Daily Mashriq


ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کا اعلان، محمد عامر ڈراپ

ورلڈ کپ کے لیے پاکستان ٹیم کا اعلان، محمد عامر ڈراپ

ورلڈ کپ 2019 کے لیے پاکستان کے 15رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا، محمد عامر جگہ بنانے میں ناکام ہوگئے۔

قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری یہ ٹیم انشااللہ جیت کر آئے گی، ہم سب کی یہی دعا ہے، سلیکٹرز، کوچ اور کپتان نے بہترین ٹیم بنائی ہے اور اس میں ہم نے چیمپیئنز ٹرافی کے 11 کھلاڑیوں کو اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ مجھے اس ایونٹ کی اہمیت کا اندازہ اس لیے ہے کیونکہ میں یہ پانچ ایونٹ کھیل چکا ہوں اور ان میں ایک میں فتح بھی نصیب ہوئی۔

’میں دونوں طرح کا مزہ جانتا ہوں، جیت کا بھی، ہار کا بھی‘۔

ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

سرفراز احمد(کپتان)، فخر زمان، عابد علی، بابر اعظم، شعیب ملک، حارث سہیل، محمد حفیظ، امام الحق، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، جنید خان اور محمد حسنین۔

یاد رہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے محمد عامر کیریئر کی بدترین فارم میں نظر آئے اور 27سالہ باؤلر اس دوران 14میچوں میں کرائے گئے 101اوورز میں 92.60 کی اوسط سے صرف 5 وکٹیں لے سکے۔

انضمام الحق نے کہا کہ انگلینڈ کے دورے کے لیے دو اضافی کھلاڑیوں کو رکھا گیا ہے جن میں محمد عامر اور آصف علی شامل ہیں۔

یہ دونوں انگلینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی20 سیریز میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کے لیے دستیاب ہوں گے اور اس سیریز میں ان کی کارکردگی کو دیکھنے کے بعد ورلڈ کپ کے حتمی اسکواڈ میں شمولیت کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف ایک ٹی20 اور پانچ ون ڈے میچوں پر مشتمل سیریز کھیلے گی۔

انضمام نے کہا کہ پاکستان کپ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ ضرور لیا اور اگر ضرورت پڑتی تو ہم وہاں سے ضرور لڑکے لے لیتے، وہ ہمارا اپنا ایونٹ تھا۔

انہوں نے کہا کہ عمر اکمل سمیت تمام کھلاڑیوں کی کارکردگی کا آسٹریلیا کے خلاف سیریز سمیت پاکستان کپ میں جائزہ لینے کے بعد اسکواڈ منتخب کیا گیا۔

سرفراز کی وجہ سے رضوان کو ٹیم کا حصہ نہیں بناسکے

آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں دو سنچریاں بنانے کے باوجود محمد رضوان کو ٹیم میں منتخب نہ کرنے کے سوال پر چیف سلیکٹر نے کہا کہ جن 6 کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے اسکواڈ سے ڈراپ کیا گیا تھا وہ آٹومیٹک چوائس تھے اور یہ اچھی چیز ہے کہ رضوان نے کارکردگی دکھائی لیکن ہمارا کپتان وکٹ کیپر ہے جو کافی عرصے سے ٹیم کی نمائندگی کرتا رہا ہے، اس وجہ سے رضوان کو ٹیم کا حصہ نہیں بنا سکے۔

ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے سوال پر انضمام نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیم کو 0-5 سے شکست ہوئی لیکن اس سیریز میں ہمیں اپنے اہم کھلاڑی دستیاب نہیں تھے، ہمیں انہیں آرام دینا تھا اور انہیں ڈراپ کرنے کا فیصلہ بہت مشکل تھا لیکن ٹیم کی بہتری کے لیے ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچتی ہے تو ہمیں 2 مہینے میں کُل 22 میچ کھیلنے پڑیں گے جو آسان بات نہیں ہے اور جب ہم کھلاڑیوں کو آرام دیا تھا تو اس وقت لڑکے گزشتہ ساڑھے 4ماہ سے مستقل کرکٹ کھیل رہے تھے۔

حفیظ کی شمولیت فٹنس سے مشروط

کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے سوال پر چیف سلیکٹر نے کہا کہ سارے کھلاڑیوں نے فٹنس ٹیسٹ پاس کیے ہیں، حفیظ کی شمولیت فٹنس سے مشروط ہے جبکہ عماد وسیم کا فٹنس ٹیسٹ پاس نہیں ہے لیکن ٹیم کے کامبی نیشن کو دیکھتے ہوئے عماد وسیم کو تھوڑی فیور دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایونٹ میں یہ کہہ دینا مشکل ہے کہ ہم یہ ایونٹ جیت جائیں گے، لیکن مجھے اپنی ٹیم سے پوری امید ہے اور یہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، اللہ تعالیٰ نے چیمپیئز ٹرافی نے بھی ان 11 لڑکوں کو عزت دی تھی، ابھی انشااللہ ان کو عزت دے گا۔

’1992 میرا ورلڈ کپ تھا اس میں اللہ نے فتح دی، یہ میری سلیکشن کا پہلا ورلڈ کپ ہے، دعا ہے کہ اللہ اس میں بھی فتح دے‘۔

محمد حسنین ٹرمپ کارڈ قرار

انہوں نے ورلڈ کپ کے لیے نوجوان فاسٹ باؤلر محمد حسنین کو ٹرمپ کارڈ قرار دیا جو 150کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حسنین کو منتخب کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے پاس سرپرائز پیکج ہے جو لڑکا 150کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کر سکتا ہے اور یہ کسی بھی وقت ٹیم کو میچ جتوا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے باؤلرکا ٹیم میں ہونا ضروری ہے، ہمارے پاس موجود بقیہ تمام باؤلرز حسن علی، فہیم اشرف اور جنید کی باؤلنگ کی رفتار ایک جیسی ہے اور ان میں اس رفتار کا باؤلر ہو تو وہ کسی بھی ٹیم کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے اور کسی بھی ٹیم کے لیےے سرپرائز پیکج بن سکتا ہے۔

انضمام نے کہا کہ ہمارے لیے ٹیم کا انتخاب آسان نہیں تھا، عامر کی بدقسمتی سے ایک سال سے کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی لیکن اس کے باوجود انہیں ڈراپ کرنے کا فیصلہ بہت مشکل اور کٹھن تھا تاہم ہم نے اسے اسکواڈ کے ساتھ رکھا ہے اور ہماری دعا ہے کہ یہ فارم میں واپس آ جائے۔

آصف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو آخری کے 10اوورز میں آ کر تیزی سے رنز اسکور کر سکے، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں عمر اکمل کو اسی لیے آزمایا لیکن وہ نہیں چل سکے اور اب آصف کو دورہ انگلینڈ میں موقع دیں گے۔

متعلقہ خبریں