Daily Mashriq

صلاح الدین کے پوسٹ مارٹم سے موت سے قبل بہیمانہ تشدد کی تصدیق

صلاح الدین کے پوسٹ مارٹم سے موت سے قبل بہیمانہ تشدد کی تصدیق

مبینہ اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین ایوبی کے پوسٹ مارٹم سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ملزم پر موت سے قبل بہیمانہ تشدد کیا گیا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر غلام ربانی نے منگل کو ڈان کو بتایا کہ یہ رپورٹ پنجاب فارنسک سائنس ایجنسی نے مرتب کی اور اسے پیر کو پولیس کے سٹی اے ڈویژن میں جمع کرایا گیا تھا۔

صلاح الدین کا پوسٹ مارٹم کرنے والی میڈیکل ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جسم کے مختلف حصوں سے نمونے لیے گئے تھے جن سے تشدد کے ثبوت ملے جبکہ صلاح الدین پھیپھڑوں کے مرض اور ہیپاٹائٹس کا بھی شکار تھا۔

ڈان کو موصول ہونے والی فارنسک رپورٹ کے مطابق جمع کرائے گئے نمونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم پر موت سے قبل تشدد کیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ دائیں کندھے اور بائیں ہاتھ پر شدید تشدد کے ثبوت ملے ہیں۔

محکمہ صحت کے ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انجریز کی نوعیت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزم کو موت سے قبل ببہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سم کے اکثر حصوں پر خون جمع ہوا تھا، دائیں ہاتھ کے اوپری حصے اور پیٹ سے اوپر بائیں ہاتھ پر بھی تشدد کے نشان ملے ہیں۔

پنجاب فارنسک سائنس ایجنسی کی حتمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فارنسک ٹوکسی کولوجی اور فارنسک ہسٹو پیتھولوجی رپورٹس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زخم موت سے قبل آئے اور اس سے پتہ چلتا ہے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ممکنہ طور پر اسی کے نتیجے میں موت واقع ہوئی۔

گوجرانوالہ کے رہائشی صلاح الدین ایوبی کو 31 اگست کو مبینہ طور پر اے ٹی ایم سے کارڈ چوری کے الزام میں رحیم یار خان سے گرفتار کیا تھا۔

ضلعی پولیس افسر کے ترجمان ذیشان رندھاوا نے کہا تھا کہ صلاح الدین ایوبی جب لاک اپ میں تھے اور عجیب حرکتیں کررہا تھا کہ 'اچانک ان کی طبیعت خراب' ہوگئی اور بعدازاں ان کی موت واقع ہوئی۔

بعدازاں ملزم کے لواحقین کی جانب سے پولیس پر صلاح الدین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر دوران حراست قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صلاح الدین ایوبی کی موت کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا اور صلاح الدین کے والد محمد افضال کی درخواست پر اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمود الحسن، تفتیشی افسر سب انسپکٹر شفاعت علی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) مطلوب حسن کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔

اس کے بعد انویسٹی گیشن سپرنٹنڈنٹ پولیس حبیب اللہ خان کو ڈی پی او آفس کا اضافی چارج دیا گیا تھا، تاہم متاثرہ شخص کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب سے شکایت کی تھی کہ متعلقہ افسر مبینہ طور پر کیس میں اثر انداز ہورہے، جس پر ان کا بھی تبادلہ کردیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں