Daily Mashriq

گیس کم پریشر، ٹاؤن چوک اور آئی ایم یو رپورٹ

گیس کم پریشر، ٹاؤن چوک اور آئی ایم یو رپورٹ

سال سوا سال قبل جب میں نے اس کالم کی ابتداء کی تھی تو مجھے خدشات تھے کہ شاید اتنے برقی پیغامات نہ ملے کہ ہفتہ وار کالم کا پیٹ بھر سکے۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ دیئے گئے فون نمبر کی سہولت کے ذریعے لوگ الزام تراشیوںوالے برقی پیغامات کی بھرمار کر دیں گے لیکن اس کالم کے آئیڈیا کی مشاورت میں شامل فرد کا خیال تھاکہ یہ کالم کالم نگار اور ادارے دونوں کا قارئین اور عوام سے روابط بڑھانے کا باعث ہوگا، ان ملے جلے خیالات میں اول الذکر امکان بہت کم اور موخرالذکر صورت توقع سے بڑھ کر سامنے آیا۔ کالم میں نشاندہی ہونیوالے معاملات اور مسائل کا جب جائزہ لیا گیا تو محسوس ہوا کہ حکومتی حلقے بھی نشاندہی کردہ عوامی مسائل کے حل کیلئے اقدامات میں سنجیدگی ظاہر کر رہے ہیں جو اس کالم کے شروع کرنے کا بنیادی مقصد اور مدعا تھا۔

حیات آباد فیز6ایف9سے بیک وقت دو برقی پیغامات گیس پریشر میں کمی سے متعلق ملے ہیں۔ ایک میں پورے پس منظر کا بھی تذکرہ ہے کہ بی آرٹی کی تعمیر وکھدائی کے دوران کئی بار گیس پائپ لائینز کاٹنے اور جوڑنے کی ضرورت پڑی، آخری بار گیس پائپ لائن کے کاٹنے اور جوڑنے کے عمل کے بعد ان کے علاقے میں گیس پریشر میں نمایاں کمی آئی جسے حکام نے حیات آباد صنعتی بستی کیلئے نئی گیس پائپ لائن کی تکمیل کے بعد دور ہونے کی یقین دہانی کرا دی۔ گزشتہ ہفتے ہمارے علاقے کے ممبر صوبائی اسمبلی اور وزیرخزانہ خیبر پختونخوا تیمور جھگڑا نے صنعتی بستی کے گیس پائپ لائن کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا مگر فیز6ایف9 میں گیس پریشر کا مسئلہ حل نہ ہوا۔ تکنیکی طور پر تو اس کا علم نہیں کہ ان دونوں کے درمیان کوئی ربط اور تعلق ہے یا نہیں اس سے قطع نظر گیس پریشر اتنا نہیں کہ توا گرم کر کے روٹی پکائی جا سکے۔ حیات آباد میں تندوری روٹی کا وزن، معیار اور پکوائی اس قابل نہیں جسے خریدا اور کھایا جا سکے۔ حیات آباد کے مکین گیس کے بل سوفیصد ادا کرتے ہیں، گیس کی چوری بالکل بھی نہیں ہوتی اس کے باوجود گیس پریشر کم رکھ کر جو ناانصافی کی جارہی ہے خدشہ ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی گیس غائب ہی ہو جائے گی۔ جنرل منیجر ایس این جی پی ایل گیس پریشر میں کمی کی تکنیکی نقص کا جائزہ لیں یا اگر کمپنی ہی کی جانب سے گیس پریشر میں عملاً کمی کی گئی ہے عوامی مشکلات کے پیش نظر مسئلے کے حل پر توجہ دیں۔ میرے خیال میں اس جامع طور پر اور پس منظر کیساتھ مسئلے کی وضاحت اور مسئلے کو حکام کے گوش گزارکرنے کے بعد اس پر مزید تبصرہ کی گنجائش نہیں سوائے اس کے چونکہ حیات آباد صوبائی وزیر خزانہ کا نصف حلقہ اور ووٹ بینک ہے اسلئے ان کو بھی اس مسئلے سے آگاہی اور ایس این جی پی ایل کے حکام سے رابطہ کر کے مسئلہ حل کروانا چاہئے۔ میری معلومات کے مطابق موصوف اپنے حلقے کے عوامی مسائل کے حل میں خاصی دلچسپی لیتے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ایک اور مسئلہ ٹریفک کے رش اور خاص طور پر یونیورسٹی ٹائون تھانے کے سامنے ٹائون چوک پر سڑک کی تنگی کاہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق یہاں پر چوک کے باعث راستہ اتنا تنگ ہے کہ اس مقام پر رش کی وجہ سے صرف دو گاڑیاں مین یونیورسٹی روڈ کی طرف رینگ سکتی ہیں۔ ٹریفک کا بہائو رک جانے کے باعث راحت آباد کے نکڑ تک گاڑیوں کی سہ طرفہ چہار طرفہ قطاریں بن جاتی ہیں اگر اس مقام کو کھول دیا جائے تو یہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے۔ فاصلہ بھی زیادہ نہیں تھانے سے لیکر پٹرول پمپ تک تقریباً سوڈیڑھ سو میٹر کا فاصلہ بمشکل ہوگا، ٹریفک اور شہری حکام کو اس مسئلے کو شہریوں کی شکایات سے قبل ہی حل کرنے کی ضرورت تھی۔ عدم توجہی کی ہرجگہ گنجائش ہوتی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے گزارش ہے کہ اس کا جلد سے جلد نوٹس لیں اور مسئلہ حل کروائیں گو کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں لیکن سرکاری اداروں کی روایتی تاخیر اور ضابطے کی کارروائیوں میں وقت لگنے اور عوامی مشکلات کے پیش نظر وزیراعلیٰ ہی سے مسئلے کے حل کی گزارش موزوں ہوگی۔

ایک اور برقی پیغام ہے کہ بنوں میں آئی ایم یو والے سکول کے سربراہ سے غیر حاضری پر کوئی کٹوتی نہیں کرتے، ان کے لاڈلے میٹنگ وغیرہ کا کہہ کر آئی ایم یو والوں کو مطمئن کردیتے ہیں جبکہ دیگر اساتذہ کو وضاحت کا موقع بھی نہیں دیا جاتا۔ بعید نہیں کہ شکایت درست ہو البتہ انتظامی سربراہ کی ہر جگہ کوئی نہ کوئی باہر کی مصروفیت بھی ہوتی ہے، بہرحال آئی ایم یو والے اگر بار بار سکول ہیڈ کو غیرحاضر پائیں تو رپورٹ کرلیا کریں۔ علاوہ ازیں اساتذہ کو وضاحت کا موقع ضرور دینا چاہئے، عادی غیرحاضر اساتذہ سے کسی طور رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ انصاف اور ضابطے کے مطابق کام لیاجائے تو کسی کو شکایت نہ ہوگی۔

راشد ریٹائرڈ آڈٹ اسسٹنٹ پیسکو پشاور نے پیسکو کے اعلیٰ حکام کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے کہ2016ء سے ریٹائر ہونیوالے ان سمیت پیسکو کے تین سو پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی تاحال شروع نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے اس کی ایک مبہم وجہ پنشن سیکشن کوہاٹ کے ایکس کی بدعنوانی بیان کی ہے، بہرحال وجہ جو بھی ہو یہ بات تو واضح ہے کہ ان سمیت تین سو پنشنرز کو کئی سال گزرنے کے باوجود پنشن کی ادائیگی نہیں ہو رہی۔ پیسکو چیف سے مسئلے کا نوٹس لینے اور تحقیقات کی گزارش ہے تاکہ مسئلے کا صحیح علم بھی ہو اور اس کے حل کی راہ بھی نکل آئے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں