Daily Mashriq


نوحہ گری نہ کریں تو کیا کریں؟

نوحہ گری نہ کریں تو کیا کریں؟

مریضہ کے لواحقین نے فزیشن کی 2500 روپے فیس ادا کرکے اسے چیک کروایا۔ فزیشن نے امراض قلب کے ماہر کو دکھانے کے لئے ریفر کردیا۔ امراض قلب کے ماہر کی فیس 2500 روپے ایکو ٹیسٹ 3500 روپے یعنی 6000 روپے ادا کئے گئے۔ ماہر امراض قلب نے جو ادویات تین ہفتے کے لئے لکھیں وہ 4200 روپے کی آئیں۔ ایک دن میں 12700روپے اٹھ گئے۔ شناخت کا بھرم مقصود ہے اس لئے نام لکھنے سے قاصر ہوں۔ سفید پوش تنخواہ دار گھرانہ ہے۔ اہلیہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوچکی ہیں۔ میاں ملازمت کرتا ہے۔ خاتون کو پچھلے 3ماہ سے پنشن نہیں ملی۔ پنجاب میں سب سے برا حال پنشنروں کا ہے تین تین ماہ اور بعض اداروں میں پانچ سے چھ ماہ تک پنشن نہیں ملتی۔ جواز یہ ہے کہ فنڈز نہیں ہیں۔ پنشنروں کے لئے اداروں کے مستقل فنڈز پر برا وقت پہلے جنرل پرویز مشرف کے دور میں آیا جب ضلعی ناظمین نے ہائوسز کی منظوری کے بغیر پنشن فنڈز بینکوں اور دوسرے مالیاتی اداروں سے نکلوا کر اللوں تللوں پر اڑا دئیے۔ دوسرا برا وقت جناب شہباز شریف کے دور میں آیا انہوں نے پنجاب بھر کے بلدیاتی اداروں کے مخصوص فنڈز نکلوا کر لاہور کی اورنج لائن ٹرین کے منصوبے میں جھونک دئیے۔ پھر بھی انہوں نے جیسے تیسے بھرم برقرار رکھا مگر اس دوران یہ ضرور ہوا کہ بلدیات‘ زراعت‘ صحت اور چند دوسرے محکموں میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کے لئے گریجویٹی اور پنشن کے مسائل سنگین ہوگئے۔ حل یہ نکالا گیا کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کی نمبرنگ کردی گئی۔ یہی جواب پنشنروں کے ایک کیس میں پنجاب حکومت نے 2015ء میں لاہور ہائیکورٹ میں دیا۔ کہا فنڈز کی کمی ہے اس لئے فوری گریجویٹی کی ادائیگی مشکل ہے مرحلہ وار ادائیگی ہوگی۔ بادشاہ لوگوں نے یہ دریافت کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی اس حوالے سے محکموں کے مخصوص فنڈز کہاں گئے۔ تمہید کچھ طویل ہوگئی۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ فی الوقت اس ملک میں سب سے برے حالات سفید پوش متوسط طبقے کے تنخواہ دار ملازمین کے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ بعض نجی اداروں میں کئی کئی ماہ تک ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر ادارے اس صورتحال کاشکار ہیں۔دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ جنوری سے 15اپریل کے درمیان روز مرہ ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے صارفین کی کمر توڑ دی ہے۔ رہی سہی کسر ان ساڑھے تین ماہ کے دوران بجلی‘ گیس اور پٹرولیم کے بڑھائے گئے نرخوں نے پوری کردی۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ گیس کی قیمت میں 80فیصد اضافہ ناگزیر ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں 15سے 20فیصد اضافے کی اجازت دی گئی لیکن عملی طور پر پچاس سے دو سو فیصد اضافہ ہوا۔ وزیر اعظم نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے 72گھنٹوں میں ادویات کی پرانی قیمتیں بحال کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کو اس تحریر کے لکھے جانے تک بارہ دن ہوگئے۔ متعلقہ اداروں نے اس دوران کیا کیا سوائے پھرتیوں کے مظاہرے کے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ مزید 15دن لگیں گے۔ مگر لکھ کر رکھ لیجئے ادویہ ساز ادارے معمولی نوعیت کی دوائیوں کی قیمت میں دو چار روپے کی کمی کردیں گے کسی طور بھی 50سے 200 فیصد بڑھی ہوئی قیمتیں معمول پر نہیں لائی جاسکیں گی۔ سرمایہ دار اپنا خالص منافع کم نہیں کرتا وہ کہہ رہا ہے کہ حکومت ٹیکس میں چھوٹ دے یعنی ٹیکس کی اس چھوٹ سے کچھ ریلیف دیاجائے گا قیمتیں برقرار رہیں گی۔ فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ اصل ایشوز پر بات کرنے اور انہیں حل کرنے پر توجہ دینے کی بجائے نان ایشوز پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے۔ کوئی ایک مسئلہ ہو تو اس کا رونا رویا جائے۔ مسائل قطار اندر قطار دندناتے پھر رہے ہیں۔ وہ ارسطوئے اعظم جو 2011ء سے دسمبر2017ء کے درمیان ٹی وی چینلوں پر نصف گھنٹے میں انقلاب برپا کرتے اور ہتھیلی پر سرسوں جما( پیدا) کرکے دکھاتے تھے اب صبر شکر کے مشورے دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ صورتحال کی نشاندہی کا برا منایا جا رہاہے۔ زمینی حقائق پر متوجہ کرو تو پچھلے ادوار کے حکمرانوں سے لفافہ لینے کا الزام تھوپ دیاجاتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات تب ممکن ہیں جب تحریک انصاف اپوزیشن والا رویہ ترک کرکے حکمرانی کے فرائض ادا کرے۔ یہ کیسے ہوگا اس کے بارے میں راوی خاموش ہے۔

نصف سے زیادہ کالم لکھ چکا تو بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے پر مسافر بسوں سے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارے گئے 13مسافروں کے سفاکانہ قتل کے سانحہ کی اطلاع ملی۔ شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے کی روایت گلگت سے بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ابتداء میں ادھوری خبر نشر کرنے کا نقصان ہوا مقتولین کی شناخت کو لے کر کچھ لوگوں نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ ماضی کے چند واقعات کی وجہ سے تھا بعد ازاں اس امر کی تصدیق ہوئی کہ مقتولین کا تعلق صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب سے تھا اور یہ حساس اداروں کے ملازم اورمزدور تھے چھٹیاں گزارنے گھروں کو جا رہے تھے۔ 13افراد کا سفاکانہ قتل سانحہ ہے وہ لوگ جو ہمیں بتا سمجھا رہے تھے کہ سب اچھا اب اس سانحہ کے حوالے سے کیا کہیں گے؟ بد قسمتی سے سانحات کے حوالے سے سوالات ملک دشمنی قرار دئیے جاتے ہیں ورنہ بہت ادب کے ساتھ عرض کیا جاسکتا ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔ مسائل ہیں شکایات بھی اور منفی رویوں کے ساتھ اقدامات بھی۔ ان کا حل کیاہے‘ مجھ طالب علم کے نزدیک ان مسائل و شکایات کا حل مکالمے میں پوشیدہ ہے اللہ جانے وہ کون لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کا رد عمل نہیں ہوتا۔ ہم رد عمل پر سیاپا کرنے والے بن کر رہ گئے ہیں زمینی حقائق کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اب تو یہ کہتے اور لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ کیا زمانہ آگیا ہے بھائی بھائی کا خون بہا رہاہے۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں