Daily Mashriq


جہیز کی لعنت کے خلاف قابل تعریف قدم

جہیز کی لعنت کے خلاف قابل تعریف قدم

بھارت میں ہندو دھرم کی لڑکی نے جہیز کا مطالبے پر ڈولی میں بیٹھنے سے انکار کرکے جہیز کی لعنت کے خلاف جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل توجہ تو ہے ہی قابل تقلید بھی ہے۔ ہندو معاشرے میں جہیز کی رسم کو اب لعنت گردان کر لڑکی ڈولی میں بیٹھنے سے انکار کرتی ہے اور معاملہ پولیس تک چلا جاتا ہے لیکن ہم مسلمان معاشرے میں رہتے ہوئے اور کلمہ گو کہلائے جانے کے باوجود اس لعنت سے دور ہونے کی بجائے اس لعنت کاشکار ہوتے جا رہے ہیں۔ جہیز قانونی طور پر بھی لعنت ہے اور دین اسلام میں بھی اس کی اس طرح سے گنجائش نہیں جس طرح کی ہم تشریح کرتے ہیں۔ بوقت رخصتی لڑکی کو ضرورت کی چند چیزوں کی فراہمی اسوہ حسنہ سے ضرور ثابت ہے اور حسب استطاعت بیٹی کی رخصتی کے وقت تحفہ تحائف یکسر ممنوع نہیں جہاں ہم روز مرہ کے دیگر معاملات میں حدسے تجاوز کے مرتکب ہوئے۔ ہم یہاں بھی اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس کی از روئے شرع گنجائش ہے یا نہیں جہیز طلبی کو باقاعدہ لازمی رسم بنا دیا ہے جس سے استطاعت نہ رکھنے والے غریب والدین قرض لے کر بچیوں کی رخصتی پر مجبور ہیں۔ اس لعنت کی بناء پر لاکھوں بچیاں بابل کی دہلیز پر بیٹھے بیٹھے زندگی گزار دیتی ہیں۔ اس لعنت کے حوالے سے آوازیں تو اٹھتی ہیں لیکن توانا آواز اٹھانے اور اس لعنت کے خلاف جہاد کرنے کے لئے معاشرے کے کرتا دھرتا افراد خاص طور پر علمائے کرام آگے نہیں آتے۔ ہمارے تئیں ہائی سکولوں میں اور ہائیر سیکنڈری کے نصاب میں اس قبیح رسم کے خلاف مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہے اور اساتذہ کو طالب علموں سے بھکاری پن کا مظاہرہ کرنے کی بجائے محنت و مشقت سے گھر بسانے کے اسباب حاصل کرنے کی ترغیب بار بار دینے کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام کو اس لعنت کے حوالے سے خاص طور پر مہم چلانی چاہئے جبکہ جہیز پر پابندی کے قوانین پر پوری طرح عملدرآمد کرائی جائے جبکہ شادی بیاہ کے مواقع پر ون ڈش کی پابندی کے قوانین کا موثر نفاذ ہونا چاہئے۔ جب تک نکاح کو آسان نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک رشتے کے مسائل میں کمی نہیں آئے گی اور معاشرتی بگاڑ میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

خواجہ سرائوں کے قتل کے بڑھتے واقعات کی وجوہات

خواجہ سرائوں کے قتل کے بڑھتے واقعات کا نوٹس لینا اور ان کو تحفظ کی فراہمی کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن فطرتاً کسی سے دشمنی مول نہ لینے کی فطرت رکھنے کے باوجود ان کے قتل کی بڑھتے واقعات کیوں پیش آتے ہیں اس کا جائزہ بھی لینے کی ضرورت ہے۔ باڑہ گیٹ میں جس خواجہ سرا کو بے دردی سے قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے وجہ قتل کے حوالے سے دیاگیا بیان قابل توجہ بھی ہے اور دیکھا جائے تو خواجہ سرائوں کے قتل کے محرکات میں سب سے زیادہ یہی محرک کار فرما ہوتا ہے۔ معاشرے کی خواجہ سرائوں سے ہمدردی اور پولیس پر ان کو تحفظ دینے کی ذمہ داری میں کوتاہی و ناکامی اپنی جگہ لیکن وجوہات قتل میں خواجہ سرائوں کے بھی برابر کے ذمہ دارہونے سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ خواجہ سرائوں کے اڈوں کے باہر کا ماحول اور ان اڈوں میں ہونے والی منشیات فروشی اور جواباً بازی سے کیا صرف اس لئے صرف نظر کیا جائے کہ یہ خواجہ سرائوں کی سرپرستی میں چل رہے ہیں جہاں چھاپے مارنے پر خود پولیس کو لینے کے دینے پڑتے ہیں۔ اگر ان کا تحفظ مطلوب ہے تو پھر ان کو پابند قانون بھی بنانا ہوگا اور ان پر قوانین کا اسی طرح اطلاق کرنا ہوگا جس طرح ہر مرد و عورت پر قانون کی پابندی لازمی ہے۔ پولیس خواجہ سرائوں کو صرف اس وقت ہی تحفظ دے سکتی ہے جب وہ کسی ایسے کام میں ملوث نہ ہوںجو ایسا تنازعہ بنے کہ قتل کی نوبت آئے۔ کوئی بھی قتل بلا وجہ اور بغیر منصوبہ بندی کے نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی کسی انجان مرد و عورت یا خواجہ سراء کا قتل کرتا ہے۔ خواجہ سرائوں کو تحفظ دینے کی بابت اقدامات کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن خود خواجہ سرائوں کو بھی ایسے افعال کا مرتکب نہیں ہونا چاہئے جو باعث اشتعال اور ناقابل برداشت بن جائے اور نوبت قتل تک پہنچ جائے۔

متعلقہ خبریں