Daily Mashriq


کڑے احتساب کا وعدہ

کڑے احتساب کا وعدہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ملک کا وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اعلان کیا ہے کہ کرپٹ لوگوں کا کڑا احتساب ہو گا اور کسی ڈاکو 'ملک کا پیسہ لوٹنے والے کسی فرد کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ان کی انتخابی سیاسی مہم کا مرکزی نقطہ کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ عناصر کا احتساب رہا ہے۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ان کا یہ اعلان فطری شمار کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے پاکستان کے عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی جدوجہد محض اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں تھی بلکہ جو وعدے انہوں نے عوام سے کیے تھے وہ ان پر قائم ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اگرچہ کرپشن کے خاتمے کا پر مسلسل زور دیا تاہم انہوں نے اور بھی وعدے کیے ہیں ۔ ملک کو ترقی ' خوشحالی اور استحکام سے ہم کنار کرنے کا وعدہ ' نوجوانوں کو روز گار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ ' میرٹ کا نظام قائم کرنے کا وعدہ'بے گھروں کو گھر دینے کا وعدہ ' پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے اور خود کفیل بنانے کا وعدہ ' پانی' تعلیم 'صحت کی سہولتیں بہتر بنانے اور انہیں سب کے لیے فراہم کرنے کا وعدہ اور دیگر ایسے ہی بہت سے وعدے جن کے لیے عوام ان کی طرف دیکھتے ہیں اور ان سے بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ اب وہ سارے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ' ان کے بھی جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیے ۔ اس ذمہ داری کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سیاسی مخالف جماعت مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف سے مصافحہ کر کے دیا ہے۔ ان سے پوری امید ہے کہ وہ نہ صرف کرپٹ عناصر کے احتساب کا وعدہ یاد رکھیں گے بلکہ دیگر وعدے بھی یاد رکھیں گے اور ان وعدوں کے علاوہ پاکستان کی ترقی' خوشحالی 'استحکام اور وقار کے جو تقاضے سامنے آئیں گے ان سب پر بھی پورا اتریں گے۔ جہاں تک کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خاتمے اور کرپٹ عناصر کے کڑے احتساب کی بات ہے منتخب وزیر اعظم کے اس موضوع پر زور دینے سے پاکستانی عوام کا حوصلہ بڑھا ہے اور امید قائم ہوئی ہے کہ ملک سے کرپشن ختم ہو گی اور ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر عالمی کمیونٹی میں باوقار مقام حاصل کرے گا۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف کوششیں صرف پاکستان میں نہیں ہو رہیں۔ ساری دنیا میں اس حوالے سے کوشش جاری ہے کیونکہ کرپشن اور منی لانڈرنگ ساری دنیا کی جمہوریتوں کے لیے خطرے کا باعث بن چکی ہے۔ آرگنائزیشن آف اکنامک ڈویلپمنٹ اینڈ کوآپریشن کا قیام دنیا بھر کے ملکوں میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف آگہی کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ سوئس بینکوں کے اپنے اکاؤنٹ ہولڈروں کے کھاتوں کی تفصیل بتانے کا علان اسی آگہی کا نتیجہ ہیں۔ اس عالمی ماحول میں پاکستان کی حکومت کے لیے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کے حوالے سے بہت سی آسانیاں ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ ختم کرنے اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے دعوے مسلم لیگ نواز کی سابق حکومت نے بھی بڑے طمطراق سے کیے تھے۔ میاں شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ان کا پیٹ پھاڑ کر ملک کی لوٹی ہوئی دولت برآمد کریں گے لیکن مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے حکمرانوں اور قائدین کے اثاثے بیرون ملک قائم رہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے عوام نے حالیہ انتخابات میں ان دونوں پارٹیوں کو ملک کی حکمرانی عطا نہیں کی بلکہ تحریک انصاف کو اکثریتی ووٹ دیا ہے جس نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی ۔ عمران خان اکثر یہ کہتے رہے کہ بڑے کرپٹ لوگوں کا احتساب ہو گا تو نچلے درجوں پر کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ان کی اس بات سے مکمل اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ جب سے ملک میں غیر سیاسی بنیادوں پر عام انتخاب ہوا ہے معاشرے میں کرپشن عام ہوتی گئی ۔ ہم نے سو کے نوٹ پر لکھ دیا کہ رزق حلال عین عبادت ہے لیکن اس سے کتنے لوگوں نے سبق حاصل کیا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کرپشن نہ صرف اوپر سے نچلی سطحوں تک آ گئی ہے بلکہ کرپٹ لوگوں کی توقیر کا رواج معاشرے میں عام ہو گیا ہے، اوپر سے نیب کے پلی بارگیننگ کے قانون نے بھی کرپٹ عناصر کی توقیر میں اضافہ کیا ہے۔ اس قدر وسیع پیمانے پر کرپشن کے خاتمہ کے لیے ضروری ہو گا کہ احتساب کے ساتھ ساتھ ملک میں قانون کی عملداری اور احترام کو فروغ دیا جائے۔کرپٹ عناصر کا احتساب اپنی جگہ ملک بھر کے عوام کی آواز ہے تاہم احتساب کا مطلب قانون کی بالادستی ہے اس لیے وہ تمام گنجائشیں لیکن ختم کرنا ہو گی جو عدالتی نظام میں احتساب کے سزاوار لوگوں کو حاصل ہیں۔ پلی بارگینگ کے بارے میں سپریم کورٹ پہلی ہی ریمارکس دے چکی ہے تاہم ایف آئی آر کی کمزوری ' دستاویزات اور شہادتوںکا مضبوط نہ ہونا' گواہوں کے لیے مکرنے کی گنجائش نہ ہونا اور جھوٹی گواہی پر سزا نہ ہونا ' مقدمے کی پیروی میں کمزوری یا تساہل ' وکیلوں کا لمبی لمبی تاریخیں لے لینا اور عدالتوں کا ایسی تاریخیں دے دینا ' یہ اور دیگر ایسے ہی پہلو زیرِ نظر ہونے چاہئیں۔ ایسی گنجائشوں کی روک تھام کے لیے نظام کے اندر جزا اور سزا کا اہتمام ہونا ضروری سمجھا جانا چاہیے۔ ایف آئی آر میں یا مقدمے کی پیروی میں کمزوری قابلِ مواخذہ ہونی چاہیے۔ جن عدالتوں کے فیصلے بڑی عدالتوں میں کالعدم ہو جائیں ان کے سربراہوں کے ریکارڈ میں اس کا اندراج ہونا چاہیے اور یہ قابلِ مواخذہ ہونا چاہیے۔ ناقص تفتیش اور شہادتیں پیش کرنے میں ناکامی پر متعلقہ اہل کاروں کو اگر شریک جرم قرار نہیں دیا جا سکتا تو ان کے مواخذے کی کوئی صورت ہونی چاہیے۔ اس طرح جب کڑا احتساب ہوتا ہوا نظر آئے گا تو اوروں کے لیے باعث عبرت ہو گا۔ احتساب میں قانون کی عملداری واضح نظر آئے گی تو کسی کو یہ مظلومیت اختیار کرنے کا موقع نہیں ملے گا کہ احتساب کے نام پر انتقامی کارروائی کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں