Daily Mashriq


کمزور نظام تعلیم اور نو منتخب وزیر اعظم

کمزور نظام تعلیم اور نو منتخب وزیر اعظم

تحریک انصاف کے چیئرمین اور پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے کے پی میں اپنی پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں اداروں میں اصلاحات پر زور دیا تھا جن میں سرفہرست پولیس کی کارکردگی، ہسپتالوں اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر وہ کریڈٹ بھی لیتے رہے ہیں لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ابھی اس میدان میں بہت کچھ ہونا باقی ہے، اب جبکہ انہیں وفاق اور صوبوں میں حکومت کا موقع ملا ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ نظام تعلیم کو بہتر بنانا ان کی ترجیح اول ہوگی کیونکہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ''آپ تعلیم پر پورا دھیان دیں۔ اپنے آپ کو عمل کیلئے تیار کریں یہ آپ کا پہلا فریضہ ہے۔ ہماری قوم کیلئے تعلیم موت اور زندگی کا مسئلہ ہے''۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے 71برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اسی دوران بیسیوں پالیسیاں بنیں اور مرتب کی گئیں مگر ہمارا تعلیم کا مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے بہت سے ممالک اس میدان میں آج ہم سے بہت آگے ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے دنیا میں 136نمبر پر ہے۔ پاکستان میں58%لوگ پڑھنا اور لکھنا جانتے ہیں جنہیں ہم خواندہ کہتے ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 67لاکھ بچے سکول جانے کی عمر میں سکول جا ہی نہیں پاتے۔ قریب59%بچے ایسے ہیں جو سکول جانے کے کچھ عرصہ بعد مختلف وجوہات کی بنا پر سکول جانا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔فنی تعلیم کا فقدان بھی ہمارے نظام تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا بھر میں ریاست اپنے نوجوانوں کو خودمختار بنانے کیلئے انہیں فنی تعلیم مہیا کرتی ہے۔ اسی ضمن میں فنی تربیتی ادارے قائم کئے جاتے ہیں، کالجز بنائے جاتے ہیں۔ تربیت یافتہ نوجوان خودمختار ہوکر نہ صرف فنی تعلیم اور معاشرے کی بہتری میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے فنی تربیتی کالجز کا فقدان ہے جو کچھ کالجز ہیں وہاں مناسب تربیتی سہولیات موجود نہیں، مناسب لیبارٹریز اور آلات بھی موجود نہیں ہیں۔صنفی فرق یعنی مرد وعورت کی غیر برابری کا نظریہ بھی ہمارے نظام تعلیم کو بہتر ہونے سے روکتا ہے۔ اس کا اندازہ پرائمری سکولوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد کا تناسب 10:4 ہے۔ بہت سے والدین آج بھی لڑکیوں سے غیرامتیازی طور پر ان کے بہت سے بنیادی حقوق چھین لیتے ہیں یا فراہم ہی نہیں کرتے۔ اسی بنا پر بہت سی قابل لڑکیاں اپنی قابلیت کو نکھارنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔غیرتربیت یافتہ اساتذہ بھی ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔ دنیا بھر میں تعلیم میں اول نمبر اور قابل ترین افراد کو معلم کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں تو نظام ہی الٹ ہے۔ جسے کوئی نوکری نہ ملے وہ تعلیم وتربیت کے میدان میں اپنی قسمت آزمائی کرتا ہے اور اپنے جیسے بہت سے کم علم اور کم فہم طلباء کو پروان چڑھاتا ہے جو ہمارے نظام تعلیم کی خرابی اور معیار کی پستی کا باعث بنتے ہیں۔غربت بھی ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔ ملک کی بڑی آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ ایسے میں لوگوں کیلئے تعلیم کا حصول مشکل ہو جاتا ہے اور غریب والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی بجائے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کیلئے بھٹوں اور مکینکوں کے پاس مزدوری کیلئے چھوڑ آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ تعلیم سے محروم ہے۔ناقص امتحانی طریقہ وتشخیص بھی ہمارے تعلیمی اداروں اور امتحانی مراکز کی بڑی خامی ہے۔ دنیا بھر میں طلباء کو تعلیم بوجھ کے تصور سے بالاتر ہو کر بغیر کسی خوف اور سکھانے کے نظرئیے سے دی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں گریڈز اور نمبروں کی دوڑ میں ماں باپ اور اساتذہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے تعلیم کے بوجھ تلے دبے انہیں 90فیصد نتائج تو دے رہے ہیں مگر حقیقت میں سیکھنے کے مرحلے میں انہوں نے 50%بھی نہیں سیکھا۔ دنیا بھر کے تعلیمی میدان میں معمول کا کام روز کروا کر اسی دن اس کام کو پرکھ لیا جاتا ہے اور اسی حساب سے طلباء کو نمبرز اور گریڈز دیئے جاتے ہیں۔ اس طرح طلباء کام کے بوجھ سے بالاتر ہو کر سیکھتے ہیں اور گھر جا کر تعلیمی پریشانی سے آزاد کھیل کود کر اپنی جسمانی نشونما میں بھی بہتری لاتے ہیں مگر ہمارے ہاں تو بچوں کو نمبروں کی دوڑ میں ہفتے کا کام دو دنوں میں کروایا جاتا ہے اور اس کی تشخیص کیلئے مہینوں بعد کوئی امتحان لیا جاتا ہے جس کے باعث طلباء نمبروں کیلئے نقل یا رٹہ سسٹم کا سہارا لیتے ہیں۔پاکستان کے آئین کی شق 25Aکے مطابق ''ریاست 5 سے16سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے مگر یہاں تو سارا نظام ہی الٹ ہے ریاست اپنے دوسرے فرائض کی طرح اس مقدس اور اہم فریضے کو بھی پورا کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ ریاست کی ناکامیوں کے باعث پرائیویٹ تعلیمی ادارے دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے میں مصروف عمل ہیں۔ تعلیم کیلئے مختص کئے گئے فنڈز GDPکا 2% ہوتے ہیں جسے کم ازکمGDPکا7% ہونا چاہئے۔ عمران خان کیلئے اگرچہ بہت سے چیلنجز منہ کھولے کھڑے ہیں لیکن تعلیمی چیلنج کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں