوری سیریز چلانے کے بعد جب بالآخرجنر ل(ر) مشرف نے اس وقت بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیا تو احکامات کو کن عناصر نے ناکامی سے دوچار کر نے میں مبینہ غدارانہ کردار ادا کیا ، یعنی اگر اس وقت بھاشاڈیم کی تعمیر شروع ہو جاتی تو آج ہم یوں فریاد کناں نہ ہوتے ، تو کیا ان لوگوں پر آرٹیکل 6 لاگو کیا جائے گا؟۔

متعلقہ خبریں