Daily Mashriq


احتساب وزیر اعظم کا نہیں پوری قوم کا نعرہ ہے

احتساب وزیر اعظم کا نہیں پوری قوم کا نعرہ ہے

نومنتخب وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جذباتی خطاب میں اس امر کا ببانگ دہل اعادہ کیا ہے کہ ملک میں تبدیلی لانے کے لیے سب سے پہلے کڑا احتساب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے لیے سب سے پہلے ہم نے کڑا احتساب کرنا ہے، جنہوں نے ملک و قوم کو لوٹا میں وعدہ کرتا ہوں کہ سب کا احتساب کروں گا، یہ بھی وعدہ ہے کہ کسی ڈاکو کو کسی قسم کا این آر او نہیں ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 22 سال کی جدو جہد کے بعد یہاں پہنچا ہوں، کسی ملٹری نے مجھے یہاں نہیں پہنچایا نہ کسی فوجی آمر نے مجھے پالا ہے۔عمران خان نے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں 28 ہزار ارب روپے کا قرض لیا گیا، لوگوں کی تعلیم کا پیسہ لوٹا گیا، ہم قوم سے پیسہ اکٹھا کریں گے، کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے اور میں ہر مہینے میں دو بار ایوان میں کھڑا ہو کر جواب دوں گا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جن خیالات ' عزائم اور ارادوں کے ساتھ عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں ان پر پورا اترنا محال نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ ہمیں عمران خان کے عزم اور وعدے پر کوئی شبہ نہیں لیکن عملی حقیقت یہ بھی ہے کہ کوئی ہدف مقرر کرکے اسے پا لینے میں کامیابی کبھی کبھی ہی یقینی ہوتی ہے۔ ہدف مقرر کرتے ہوئے عزم اور خلوص کا عنصر کتنا بھی موجود کیوں نہ ہو مگر حالات اور نتیجہ انسان کے بس کی بات نہیں ہوا کرتی۔ عمران خان جن اہداف کے حصول کی سعی میں ہیں ان کے حصول میں سیاسی' مسلکی' بین الاقوامی اور قدرتی حالات اور ماحول کاعمل دخل نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حالات پر ہی منحصر ہوگا کہ کس حد تک کامیابی ان کے حصے میں آتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فی الوقت نو منتخب وزیر اعظم کو دو معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ضرورت ہے حکومت سازی کے بعد حکومت چلانے کے اولین مرحلے میں سیاسی فضا کو ساز گار بنانا تو نہایت چنیدہ قسم کی صورتحال ہوگی۔ قومی اسمبلی سے اپنے انتخاب کے موقع پر حزب اختلاف کی طرف سے ایوان کے اندر انہیں جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کے پیش نظر کسی صورت بھی سیاسی فضا معاون اور مثبت ہونے کی توقع نہیں لیکن اس صورتحال میں بھی حکومتی معاملات کو آگے بڑھانا آسان نہ ہوگا۔ اس مطالبے پر مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سمیت سبھی جماعتیں متفق ہیں کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے مطالبات کے جواب میں مسلم لیگ(ن) نے جس قسم کے غیر لچکدار رویہ کا مظاہرہ کیا تھا تحریک انصاف کی حکومت کے لئے اس کا اعادہ سنگین غلطی ہوگی۔ قبل ازیں خود تحریک انصاف کی قیادت بھی اصولی طور پر ایوان سے باہر اتفاق کرچکی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی سے الزامات کی تحقیقات کرائی جائے خود تحریک انصاف کے قائد بھی بار بار اس کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔ بنا بریں پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ تسلیم کرنے میں بظاہر تو کوئی امر مانع نظر نہیں آتا لیکن بہر حال جب تک ایسا نہیں ہوتا شکوک و شبہات کی فضا اور الزامات کی پرچھائیوں سے حکومت کا نکلنا ممکن نہ ہوگا۔ جہاں تک تحریک انصاف کے سو دنوں کے پروگرام' ایک کروڑ ملازمتوں اور روزگار کے مواقع جیسے وعدوں کے ایفاء کا سوال ہے ان کی تکمیل تحریک انصاف کا کارنامہ ہی گردانا جائے گا جسے مخالفین کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ لیکن ہمارے تئیں سب سے بڑا وعدہ جس کا اعادہ وزیراعظم عمران خان نے ایوان میں پہلی تقریرمیں پورے شد و مد سے کیا وہ بلا امتیاز اور کڑے احتساب کا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے لاکھوں نوجوانوں نے اگر کسی نعرے اور وعدے سے متاثر ہو کر تحریک انصاف سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں وہ ملکی دولت لوٹنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کا ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہوگا جس کا تحریک انصاف کے مخالفین کو بھی انتظار ہے اور اس کا سیاسی اختلاف کے باوجود عوام کی طرف سے دل سے خیر مقدم کیا جائے گا۔ یقینا احتساب کوئی آسان کام نہیں اور ہر حکومت اس کی دعویدار رہی ہے لیکن عملی طور پر اگر احتساب ہوا ہوتا تو شاید آج عمران خان سیاسی طور پر اس مقام پر نہ پہنچتے جس مقام پر آج کھڑے ہیں۔ احتساب کے حوالے سے ضروری امر یہ ہونا چاہئے کہ احتساب بلا امتیاز ہو اور کسی جماعت سے تعلق اور حکومت سے نہ ہو بلکہ جن جن جماعتوں کی صفوں میں قابل احتساب لوگ پائے جائیں ان سے کوئی رعایت نہ کی جائے۔ اس عمل کو شفاف اور قابل قبول بنانے کے لئے تحریک انصاف کی قیادت کو خود اپنی صفوں میں بھی قابل احتساب افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کرکے مثال بنا کر ابتدا کرنی ہوگی۔ احتساب کے لئے ادارے موجود ہیں' قوانین بھی موجود ہیں صرف عزم کی کمی اور عملی طور پر اقدامات کی ضرورت تھی۔ اب یہ کمی بھی پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کے بعد قومی دولت لوٹنے والوں اور ہر قسم کے بدعنوان افراد کے احتساب میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ ہم ایک بار اس امر کا اعادہ کریں گے کہ یقینا کڑے احتساب کاعمل نہ تو سہل ہے اور نہ ہی نا ممکن۔ تحریک انصاف کی حکومت اگر ابتدائی سو دنوں میں ملک میں بلا امتیاز احتساب کا قوم کو یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے تو یقینا عوام اپنے بہت سارے دکھ درد بھول کر بھی اس کامیابی کو کافی سمجھیں گے۔و زیر اعظم عمران خان نے جس ذات مقدس ترین ذات عالیٰ کو گواہ بنا کر کڑے احتساب کی بات کی ہے اس نیک کام میں اس ذات عالیٰ کی مدد اور عوام کی پر خلوص دعائیں یقینا ان کے ساتھ رہیں گی اور کامیابی کی راہیں خود بخودکھلتی جائیں گی۔ اس غریب ملک کو ستر سال تک جس طرح لوٹا گیا ان کے لئے ڈاکو کے لفظ کا استعمال غلط نہیں لیکن ایوان میں کھڑے ہو کر اس لفظ کے استعمال سے گریز کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ الفاظ کا استعمال موزوں اور نرم ضرور ہو لیکن احتساب کے عمل میں ذرا بھی نرمی نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں