Daily Mashriq

بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات

بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات

بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر مسلح افراد کی جانب سے مسافر کوچز روک کر مخصوص مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے کا واقعہ رنج دہ ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں امن دشمنوں کے متحرک ہونے کا عندیہ بھی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بھیس بدلنے کے لیے سیکورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ہلاک شدگان میں سے بعض کا تعلق بھی سیکورٹی فورسز سے بتایا جاتا ہے۔اورماڑہ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ایسے واقعات کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔اورماڑہ کراچی کے قریب بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل ہے۔ کوسٹل ہائی وے پر کراچی اور گوادر کے درمیان چلنے والی گاڑیاں اس علاقے سے گزرتی ہیں۔بلوچستان میں ضلع گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ سمیت بعض دیگر علاقوں میں پہلے بھی مسافروں کو بسوں اور دیگر گاڑیوں سے اتارکر ہلاک کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان میں 2 دہشت گردی کے واقعات بھی ہوئے تھے، جس میں کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سبزی منڈی میں دھماکے میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ اسی روز چمن میں بھی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ دورز قبل ہی حیات آباد میں دہشت گردوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کامیاب کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے۔مختصر مدت میں یکے بعد دیگر ے ہونے والے ان واقعات سے ملک میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے ایک مرتبہ پھر متحرک ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ بلوچستا ن میں ہونے والا واقعہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے دورے اور امن وامان کی صورتحال میں بہتری لانے کے دعوے کے بہتر گھنٹے گزرنے سے قبل ہی پیش آیا ہے۔ بلوچستان میں یکے بعد دیگرے ہونے والے واقعات سے سیکورٹی کے ذمہ دار حکام اور حفاظتی وسلامتی کے تقاضوں پربھی سوالات کا باعث ہے۔ایسا لگتا ہے ملک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات کی روک تھام پر عوام کا اظہاراطمینان اب عدم تحفظ میں بدل رہا ہے اور ایک مرتبہ پھر سیکورٹی اداروں اور خاص طور پر حساس اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بلوچستان میںامن وامان کی بگڑی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات باعث تشویش امر ہیں۔ بلوچستان میں اغیار لسانی، فرقہ وارانہ اور علاقائی منافرت کو ہوا دینے کی سازشوں میں پوری طرح مصروف ہیں۔بلوچستان کے حالیہ واقعات میں ایک مرتبہ پھر بھارت کا ہاتھ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بحروبر اور فضا میں بھارتی سورمائوں کو مسکت جواب ملنے کے بعد بھارت کا روایتی تخریب کاری اور دہشت پھیلانے کے واقعات میں ملوث ہونا باعث تعجب امر نہیں جس کا ماضی میں بھی ہم شکار رہ چکے ہیں۔ لیکن جملہ معاملات کو صرف اس تناظر میں دیکھا نہیں جا سکتابلکہ اس کے پس پردہ دیگر بیرونی اور داخلی عوامل بھی کار فرما ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان میں سرگرم قوتوں کا ہزار گنجی کے واقعے کے بعد منصوبہ بندی سے اس قسم کی واردات کرنا جبکہ حیات آباد میں دہشت گردوں کے بڑے نیٹ ورک کے خاتمے پر بلوچستان میں ردعمل بھی ممکنہ عوامل ہو سکتے ہیں اگرچہ ہلاک شدگان کی پوری طرح شناخت نہیںہوسکی ہے تاہم بعض ذرائع کے مطابق ان میں سے کئی کی شناخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ہے۔ بہرحال جب تک پوری طرح تصدیق نہ ہو اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نشانہ خواہ سویلین کو بنایا جائے یا اداروں کے اہلکاروں کو دہشت گردی کا یہ بزدلانہ واقعہ یکساں قابل مذمت ہے ۔حکومت کو اس امر پر پوری طرح توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال ابتری کی طرف کیوں جارہی ہے ۔ چونکہ وزیراعظم کے پاس داخلہ کا بھی قلمدان ہے اس لئے اسے محض صوبائی ذمہ داری قرار دینے کی بجائے اس کی ذمہ داری بطور حکومت اور ریاست کے لی جائے اور مرکزی وصوبائی حکومت مربوط طور پر دہشت گردی کے واقعات کی بیخ کنی پر توجہ دے ۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ وہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بلوچستان میں منعقد کرے اور وہاں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کر کے صورتحال پر اعلیٰ سطحی مشاورت کی جائے اور جو اقدامات تجویز کئے جائیں ان پر عمل در آمد یقینی بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ہمارے حکمرانوں کو اب اس طرح کے واقعات کے بعدصر ف مذمت پر اکتفا ترک کر کے عملی اقدامات یقینی بنانا ہوںگے۔ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کا ایک موثر ذریعہ پیشگی اطلاعات کا انٹیلی جنس نظام ہوتا ہے۔ اس پر بھی مزید توجہ درکار ہے بلوچستان میں مجموعی طور پر جہاں سیکورٹی کے انتظامات میں بہتری کی ضرورت ہے وہاں پرمسافروں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کو محفوظ بنانے اور مسافروں کو کانوائے کی صورت میں بحفاظت منزل مقصود تک پہنچانے کے اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں