Daily Mashriq


ہالینڈ کی اسلام دشمنی

ہالینڈ کی اسلام دشمنی

ہالینڈ کے اسلام دشمن سیاستدان اور Party for freedom کے راہنما گیرٹ ولڈر نے اپنے پارٹی کے پارلیمانی دفتر میں توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقابلے کے جج امریکہ کے کارٹونسٹ بوش ہوں گے جنہوں نے تین سال پہلے ٹیکساس میں اس قسم کا مقابلہ جیتا تھا۔ گیرٹ ولڈر کا کہنا ہے کہ اسلام مذہب نہیں بلکہ ایک جابر قسم کا سیاسی نظریہ ہے۔ قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو نعوذبااللہ آدھا قرآن پھاڑ کے پھینکنا چاہئے، مسلمانوں سے نفرت کرنا اور حجاب پر ایک ہزار ڈالر ٹیکس لگا کر اس ٹیکس کو عورتوں کی آزادی پر خرچ کرنا چاہئے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ دنیا کے دو ارب مسلمان ہالینڈ کے سیاستدان اور پارٹی فار فریڈم کے لیڈر گیرٹ ولڈر کے اسلام دشمن اقدام پر خاموش ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ پیغمبر کا مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق ہے۔ حضورۖ کا ارشاد ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اپنے ماں باپ، اولاد اور جان سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ اگر حالات اور واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہود، ہندو اور عیسائی اسلام کی حقیقت اور اس کی آفاقیت سے ڈرتے ہیں۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیںکہ اسلام ایک عالمگیر اور مکمل دین ہے اور اب تک قرآن مجید فرقان حمید میں جتنی باتیں کہی گئی ہیں، اکیسویں صدی کے جدید دور میں وہ حق اور سچ ثابت ہوئی ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس دوسرے مذاہب میں وہ بات نہیں جو اسلام میں ہے۔ وہ مذاہب تو اس دور کی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتے تھے اور ان مذاہب میں مستقبل کیلئے کوئی پیش بندی نہیں تھی۔ انسان کی پیدائش سے لیکر، سیاروں ستاروں، چرند، پرند جبکہ کائنات کی کوئی ایسی چھوٹی سی چھوٹی مخفی چیز نہیں جس کا ذکر قرآن میں نہ ہو۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کو پڑھنا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کے دوسرے لوگ اس کو پڑھتے، سمجھتے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اب یہودی، ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ اس بات سے کتراتے ہیں کہ اگر لوگ قرآن کے آفاقی کلام کو سمجھنے لگے تو پھر ہم اپنے پیروکاروں کو کیا بتائیں گے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مسلمان کیلئے قرآن پاک صرف الماری میں رکھنے اور حلف اٹھانے کیلئے رہ گیا۔ جو آگہی اور علم مسلمانوں کو اس قرآن سے لینا چاہئے تھا وہ مسلمان قطعاً نہیں لیتے۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ یہود وہنود قرآن مجید کی توہین کی سعی کر رہے ہیں۔ اگر ہم نائن الیون کے واقعے کو دیکھیں تو اس واقعے کا مطلب مسلمانوں کو رسوا کرنا تھا مگر یہ خوش قسمتی ہے کہ نائن الیون کے بعد غیر مذہب لوگوں نے قرآن کو مزید پڑھنا شروع کیا جس کی وجہ سے غیرمذہب جو ق درجوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اگر امریکہ اور برطانیہ کو اسلام سے ڈر نہ ہوتا تو وہ مسلمان سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک پر پابندی نہ لگاتے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اگر غیر مذہب اسی طرح اسلام کو سمجھنے لگے تو پھر ان کے مذاہب کا کیا ہوگا۔ لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق ہیلری کلنٹن کہتی ہے کہ ''اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا دین ہے'' انسائیکلوپیڈیا بری ٹینیکا کے مطابق ''حضرت محمدۖ تمام انبیاء کرام میں کامیاب ترین پیغمبر ہیں''۔ سی این این کے مطابق ''اسلام امریکہ میں انتہائی تیزی سے پھیلنے والا دین ہے' کسی کو اس کے بارے میں شک وشبہ نہیں کرنا چاہئے''۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کے اناٹومی کے مشہور زمانہ پروفیسر کیتھ مور کہتے ہیںکہ ''حضورۖ کے پاس جتنا بھی علم، عقل اور فہم ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ جس زمانہ میں آقائے نامدار جن چیزوں کا ذکر فرماتے ہیں اس دور میں وہ دریافت نہیں ہوئی تھیں''۔ تھائی لینڈ کے شیانگ مائی یونیورسٹی کے پروفیسر اور یونیورسٹی کے شعبہ طب کے عالمی سطح پر جانی پہچانی شخصیت کہتے ہیں کہ ''قرآن میں صحت اور طب کے بارے میں 1400سال پہلے جو کچھ کہا گیا ہے وہ سائنسی طور پر موجودہ دور میں100فیصد صحیح ہے، حضورۖ نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں جو چیزیں بیان کی ہیں وہ اس کائنات کے خالق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔'' امریکہ کے ناسا کے مشہور پروفیسر آرم سٹرانگ کہتے ہیں کہ ''مجھے بہت حیرت ہوتی ہے کہ قرآن میں اسٹرانومی یعنی سیاروں کے بارے میں 1400سال پہلے جو کچھ کہا گیا ہے وہ دور جدید کے عین مطابق ہیں'' دنیا کے 100مشہور افراد میں شامل مائیکل ایچ کہتے ہیں کہ ''دنیا میں کسی بھی سوسائٹی کے لوگوں کے متحد اور مساویانہ رویوں کو پیدا کرنے میں سب سے بڑا کردار اسلام کا ہے''۔ امریکہ کی سیٹلائٹ فوٹوگرافی اور سمندری علوم کے ماہر ایک سائنسدان پروفیسرHay کہتے ہیں کہ ''1400سال پہلے قرآن میں سمندری علوم کے بارے میں جس سچائی کیساتھ ذکر کیا گیا ہے میری سمجھ سے باہر ہے''۔ کینیڈا کے ایک ماہر اطفال اور اناٹومی کے ماہر جو 200تحقیقی مقالوں اور 25کتابوں کے مصنف ہیں لکھتے ہیں کہ ''1400 سال پہلے ایک انسان نے جو کچھ کہا وہ موجودہ سائنسی دور میں 100فیصد صحیح ہے''۔ جاج برناڈ شاہ کہتے ہیں کہ ''حضرت محمدۖ جن پر قرآن نازل ہوا تھا ہم ان کو انسانیت کو بچانے والا کہہ سکتے ہیں''۔ دنیا میں اسلام کی شرح نمو میں 21فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کے برعکس یہودیت اور عیسائیت میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ عیسائیت میں 33فیصد جبکہ یہودیت میں 4فیصد تک کمی واقع ہوئی۔

متعلقہ خبریں