Daily Mashriq


عملدرآمد

عملدرآمد

کسی بھی قانون کا بنیادی مطلب اس پر عمل درآمد کرنا اور کروانا ہے۔ قانون بنانے والی اتھارٹی کوئی بھی ہو،کسی بھی مروجہ نظام کے تحت قانون کا اجرا ہو،اس کا احترام اس سے متعلقہ لوگوں پر فرض ہے جبکہ ادارے اس قانون کی روح کے مطابق اس پر عمل درآمد کروانے کے پابند ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر قانون میں دی گئی سزائیں یا جرمانے ،منکر قانون کا مقدر ٹھہرتی ہیں،کسی بھی قانون کو بلا امتیاز نافذ کرنا ہی اداروں کی کامیابی تصور ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے مروجہ نظام کے تحت وہاں کے قوانین میں روز بروز تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں،جن کا اصل مقصد نہ صرف عوام کی فلاح و بہبود ہے بلکہ ان کے جان و مال کا یقینی تحفظ ہے۔ اس حوالے سے بتدریج قوانین نہ صرف سخت ہو رہے ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی بلا امتیاز ہو رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کو بھی حکومت کی نہ صرف پشت پناہی حاصل ہے بلکہ ان کے دائرہ اختیار میں کسی قسم کی مداخلت کا عنصر بھی کم ہی دیکھنے کو ملتاہے،نتیجہ یہ کہ قانون کاخوف عوام کے ساتھ ساتھ غیرملکی تارکین میں پایا جاتا ہے۔دوسری طرف وطن عزیز کے حوالے سے دیکھا جائے تو دور جدید کے حوالے سے قوانین توکثرت سے موجود ہے مگر ان پر عمل درآمد کی شرح انتہائی شرمناک نظر آتی ہے کہ نہ تو عوام ان قوانین پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی متعلقہ حکام ان قوانین کی پاسداری میں سنجیدہ نظر آتے ہیں ۔ پاکستان میں نظام کا پہیہ الٹا چلتا دکھائی دیتا ہے کہ ادارے جو ان قوانین پر عمل درآمد کروانے کے مجاز ہیں ،ان کی اکثریت عوام الناس کو ان قوانین میں موجود سقم کی نشاندہی کرتے ہوئے ،قانون کی روح سے کھلواڑ کرتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف اپنے ان قیمتی مشوروں کا ہدیہ وصول کرنے سے باز نہیں آتی،نتیجہ یہ کہ قوانین مذاق بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس مذاق میںملک کے طاقتور اور بارسوخ افراد تو بآسانی قانون کے چنگل سے بچ جاتے ہیں جبکہ غریب طبقہ قانو ن کی اس چکی میں بری طرح پس جاتا ہے اور ایسے نظام پر بے بسی کے عالم میں ماسوائے شدیدتنقید ،کچھ اور کرنے سے قاصر ہے۔ درحقیقت گزشتہ چند دہائیوں سے یہ مرض عام ہو چکا ہے کہ اشرافیہ نے قانون سازی ہی ایسی شروع کر رکھی ہے کہ اس کا فائدہ ماسوائے چند افراد،خاندانوں یا با اثر طبقے کو ہوتا ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اشرافیہ قانون سازی کے عمل میں چند افراد،خاندانوں یا مراعات یافتہ طبقے کو سامنے رکھ کر قانون سازی کا عمل کرتی ہے ۔ ایسے قوانین کے عمل پذیر ہونے کا براہ راست فائدہ صرف اور صرف اشرافیہ اور ان کے حاشیہ برداروں کو ہوتا ہے جبکہ اشرافیہ،جسے عوام اپنی بہبود کے لئے منتخب کرتی ہے ،درحقیقت اپنے فرائض منصبی سے روگردانی کی مرتکب ہوتی ہے۔اس پس منظر میں افسر شاہی وہ چیک ہے جو اشرافیہ کے غیر آئینی و غیر قانونی احکامات کے سامنے رکاوٹ بننے کی مجاز ہے مگر بد قسمتی سے سیاسی اشرافیہ نے افسر شاہی کو ،تقرریوں و تبادلوںکے گھن چکر میں مقید کرکے ،اس کے بنیادی حق سے محروم کر رکھا ہے ،نتیجتاً افسر شاہی کی اکثریت ایسی رکاوٹ بننے کیلئے تیار نہیں اور اپنی مدت ملازمت کے دوران حصہ بقدر جثہ وصول کرنے پر قائل ہو چکی ہے۔افسر شاہی کی اس سوچ کو تبدیل کرنا اتنا مشکل بھی نہیں کہ یہ وہ طبقہ ہے کہ اگر اسے اعتماد فراہم کردیا جائے تو بہترین نتائج دینے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن یہ اعتماد کیسے اور کیونکر آئے؟قوم کا یہ بہترین طبقہ ،اس وقت سب سے زیادہ حساسیت ،رقابت اور انا کا شکار ہو جاتا ہے،جب اہلیت رکھنے کے باوجود،خوشامدی ٹولے کے ہاتھوںزچ ہوکر پچھلی صفوں میں بیٹھ رہتے ہیں اور جہاں ان کی ضرورت ہوتی ہے،وہ پوزیشن دوسرے سنبھال لیتے ہیں۔ مسئلہ دوسروں کے ایسی پوزیشن سنبھالنے پر نہیں ہوتا ،اصل مسئلہ اس پوزیشن پر بیٹھ کر کارکردگی کا ہوتا ہے جو نہ صرف ریاست بلکہ عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے،اس لئے دنیا بھر میں ایسی پوزیشن پر اعلیٰ کردار اور مضبوط اعصاب کے مالک افسروں کو تعینات کیا جاتا ہے تا کہ حکمرانوں کی من مرضی کے خلاف ڈھال بن سکیںنہ کہ ان کی مونچھ کا بال یا ان کا ہتھیار بن جائیں۔ پاکستان بتدیج بدلتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے افسر شاہی کو اس ضمن میں یقین دہانی کروائی ہے کہ جب تک وہ موجود ہیں،افسر شاہی کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں اپنے فرائض اور اختیارات کا ڈٹ کراستعمال کرتے ہوئے نہ صرف حکومت کیلئے نیک نامی حاصل کرنی ہے بلکہ عوامی بہبود اور عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔ اداروں کی تعمیر نو اور قوانین پر عمل درآمد فقط اسی صورت ممکن ہے وگرنہ ریاست پاکستان میں کسی قسم کی تبدیلی کا نعرہ صدا بہ صحرا ہی ثابت ہو گا۔ علاوہ ازیں قوانین پر بلا امتیاز عمل درآمد ہی حکومت کی نیک نیتی اور اصلاح میں عزم کا ثبوت ہو گا جس کیلئے حکومت وقت کو پارلیمان میں اپنی عددی اکثریت سے کہیں زیادہ اوپر اٹھ کر سوچنا ہو گا۔

متعلقہ خبریں