Daily Mashriq

ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے

ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے

Will Durant اپنی مشہور زمانہ کتا ب The story of philosophyکے دیباچہ میں لکھتا ہے کہ عصر حاضر میں علم مبالغے کی حد تک پھیل چکا ہے سائنس کی نت نئی دریافتوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے دوربین نے ہمیں ان ستاروں اور کائناتی نظام سے آشنا کردیا ہے جو انسانی ذہن کی رسائی سے بھی باہر ہے طبیعات نے ایٹم کے زرے میں کائنات دریافت کر لی ہے۔ آرکیالوجی نے صدیوں سے مدفون شہردریافت کر لیے ہیںانسانی ذہن کے مقابلے میں انسانی علم بہت زیادہ وسیع ہوچکا ۔ آج علم کا بول بالا ہے دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ہی اہل علم کی توقیر میں پوشیدہ ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے جس نے اہل علم کی عزت کے بغیر معاشی ، اخلاقی اور سماجی ترقی کی ہو! فرانسیسی عدالتوں میں یونیورسٹی ٹیچرز اور میڈیکل کالج میں پڑھانے والے ڈاکٹروں کے سوا کسی کو بھی کرسی پیش نہیں کی جاتی !جاپان جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑی تیزی سے ترقی کی ہے جس کی طاقتور معیشت نے امریکا جیسے ملک کو خوف میں مبتلا کررکھا ہے۔ جاپان ہی وہ ملک ہے جہاں پولیس کو کسی استاد کی گرفتاری سے پہلے حکومت سے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے! دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر سے پوچھا گیا کہ مسلسل جنگ کے نتیجے میں ہمارے قیمتی لوگ بڑی بھاری تعداد میں موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں یہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے اس کا کوئی حل نکالنا چاہیے!ہٹلر نے کچھ دیر سوچا پھر کہنے لگا کہ جنگ میں اموات تو ہوتی ہیں ان سے کسی صورت نہیں بچا جاسکتا البتہ ایک صورت ممکن ہے اگر ہوسکے تو اپنی قوم کے اساتذہ کودشمن کی گولی سے بچانے کی کوشش کرو۔اگر استاد محفوظ ہیں تو یہ قیمتی لوگ پھر تیار ہوجائیں گے!ایک مرتبہ سکندر اعظم اپنے استادعظیم فلسفی ارسطو کے ساتھ سفر میں تھا راستے میں ایک خطرناک نالا عبور کرنا پڑگیا ارسطو بادشاہ کے احترام میں اپنی جگہ پر رک گیا تاکہ سکندر اعظم پہلے نالا عبور کر لے۔ بادشاہ نے حیران ہوکر ارسطو کی طرف دیکھا اور رکنے کی وجہ پوچھی ؟ میں بادشاہ سلامت کے احترام میں رک گیا ہوںپہلے آپ نالا عبور کرلیں یہ بات سن کر سکندراعظم نے ایک تاریخی جملہ کہا جو آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف کے ساتھ لکھے جانے کے قابل ہے : استاد محترم اگر آپ محفوظ رہے تو میرے جیسے بہت سے سکندر پیدا ہوتے رہیں گے لیکن اگر ارسطو نہ رہا تو پھر دوسرا ارسطو کہاں سے آئے گا؟ دوستو!استاد کا تعلق مادر علمی کے ساتھ ہوتا ہے آج ہم سب جیسے بھی ہیں جہاں بھی ہیں کتنے بڑے عہدے پر فائز ہیں کتنے صاحب اختیار ہیںمگر ایک حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ کبھی ہم بہت چھوٹے تھے۔ اپنے الفاظ صحیح طریقے سے ادا کرنے کے قابل نہیں تھے ہمیں الف ب ت اور اے بی سی کے ساتھ سب سے پہلے استاد نے متعارف کروایا۔ اس نے ہمیں بولنا سکھایا بات کرنے کے آداب سکھائے کب بات کرنی ہے کیا بات کرنی ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے یہ سب کچھ ہم اپنے اساتذہ کرام سے ہی سیکھتے ہیں۔ ان کا احترام ہم پر واجب ہے حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے: جس سے میںنے ایک لفظ بھی سیکھاہے میں اس کا غلام ہوںنبی کریمﷺ فرماتے ہیں مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے !تمہید اچھی خاصی طویل ہوگئی ہے بات صرف یہ کرنی تھی کہ چند دن پہلے ایک مشیر باتدبیر نے اساتذہ کرام پر نااہلی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں اپنے کام سے ناآشنا قرار دیا جس کی وجہ سے اساتذہ کرام سراپا احتجاج ہیں۔وہ سڑکوں پر آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کروارہے ہیں انہیں اس بیان سے دکھ پہنچا ہے وہ ارباب اقتدار سے گلہ مند ہیں کہ تعلیم جیسے مقدس ادارے کی توہین کی گئی ہے تعلیم اور استاد کا جو تقدس ہے اسے بری طرح مجروح کیا گیا ہے!

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں

ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے

یہ ہم سب کی بدقسمتی ہے کہ درس و تدریس کبھی ایک مشن ہوا کرتا تھا جو آج ایک منافع بخش کاروبار کی صورت اختیار کرچکا ہے لیکن آج بھی اس گئے گزرے دور میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کرام مشنری جذبے کے ساتھ طلبہ کو پڑھا رہے ہیں ! اچھے برے لوگ ہر ادارے میں ہوتے ہیںدرس و تدریس کا شعبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر کوئی ٹیچر طلبہ کو نہیں پڑھاتا کلاس چھوڑ کر سٹاف روم میں بیٹھ کر گپیں مارتارہتا ہے تو اسے اساتذہ کرام کالی بھیڑ کا خطاب دینے میں لمحہ بھر کی تاخیر بھی نہیں کرتے!ایسے ٹیچر کو کوئی بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ! گلے شکوے تو ہوتے رہتے ہیں لیکن تعلیم کے حوالے سے کچھ باتیں ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ ہمارے یہاں اب تک جو حکومت بھی آئی ہے تعلیم کبھی بھی اس کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی اور اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہمارا تعلیمی بجٹ ہے استاد اور تربیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہمارے یہاں جدید خطوط پر تربیت کا فقدان ہے غیر تربیت یافتہ اساتذہ کی ایک بہت بڑی تعداد تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے یقینا تعلیم کا حق بطور احسن اد ا نہیں ہو پارہا ! عصرحاضر میں درس وتدریس کے نت نئے طریقے بچوں کی تعلیمی نفسیات کے حوالے سے ہر روز متعارف ہورہے ہیں جن سے آگہی ہمارے اساتذہ کرام کے لیے بہت ضروری ہے تعلیم کی حیثیت کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے اس کے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا یقینا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے! ۔

متعلقہ خبریں