Daily Mashriq

قانون سازی کے ذریعے انسداد گداگری مشکل ہے

قانون سازی کے ذریعے انسداد گداگری مشکل ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان کا پیشہ ورانہ گداگری کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی ہدایت ایک ایسے مسئلے کی سمت درست قدم ہے شہریوں کو پیشہ ور عناصر اور مستحق افراد کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پیشہ ور گداگروں نے اتنے روپ اختیار کئے ہیں اور ایسے روپ بدلے ہیں کہ اب مستحق شخص پر بھی پیشہ ہونے کا گمان ہونے لگا ہے ۔گداگروں کے منظم اور پیشہ ور گروپس بھیک مانگنے کیلئے بچوں اور خواتین کا استعمال کرتے ہیں جو بلاشبہ ایک قابل مواخذہ جرم ہے۔ بچوں اور خواتین کو استحصال سے بچانے کیلئے اس نیٹ ورک کو توڑنا ناگزیر ہے۔اس امر پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی طور پر کمزور طبقے کو گداگری سے نکالنے کیلئے اقدامات موثر نہیں۔ دکھاوے کو تو سوشل ویلفیئر،بیت المال،زکوٰۃ،زمنگ کور،شیلٹر ہومز،دارالامان ڈرگ بحالی سنٹر وغیرہ موجود ہیں مخیرحضرات بھی اپنی کوشش کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود گداگری میں کمی نہ آنے کی شاید ایک بڑی وجہ گداگری کو بطور پیشہ اختیار کرنا ہے۔ منظم اندازمیں گداگری حکومتی اداروں کے عمال کی ملی بھگت اور سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں بنا بریں محض قانون سازی کے ذریعے اس کی روک تھام ممکن نہیں۔ ورنہ ہی پیشہ ور اور غیر پیشہ ور کی پہچان کا کوئی ذریعہ ہے۔ اس کی موثر روک تھام گداگری پر مکمل طور پر پابندی ہے جو لوگ مجبوری کے ہاتھوں دست سوال درازکرتے ہیں حکومت ان کے کوائف معلوم کر کے ان کیلئے وظیفہ مقرر کرے اور بے سہارا افراد کی حکومتی اداروں میں کفالت کی جائے۔

این او سی کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے

حیات آباد میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں نے حصول مکان کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا اسے چالا کی سے تعبیر کرنے کی بجائے اگر پولیس اور پراپرٹی ڈیلروں کی ملی بھگت اور بد عنوانی کا شاخسانہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی کے جعلی شناختی کارڈ کاپی پر مکان کا این او سی لینا اسی وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک متعلقہ پولیس اہلکارمعاونت نہ کریں۔ اگرچہ اس تجویز میں مشکلات ہیں لیکن اس قسم کے واقعات اور اپنے مکانات کو محفوظ طریقے سے کرایہ پردینے کیلئے مالکان یا پھر ان کے نمائندوں اور پراپرٹی ڈیلرکو پولیس آفس جا کر کرایہ نامہ پر دستخط کا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس کے بعدپولیس اور کرایہ دار ہی اس امر کے ذمہ دار گردانے جائیں کہ وہ قانون کا نفاذ اور قانون کی پابندی کریں گے۔ اس تجویز میں چونکہ پھر پولیس کی کمائی کا راستہ کھلتا ہے تو دوسرا طریقہ کار متعلقہ تھانے کو کسی بھی قسم کی بعد کی ذمہ داری کا ذمہ دار ٹھہرا کر این او سی لی جائے۔ یہ بھی مشکل ہو تو کرایہ دار اور ضامنوں کی پولیس ذمہ داری سے تصدیق کی ذمہ داری ہی احتیاط سے پوری کرے۔کرایہ داروں کو این او سی کے اجرا میں منتخب نمائندوں کی بھی مداخلت اپنی جگہ مسائل کا باعث ہے لہٰذا بہتر ہوگا کہ بلدیاتی نمائندوںکا این او سی کے اجرا میں عمل دخل کا خاتمہ کیا جائے اور اسے پوری طرح پولیس کی ذمہ داری میں دیا جائے تاکہ کسی بھی کوتاہی اور واقعہ کی صورت میں پولیس ہی ذمہ دار ٹھہرے۔ حیات آباد فیزسیون میں پیش آمدہ واقعے میں پولیس کی غیر ذمہ داری کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ جب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صفوں میں بد عنوان اور لالچی افراد موجود ہوں گے اس وقت تک دشمنوں کو آسانی میسر آئے گی۔ بہتر ہوگا کہ دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی سے متعلق جامع تحقیقات کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے قبل ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے دانستہ یا نا دانستہ سہولت کار کا کردار ادا کیا ۔

حکومت اور ڈاکٹربرادری مذاکرات کریں

محکمہ صحت تدریسی ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے درمیان جس قسم کی رسہ کشی چل رہی ہے اور نوبت احتجاج تک آگئی ہے اس میں کسی ایک فریق کو حق بجانب اور دوسرے کو قصور وار قرار دینے کی گنجائش نہیں۔ حکومت کا اپنا موقف ہے اور ڈاکٹر برادری اپنا موقف رکھتی ہے اس سارے عمل میں متاثرہ فریق عوام اور مریض ہیں جن کی مشکلات کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر فریق اتنا بااثر اور مضبوط ہے کہ وہ اپنی بات منوانے کیلئے دبائو ڈال سکتا ہے لیکن اس کا سارازور مریضوں اور عوام پر پڑے گا پہلے سے مشکلات کا شکار عوام اس نئی مشکل کو سہارنے کے متحمل نہیں ہوسکتے لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ متعلقہ فریق ضد اور انا چھوڑ کر مل بیٹھیں اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں ۔فریقین لچک کا مظاہرہ کریں اور معاملات طے کر لئے جائیں ۔ حکومت کو خاص طور پر لچکدار رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاملات طول نہ پکڑیں اور ہسپتالوں کا نظام متاثر نہ ہو۔توقع کی جانی چاہیئے کہ یہ معاملہ طول نہیں پکڑے گا اور فریقین ضد اور انا ترک کر کے حقیقت پسندانہ موقف اپنائیں گے اور عوام کو مشکلات کا شکار ہونے نہیں دیا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں