Daily Mashriq

کرتارپور راہداری پر پاک-بھارت بات چیت کی بحالی کیلئے اسلام آباد پرامید

کرتارپور راہداری پر پاک-بھارت بات چیت کی بحالی کیلئے اسلام آباد پرامید

اسلام آباد نے کرتارپور راہداری معاہدے پر بات جیت کو دوبارہ بحال کرنے پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی اس نئی راہداری پر مذاکرات جلد بحال کرے گا تاکہ جتنا جلدی ہوسکے دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان جلد از جلد بھارت کے ساتھ کرتارپور راہدری معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کا خواہشمند ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت بہت جلد اس معاملے میں ملاقات کرنے پر رضامند ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان واہگہ بارڈر پر کرتارپور راہداری معاہدے سے متعلق بات چیت کا دوسرا دور 2 اپریل کو منعقد کیا جانا تھا، تاہم بھارت نے اس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔

نئی دہلی نے کرتارپور کمیٹی میں پاکستان کی جانب سے شامل کیے گئے افراد پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مثبت جواب ملنے کے بعد ایک موزوں وقت میں بات جیت کے دوسرے دور کا آغاز کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل کرتارپور راہداری معاہدے میں بات چیت کا پہلا دور بھارت کے علاقے اٹاری میں ہوا تھا جس میں بھارت کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ مذہبی مقامات پر دورہ کرنے والے سکھ یاتریوں کی تعداد کو بڑھا کر 5 ہزار کر دیا جائے جبکہ گرپراب اور بیساکھی جیسے خصوصی تہوار پر تعداد کو بڑھا کر 10 ہزار کر دیا جائے۔

اس کے علاوہ بھارت کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس راہداری کو بغیر کسی تعطل کے کھولا جائے، زیارت کے لیے پیدل چل کر آنے کی اجازت دی جائے جبکہ زیارت کے لیے کسی بھی طرح کے دستاویزات دکھانے کا مطالبہ نہ کیا جائے۔

بھارتی مطالبے پر پاکستان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی نے اسلام آباد کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کرتارپور راہداری پر دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ملاقات جب بھی ہوگی اس میں دونوں ممالک کے درمیان اس راہداری پر کیے جانے والے مطالبے پر پیدا ہونے والے اختلافات پر بات چیت کی جائے گی۔

خیال رہے کہ کرتار پور راہداری کے ذریعے بھارت میں موجود سکھ برادری کے افراد بغیر ویزا پاکستان میں داخل ہو سکیں گے، جہاں وہ گردوارا نانک جی کی زیارت کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اس راہداری کو نومبر میں گرو نانک دیو جی کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر فعال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

متعلقہ خبریں