Daily Mashriq

صبح کا احسن فیصلہ شام کو دباؤ پر واپس

صبح کا احسن فیصلہ شام کو دباؤ پر واپس

خیبر پختونخوا میں مشیر تعلیم کی ہدایت پر صوبے کی طالبات کیلئے پردہ کی پابندی لازمی قرار دیئے جانے اور بعض ڈی ای اوز زنانہ کی اس حوالے سے باقاعدہ احکامات کے اجراء کے بعد محض تنقید سے بچنے کی خاطر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اسے واپس لینے کا اقدام احسن نہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے اسے طالبائزیشن قرار دینا اس لئے بلاجواز تھا کہ پردے کا حکم طالبان یا کسی عالم دین یہاں تک کہ کسی فقہ وفرد کا فیصلہ اور حکم نہیں حکم الٰہی ہے اور یہ ہمارے دین کا حصہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں پردہ ہمارے کلچر کا بھی حصہ بن چکا ہے اور یہ ایک اچھا رواج ہے جسے فروغ دینا ہم خرما وہم ثواب کے زمرے میں آتا ہے۔ خیبر پختونخوا کابینہ کی اکثریت بھی پردے کی مخالف نہیں ہوگی، یہاں تک کہ خود وزیراعلیٰ اور وزیراطلاعات اور ان کے علاقوں میں اس کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں معاشرتی اور عوامی لحاظ سے بھی پردے کو پسند کرنے اور اس کی پابندی کا رجحان زیادہ ہے۔ اس ساری صورتحال میں اگر ایک صوبے میں اس قسم کا کوئی حکم سرکاری طور پر دیا جائے تو اس کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں، اگر دیکھا جائے تو اس کی مخالفت کرنے والوں کا تعلق اس صوبے سے شاید ہی ہو ایسے میں دباؤ میں آکر اس فیصلے سے رجوع بلاجواز اور خواہ مخواہ ہی تھا۔ ریاست مدینہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا رول ماڈل ہے اور خوش آئند امر یہ ہے کہ خاتون اول پردے کی مکمل طور پر پابندی کرتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایم ایم اے کے دور میں پردے کی سرکاری طور پر پابندی کرائی جاتی اگر اب تحریک انصاف کو اس کا موقع ملا تھا تو دوچار روز کی تنقید برداشت کرلی جاتی تو اس فطری حکمنامے کا عملی نفاذ ہو جاتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاتا کہ جو طالبات پردے میں نہ آنا چاہیں یا پھر غیرمسلم طالبات کواستثنیٰ دیا جاتا ،جو لوگ سکرٹ یونیفارم کرنے کے خواہاں ہوں ان کی جانب سے تنقید تو ہونی تھی۔ حکومت وریاست کے لوگوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان اپنی جگہ کیاحکومت وقت اور ریاست ہوسناک بھیڑیوں سے معصوم بچیوں اور بچوں کوبچانے کی ذمہ داری سو فیصد نبھارہی ہے، یقینا ایسا نہیں یہ بھی درست ہے کہ چادر اور عبایا مکمل طور پر تحفظ کی ضمانت نہیں، اس کے باوجود بھی حکومت وریاست اور معاشرہ معصوم کلیوں اور مستورات کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔ یہ ذمہ داری نہ تو ریاست، حکومت اور نہ ہی افراد اورمعاشرہ کوئی بھی نہیں نبھاتا۔ اس کے باوجود تنقید میں سب آگے بھی ہوتے ہیں اور ان کی سنی بھی جاتی ہے، حکومت کے اس احسن اقدام کی سعی کی ناکامی کے باوجود خیر کا پہلو یہ ہے کہ پردے کی اہمیت وضرورت اُجا گر ہوئی ہے۔ سکولوں کے اساتذہ،سرکاری افسران،حکمرانوں،علمائے کرام اور معاشرے کی اصلاح کے خواہشمند تمام کرداروںکو سرکاری طور پر نہ سہی دینی ومذہبی، ذاتی اورمعاشرتی طور پر پردے کی پابندی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ معاشرے کے تمام طبقات میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو اس دینی حکم پر اگر عملدرآمد کرنے میں کوتاہی بھی برتتے ہیں تو اسے حکم الٰہی ضرور سمجھتے ہیں اور عملی طور پر اپنی کوتاہی پر نادم رہتے ہیں۔ پردے کی پابندی ہوسکے یا نہ ہوسکے اس سے قطع نظر اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں