Daily Mashriq

پاکستان ثالثی کاکردار ادا کرے

پاکستان ثالثی کاکردار ادا کرے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملوں پر اپنے رد عمل میں ایران پرحملے کااشارہ دیدیاہے تاہم روس اورچین نے امریکاکو خبردارکیا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام پیداکرنے کی کسی بھی کوشش سے بازرہے۔ایران نے امریکا کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایسے الزامات لگا کر ایران پر کارروائی کا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔یاد رہے سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو سات لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ تیل برآمد کرتا ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ برآمدات کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کیلئے رواں ہفتے سعودی عرب اپنے ذخیرہ شدہ تیل کا استعمال کرے گا۔ اگرچہ سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات پر حملہ ناقابل برداشت اور جوابی کارروائی کا متقاضی امر ہے لیکن اولاً اس کی ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہے، دوم اس ضمن میں امریکی تجزئیے اور اطلاعات پر انحصار ممکن نہیں، سوم یہ کہ اس حملے میں حوثی باغی ملوث ہیں ایران کا کوئی کردار ہے یا پھر یہ ایک گہری بین الاقوامی سازش اس کا تعین آسان نہیں۔ یہ معاملہ جذبات کا نہیں تحمل اور برداشت کا ہے تاکہ عراق، شام اور لیبیا کے بعد باقی ماندہ خطے اور مسلم ممالک کے درمیان خدانخواستہ کشیدگی مزید بڑھ جائے اور تصادم کی نوبت آئے۔ عراق وشام اور افغانستان میں امریکہ کا کردارکوئی پوشیدہ امر نہیں۔ عراق کو مہلک ایٹمی ہتھیاروں کے نام پر تباہ کیا گیا اور انجام کا ر عقدہ کھلا کہ وہ اطلاعات ہی غلط تھیںجس کی بناء پر کارروائی کی گئی تھی۔ مسلم ممالک کو ایک ایک کر کے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک ایک مسلم ملک کی تباہی کا منظر بچشم خود ملاحظہ فرمانے کے باوجود مسلم ممالک کو ہوش نہیں آتا۔ سعودی عرب میں اصلاحات کے نام پر خرافات کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے انجام سے ہی ڈر لگتا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب میںمسلمانوں کی جو دینی وآخروی وابستگی کے سامان ہیں اس کے سبب آج بھی سعودی عرب کا دفاع وتقدس ہرمسلمان کی خواہش وفریضہ ہے۔پاکستان کو دوبرادر اسلامی ملکوں میں صلح وثالثی کے کردار کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

بیوروکریسی کی حوصلہ افزائی، وزیراعلیٰ کا احسن اقدام

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جہاں بیوروکریسی کے اعلیٰ کارکردگی کے حامل افسروں کو تعارفی اسناد دیکر ان کی حوصلہ افزائی کی ہے وہاں سول ایڈ منسٹریشن ایکٹ لا کر انتظامیہ کو مضبوط بنانے کا عندیہ بھی احسن ہے، جس سے خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی اور حکومتی عہدیداروں کا ایک قرطاس پر نہ ہونے کے تاثر کا ازالہ ہونا چاہئے۔ اس موقع پر انتظامی افسران کی کارکردگی کا جائزہ حکومتی اقدامات کے نتائج واثرات پر غور وخوض مثبت نتائج کا حامل اقدام ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید زیادہ اور تحسین نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور ایسا ہونافطری امر ہے، اگر حکومت بھی سرکاری افسران کی اچھی کارکردگی پر تحسین اور احتساب کی ذمہ داری نہیں نبھائے گی توحوصلہ افزاء صورتحال کی تصویر کیسے سامنے آئے۔اگر عوامی نقطہ نظر اور مسائل کی بھر مار کے تناظر میں دیکھا جائے تو واقعی حکومتی اقدامات اور سرکاری مشینری اور عمال کی کارکردگی نظرنہیں آتی لیکن درحقیقت ایسا نہیں۔ بساط بھرکام ہورہا ہے اور بعض افسران کی کارکردگی سراہے جانے کا باعث ہے جن کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے تاکہ دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی ہو اور مجموعی طور پر صورتحال میں بہتری اور عوامی مشکلات میں کمی آئے۔

ایف ٹی ایس،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں تاخیر کیوں؟

خیبرپختونخوا میں ایس ایس ٹی کی آسامیوں پر بھرتیوں کیلئے ہونیوالے ٹیسٹ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کیلئے قائم کردہ کمیٹی کا مقررہ پندرہ دنوں میں رپورٹ نہ دینے کی پس پردہ اگر تحقیقات کی عدم تکمیل اور مزید شواہد اکٹھی کرنا ہے تو اس حوالے سے وضاحت سامنے آنا چاہیے تھا اگر ایسا ہوتا تو غلط فہمی کا موقع نہ تھا، پندرہ دن گزرنے کے باوجود اس حوالے سے پراسرار خاموشی شکوک وشبہات کا باعث ہے۔ جوں جوں اس میں طوالت آتی جائے گی شکوک وشبہات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایسا ہونا اسلئے بھی فطری امر ہے کہ اس سکینڈل میںنہ صرف بااثر افراد ہی ملوث ہوسکتے ہیں بلکہ اس میں لاکھوں روپے کے استعمال کا بھی شبہ ہے۔ بہرحال صورتحال جو بھی ہو شکوک وشبہات کی فضا کو گمبھیر بنانے کی بجائے بہتر ہوگا کہ جلد سے جلد رپورٹ مکمل کی جائے اور ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کر کے ان کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے، جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک صوبے میں روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو تسلی نہیں ہوگی۔ چیف سیکرٹری کو اس تاخیرکا نوٹس لینا چاہئے اور جتنا جلد ممکن ہوسکے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے، تحقیقات کے نتیجے میں ہی ان وجوہات اور طریقہ کار سے آگاہی ممکن ہوگی جو بے چینی اور اعتراضات کا باعث بنے۔

ازکجا آمد ایںآوازدوست

قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے حکومتی رکن کا اپنی ہی حکومت سے سوالات،وزیر خزانہ کی مہنگائی اور عوامی مسائل کے حوالے سے جوابدہ وزراء کی غیر موجودگی پر اعتراض حزب اختلاف کے کسی رکن کی خواہ مخواہ تنقید نہیں بلکہ آواز دوست ہے جسے نہ سننے کی کوئی وجہ نہیں۔ فاضل رکن کے عوامی مشکلات نہ سننے اورحل نہ ہونے کی صورت میں استعفیٰ کی دھمکی حکومت کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہے جس میں حکومت کو اپنی صورت اور کارکردگی نظر آنی چاہئے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے حلقے سے منتخب رکن اسمبلی کا صوبے میں بعض حکومتی اراکین سے شکایات اور خاص طور پر فنڈز کے اجراء میں ناانصافی کی شکایات سے بددل ہونا اپنی جگہ لیکن قومی اسمبلی میں انہوں نے حزب اختلاف کے کسی ممبر کی طرح اپنی حکومت سے سوال کر کے حکومت کو مشکلات سے ضرور دوچار کیا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں جہاں حزب اختلاف کے اراکین کھل کر بولیں گے وہاں محرومی اور نظر انداز ہونے کا شکار مزید حکومتی اراکین کا ان کے نقش قدم پر چلنے اور مسائل کے حل نہ ہونے سے مایوس ہو کر عوامی لب ولہجہ اختیار کرنا حکومت کے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ حکومت کو مہنگائی میں کمی لانے کے مطالبات خواہ وہ جس طرف سے بھی آئے ان آوازوں اور مطالبات کو سنجیدہ لینا ہوگا اور مہنگائی کی سطح کم کرنے کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں