Daily Mashriq


جمرود میں ضم اضلاع کے پہلے سپورٹس گالا کا آغاز ،ایک ہفتہ جاری رہے گا

جمرود میں ضم اضلاع کے پہلے سپورٹس گالا کا آغاز ،ایک ہفتہ جاری رہے گا

پشاور( مشرق نیوز) ضم شدہ اضلاع کے پہلے رنگارنگ سپورٹس گالا کا آغاز ضلع خیبر کے جمرود سپورٹس کمپلیکس میں ہوگیا۔ جو ایک ہفتے تک جاری رہیگا۔سپورٹس گالا کا افتتاح قبائلی اضلاع کے روایتی رقص اور میوزک سے کیا گیا۔سینئر وزیر خیبر پختوخوا برائے کھیل وسیاحت محمد عاطف خان نے اس بڑے سپورٹس ایونٹ کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر محمود اسلم ،ڈائریکٹر جنرل سپورٹس جنیدخان،ڈائریکٹر سپورٹس ضم شدہ اضلاع محمد نواز خان سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔۔قبائلی اضلاع کے اس بڑے ایونٹ میں تمام ضم شدہ اضلاع سے تقریبا 3000 مرد وخواتین کھلاڑی 32 مختلف گیموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔ان اضلاع میں باجوڑ مہمند'خیبر'اورکزئی'کرم'نارتھ وزیرستان'ساؤتھ وزیرستان اور چھ سب ڈسٹرکٹس پشاور'کوہاٹ'بنوں'ڈیرہ اسماعیل خان' لکی مروت اور ٹانک شامل ہیں۔ خواتین کھلاڑی پانچ مختلف کھیلوں میں حصہ لے رہی ہیں ان میں رسہ کشی'بیڈمنٹن'ٹیبل ٹینس'والی بال جبکہ مرد کھلاڑی کے کھیلوں میں ایتھلیٹکس'آرچری'باسکٹ بال'بیڈمنٹن'باسکنگ'سائیکلنگ'کرکٹ'فٹبال'نیٹ بال'جمناسٹک'ہاکی جوڈو'جوجیشسو'کراٹے'کبڈی'نیٹ بال'رگبی'رسہ کشی'شوٹنگ'ٹینس'تایئکوانڈو 'والی بال'ووشو'بیس بال'باڈی بلڈنگ اور ویٹ لفٹنگ شامل ہیں'تمام گیمز سات مختلف اضلاع میں منعقد کی جا رہی ہیں' افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں اس میگا سپورٹس ایونٹ کے انعقاد کا مقصد پاکستان اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ یہاں کے عوام پرامن اور پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں۔ضم شدہ اضلاع کے نوجوان باصلاحیت ہیں اور اپنی سرزمین پر امن چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو بھی اب صوبے کے دیگر حصوں کی طرح کھیلوں سمیت تمام سہولیات فراہم کی جائینگی۔ سینئر وزیر نے مزید بتایا کہ قبائلی اضلاع میں سپورٹس گالا کی طرح مزید کھیلوں کے مقابلوں کا بھی انعقاد کیا جائیگا۔یہاں کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں انکی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لئے تمام سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائیگی۔محمد عاطف خان نے کہا کہ صوبے میں 1000 گروانڈ بنانے کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لئے بھی اقدامات کئے جائیںگے۔ضم شدہ اضلاع میں آرکیالوجیکل سائیٹس کے لئے سائنٹفک سروے کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں