Daily Mashriq


استحصالی عالمی مالیاتی ادارے

استحصالی عالمی مالیاتی ادارے

عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ادارے 1944 کو وجود میں آئے۔ ان عالمی مالیاتی اداروں کا مقصد بین الاقوامی اقتصادی تعاون بڑھانا، ممبر ملکوں کو تجارت کے لئے قرضے دینا اور انکو مالی بُحران سے نکالناہے۔ مگر آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے نا قدین کہتے ہیں کہ ان عالمی مالیاتی اداروں کا مقصد کبھی بھی رکن ممالک کی فلا ح وبہبود نہیں رہا بلکہ یہ شارک مچھلی کی طر ح سب کچھ ہڑپ کر جاتا ہے۔ نا قدین کہتے ہیں کہ عالمی بینک ، ڈبلیوٹی او اور آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادیات کو تباہی اور غیر مساویانہ راستے پر ڈالا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک اُن ممالک کوجن کو یہ قرضہ دیتے ہیں سختی سے تاکید کرتے ہیں کہ وہ تعلیم ، صحت، خوراک، ٹرانسپور ٹیشن، سماجی فلاح و بہبود پر اخراجات کم کریں ۔ قومی اداروں کی نج کاری کریں اور ملا زمین کی تنخواہوں میںقطعاً کوئی اضا فہ نہ کریں ۔ نا قدین کہتے ہیں کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ان تمام اقدامات سے ملک میں غُربت میں اضا فہ ہوتا ہے، اور کسی ریاست کے لئے مشکل ہوتا ہے کہ اُنکی اقتصا دیات مضبوط بنیادوں پر استوار ہوں، نتیجتاً ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مو قع ملتا ہے کہ وہ مقامی ورکروں کا استحصال کریں۔ کچھ عرصہ پہلے آئی ایم ایف نے ارجنٹیناکو اس شر ط پر قرضہ دیا کہ وہ اپنے ڈا کٹروں اور اسا تذ ہ کرام کی تنخواہوں اور عام لوگوں کے فلا ح و بہبود کے فنڈز میں کمی کریں۔آئی ایم ایف کا نظام جمہوری نہیں، بلکہ جس ملک کے آئی ایم ایف میں زیادہ پیسے ہوتے ہیں وہ اسکا کرتا دھر تا بن جاتا ہے ۔ امریکہ کا آئی ایم ایف میں سب سے زیادہ یعنی 19 فی صد حصہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان عالمی مالیاتی ایجنسی کی پالیسیوں پر امریکہ سب سے زیادہ اثر انداز ہے۔ یہ ادارے بشمول امریکہ اوردیگرصنعتی ممالک، مختلف بینکوں، سرمایہ کا روں اور عالمی کا رپو ریشنوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف رکن ملکوں کو سٹریٹجک اثاثے کو ڑیوں کے دام بیچنے کی تاکید کرتے ہیں۔ یہ عالمی مالیاتی ادارے ممبر ممالک اور انکے کسانوں سے ایسی فصل اُگانے پر مجبور کرتے ہیں جوصنعتی ممالک کو کوڑیوں کے دام ایکسپورٹ کی جا سکے۔ آئی ایم ایف کی کو شش ہوتی ہے کہ ممبر مما لک اور قرض خواہ ملکوں کو مجبو ر کیا جائے کہ مقامی اور گھریلو صنعتوں کی مالی اعا نت ختم کی جائے اور ملٹی نیشنل کا رپو ریشنوں کو فائدہ پہنچا یا جاسکے۔آئی ایم ایف کی یہ بھی کو شش ہوتی ہے کہ رکن ممالک اپنے مزدوروں کی تنخواہکم کریں تاکہ چھوٹے کسان اور تا جر مقابلہ نہ کر سکیں۔ بد قسمتی سے چھو ٹے ممالک کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔ آئی ایم ایف مخصوص مر کزی بینکوں اور وزرائے کرام کے گروہ کو منتخب کرتا ہے جو ان عالمی مالیاتی ایجنسی کے لئے پالیسیاں بناتے ہیںجس میں صحت، تعلیم ، ما حولیات سے متعلقہ ما ہرین نہیں ہو تے۔ ما ضی میں امریکہ کے دبائو پر ہیٹی کو مجبو ر کیا گیا کہ وہ اس کی برآمدات کے لئے اپنی ما رکیٹیں کھولے اور امریکہ سے چاول منگوائے اور ہیٹی نے اپنے کسانوں کو چاول پر جو سبسڈی دی تھی وہ ختم کر دے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہمیشہ قرض لینے والے ملکوں کواُنکے لیبر لاز کا غیر موثر کرنے اور مزدوروں کی تنخواہ اور مراعات ختم کر کے بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے نا قدین کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے اس قسم کے جابرانہ قوانین سے عورتیں، پسے ہوئے اور پسماندہ طبقات متا ثر ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان میں آئی ایم ایف کے قرضہ لینیکے اقدامات پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اس سے یہ بات وا ضح ہو جاتی ہے کہ ہماری حکومتوں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے کہنے پر قومی اداروں کی نجکاری کی، گیس ، بجلی اور دوسری اشیاء پر سبسڈی ختم کی اورغریبوں پر مزید ٹیکس لگایا اس سے غُربت افلاس، بے روز گاری ، مختلف قسم کے جرائم میں اضا فہ ہوا ۔آج پاکستان کے غریب مزید عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ اگر سرمایہ دار اپنی فیکٹریوں کو احسن طریقے سے چلا سکتے ہیں توسرکاری اداروں کو کیوں اچھے طریقے سے نہیں چلایا جاسکتا۔ دراصل ہمارے حکمران جن میں زیادہ تر سرمایہ دار اور کا رخانہ دار ہوتے ہیں اور یہ قانون ساز اداروں میںنسل در نسل چلے آرہے ہیں انکی کو شش ہو تی ہے کہ بڑے بڑے سرکاری کا رپو ریشنز اور ادارے انتہائی خراب حالت میں رہیں اور ان کی استعداد کار صفر ہو تاکہ ان اداروں کی نجکا ری میں کسی قسم کی رکا وٹ نہ ہو۔۔امریکہ کے ایک نوبل انعام یا فتہ معیشت دان نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ روس میں آئی ایم ایف کے ایما پر تیزی سے جو نج کاری کی جاتی رہی اس سے روس میں معا شی زوال شروع ہوا۔چین نے اس صدی میں سب سے زیادہ یعنی چا ر گنا ترقی کی حالانکہ چین نے بین الاقوامی اقتصادی دبائو کے با وجو د بھی نج کاری کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ یہی حالت وینزویلا کی بھی ہے وہاں پر حکومت نے پرائیوٹا اداروں کو دوبارہ نیشنلائز کیا ۔ بد قسمتی کی بات تو یہ ہے کہ جو ادارے پرائیوٹائز کئے گئے ہیں ان میں 90 فی صد بے کار پڑے ہیںاور جن پیسوں سے یہ ادارے خریدے گئے ہیں وہ بھی قومی بنکوں سے لیکر معاف کروائے گئے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ عوام پر مزید ٹیکس لگانے اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے نیب کے پاس ۱۵۰ میگا کرپشن کے سکینڈل پڑے ہیں اسی طرح پانامہ میں جو ۴۳۶ افراد ملوث ہیں ان سے ملکی دولت واپس لیں۔

متعلقہ خبریں