Daily Mashriq

سمندری گھاس اور الجی میں دواؤں کے خزانے دریافت

سمندری گھاس اور الجی میں دواؤں کے خزانے دریافت

پرتگال: ہمیں نئی دواؤں اور بالخصوص اینٹی بایوٹکس کی شدید ضرورت ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ سمندری گھاس اس کی بہترین امیدوار ہوسکتی ہے۔

سمندری گھاس (سی ویڈ) پر طرح طرح کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جن میں ایکٹینوبیکٹیریا سرِ فہرست ہیں اور ان میں کینسر، ملیریا سمیت کئی اقسام کے انفیکشن روکنے کی صلاحیت دیکھی گئی ہے۔

بیکٹیریا سمیت کئی اقسام کے خردبینی جاندار ( پروٹوزوا، مولڈ اور امیبا وغیرہ) ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں۔ انہی کی بدولت کئی دوائیں بھی بنائی جاتی ہیں اور اب سمندری گھاس پر موجود ایکٹینوبیکٹیریا میں ایسے مرکبات ملے ہیں جو نئی دواؤں میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگرچہ ایکٹینوبیکٹیریا خشکی پر موجود ہوتے ہیں لیکن سمندروں کی گہرائی میں موجود ایکٹینوبیکٹیریا کو اب تک بہت کم آزمایا گیا ہے۔

فرنٹیئرز آف بایوٹیکنالوجی نامی جریدے میں شائع ایک مقالے میں پرتگال کے بین الموضوعاتی مرکز برائے سمندری اور ماحولیاتی تحقیق کی ڈاکٹر ماریا ڈی فاطمہ کاروالہو کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں 20 ہزار سے زائد موجود ادویہ کی نصف تعداد ایکٹینوبیکٹیریا سے بنائی گئی ہیں۔

سمندری ایکٹینوبیکٹیریا سے ایک حیاتی مرکب salinosporamide A اخذ کیا گیا ہے جو کینسر کے علاج میں مفید ثابت ہوسکتا ہے اور اسی بنا پر تجربہ گاہوں میں آزمائش کے مراحل میں ہے۔ اسی طرح سمندر میں ایک بھوری الجی ہے جس کا نام L. ochroleuca ہے اس میں طبی استعمال کے کئی بیکٹیریا دیکھے گئے ہیں۔

اس بھوری الجی سے صرف چھ ہفتوں کی تحقیق میں ماہرین نے 90 اقسام کے نئے ایکٹینوبیکٹیریا ڈھونڈ نکالے ہیں۔ ان میں سے 45 ایکٹینوبیکٹیریا نے کئی بیماریوں کے جراثیم کو روکنے میں کامیابی حاصل کی جن میں اسٹائفلوکوکَس اوریئس اور کینڈیڈا البیکانز شامل ہیں ۔ بعض ایکٹینوبیکٹیریا سرطان کے خلاف بھی مؤثر دیکھے گئے۔

ڈاکٹر ماریا ڈی فاطمہ نے کہا کہ سات ایکٹینوبیکٹیریا دماغی اور چھاتی کے سرطان کو روکنے میں مفید دیکھے گئے ہیں۔ ماہرین اس بھوری الجی سے بہت پرامید ہیں کہ شاید اس سے شفا کے نئے باب کھل سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں