Daily Mashriq


اصغر خان نہیں عمران خان

اصغر خان نہیں عمران خان

عمران خان کے بائیس سالہ سفر کو آخرکار منزل مل گئی۔ جمعہ کو انہیں وزیراعظم منتخب کر لیا گیا اور ہفتہ کو انہوں نے حلف اٹھا لیا۔ عمران خان کا بائیس سالہ سفر مذاق میں شروع ہوا تھا اور جمے جمائے دوجماعتی نظام نے ان کی سیاست اور نعروں کو ہر ممکن حد تک مذاق بنانے کی کوشش کی تھی۔ ان کی ناکامی کے استعارے کے طور انہیں ایک اور ''ا صغر خان'' کہا جاتا رہا۔ اصغر خان پاکستانی سیاست کا کوئی برا نام اور کردار نہیں تھے کہ جن کے دامن پر بدعنوانی کا کوئی داغ ہو یا کرپشن اور کمیشن کی کوئی داستان ہو۔ پاکستانی سیاست میں وہ ایک اُجلے کردار کے حامل بہادر مگر اڑیل سیاستدان گزرے تھے جنہیں ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں متبادل قیادت کے طورپر اُبھارا گیا تھا۔ ایئر مارشل اصغر خان کا المیہ یہ ہوا کہ وہ اقتدار کی منزل سے چند گام کی دوری پر تھے کہ ملک میں مارشل لاء لگ گیا اور انتخابات کی منزل دور ہوتی چلی گئی۔ بدلتی ہوئی زمینی حقیقتوں میں اصغر خان کی مقبولیت اور قسمت کا چاند گہناتا چلا گیا یہاں تک کہ اقتدار کی منزل تو دور ہو ہی گئی تھی مگر پارٹی کے مرغان بادنما جو اقتدار کی خاطر ان کے گرد جمع تھے ایک ایک کرکے راستے بدلتے چلے گئے۔ ایئرمارشل اصغرخان سے ملاقات کا وقت لینے کیلئے تڑپنے والے، ان کے نعرے بلند کرنے والے سیاسی کارکن ان کی زندگی میں اقتدار کے جھولوں میں جھولتے رہے مگر اصغر خان ایبٹ آباد اور اسلام آباد کی سیرگاہوں اور نجی محفلوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ عمران خان کو جب اصغر خان کا طعنہ دیا جاتا تھا تو اس میں اسی انجام کی پیش گوئی مضمر ہوتی تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان کی ضد، جذباتی پن اور فیصلے بدلنے کی روش انہیں اس سفر کے آخری مرحلے میں اسٹیبلشمنٹ کیلئے ناقابل قبول بنا دے گی اور یوں وہ اقتدار کی منزل سے تھوڑی سی دوری پر ہی ہمیشہ کیلئے دور ہو جائیں گے۔ یہ سوچ ان کے سیاسی مخالفین میں ہی نہیں ملک میں دانشور طبقے تک میں بھی گہری ہو چکی تھی۔ عمران خان قسمت کے دھنی اور آہنی اعصاب کے حامل شخص ثابت ہوئے۔ ان کی مضبوط اعصابی نے انہیں ہر قسم کے حالات میں کھڑا رہنے کا حوصلہ دیا گوکہ ان کی سیاسی معاونت اور حکمت کاری میں کئی دوسرے عوامل وعناصر کا حصہ بھی ہے مگر پاکستان کی سیاست میں اقتدار تک پہنچنے والاہر سیاستدان زندگی کے کسی نہ کسی دور میں اس حکمت کاری اور معاونت سے فیضیاب ہوتا رہا ہے۔ ملک کی ہیئت مقتدرہ میں موجود یہ عناصر کسی زیرو کو ہیرو نہیں بناسکتے۔ اگر کسی شخص اور جماعت میں قدرتی پوٹینشل اور مقبول ہوجانے کی صلاحیت موجود ہو تو یہ عوامل اور عناصر کامیابی سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں بصورت دیگر سب تدبیریں اُلٹی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ عمران خان اور ہیئت مقتدرہ میں تعلق نظریہ ضرورت پر مبنی تھا۔ دوجماعتی نظام کا سحر توڑنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کی مقبولیت سے فائدہ اُٹھانے کی سہولت میسر آئی تو اس کے بدلے عمران خان کو بلاشبہ سیاسی فائدہ بھی حاصل ہوتا رہا۔ نوازشریف اور بینظیر بھٹو کی بھاری بھر کم سیاسی شخصیات کے مقابلے میں میدان میں اترنا اور تادیر جمے رہنا آسان کام نہیں تھا۔

عمران خان اگر حالات سے مایوس ہو کر سیاست کا بھاری پتھر چوم کر چھوڑ جاتے تو اس میں نہ تو کوئی اچنبھا ہوتا اور نہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں زور زبردستی کیساتھ سیاسی میدان میں کھڑا رکھ سکتی تھی۔ انہیں سیاست میں زندہ رہنے کیلئے ان پر جتنے وسائل استعمال ہوئے اس سے کئی گنا زیادہ وسائل انہیں اقتدار تک پہنچنے سے روکنے کیلئے صرف ہوئے اور اسی کا کمال تھا کہ سال ڈیڑھ سال میں رنگ برنگے سکینڈلوں نے ان کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔ وہ ایک کہانی سے دامن چھڑاتے تو دوسری شروع ہوجاتی۔ عمران خان نے بائیس سال کے سیاسی سفر میںخود کو مسٹر کلین، نوجوانوں میں مقبول اور جرأت اظہار کا حامل انتھک سیاستدان ثابت کرکے کامیابی اور معاونت کے باقی اسباب سے فائدہ اُٹھایا اور یوں وہ اصغر خان کی بجائے عمران خان ثابت ہوئے۔ عمران خان کی سیاسی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے سیاست سے لاتعلق نوجوان طبقے کو سیاست میں سرگرم کیا۔ پاکستان میں پہ در پہ لگنے والے مارشل لاؤں نے ملک کو ڈی پولٹیسائز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مارشل لاء چونکہ آمرانہ اور شخصی نظام ہوتا ہے اسلئے اس نظام کی خواہش اور عافیت اسی میں ہوتی ہے کہ لوگ سیاست سے توبہ تائب کرکے کولہو کے بیل کی طرح اپنی ذات میں گھومتے رہیں۔ انہیں ملکی مسائل اور معاملات سے، جمہوریت اور سیاسی شخصیات سے کوئی سروکار نہ رہے۔ عمران خان اس نوجوان طبقے کو جن میں لڑکے ہی نہیں ماڈرن اور تعلیم یافتہ بچیاں بھی شامل تھیں سیاست کے خارزار میں لے آئے۔ انہوں نے اپنی شخصیت کے گلیمر میں انہیں اپنے گرد جمع کئے رکھا۔ یہی طبقہ عوام میں ان کا ہارڈکور اور نیوکلیس ثابت ہوا۔ بعد میں اسی نیوکلئس کے گرد الیکٹیبلز کے نام سے طاقتور جاگیردار، مخدوم اور سرمایہ دار جمع ہوئے جنہوں نے عمران خان کی اقتدار کی منزل کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے بائیس سالہ سیاسی سفر میں عمران خان ایک جنگجو ثابت ہوئے۔ بہرحال اب وہ اپنی آزاد روی، سخت رویوں، خوابوں اور وعدوں سمیت وزیراعظم کی کرسی کی نذر ہیں اور یہ کرسی ان کے حوالے ہے۔ اب ان کے اقدامات، فیصلے اور ان فیصلوںکے اثرات ہی تاریخ میں ان کے مقام کا تعین کریں گے بس اس کیلئے تھوڑا انتظار درکار ہے۔

متعلقہ خبریں