Daily Mashriq


انسانی ہمدردی کا عالمی دن

انسانی ہمدردی کا عالمی دن

آج19اگست کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہاہے۔ ایک انسان کا دوسرے انسان کے دکھ درد بانٹنے کا دن۔ ایک دوسرے کے کام آنے کا دن۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا دن۔ اسی کو انسانیت کہتے ہیں۔ یہی انسان دوستی ہے۔ یہی تعلیم ہمارا پیارا مذہب ہمارا دین اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا معیار متقی اور پرہیز گزار ہونا ہے۔ یہ تعلیمات ہمیں محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیۖ نے خطبہ حجة الوداع کے دوران اسلام کے نام لیوا کو دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ متقی اور پرہیز گزار ہونے کیلئے ان کو کونسی راہوں پر چلنے کی ضرورت ہے۔ رنگ نسل زبان مقام سب کچھ ہیچ ہیں نیکی کی راہ پر چلنے یا متقی اور پرہیز گزار بننے کیلئے۔ اب ہم نے متقی اور پرہیز گزار کی تعریف کرتے وقت اس نکتہ پر غور کرنا ہوگا کہ اس کے دل میں انسان اور انسانیت کا درد بھی موجود ہے یا نہیں۔ وہ انسانی ہمدردی کو اپنا جز وایمان بناتا ہے یا نہیں اگر وہ ان خواص سے عاری ہے تو مجھے کہنے دیجئے کہ اسے اپنے آپ کو متقی اور پرہیز گزار تو کیا اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے کا بھی کوئی حق نہیں پہنچتا۔ گویا ایک اچھے مسلمان ہونے یا اچھا مسلمان کہلوانے سے پہلے اسے اچھا انسان بننا ہوگا۔ اسے اپنے دل میں انسانی ہمدردی اور انسانیت سے پیار کے جذبات کو پروان چڑھانا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اسے مسلمان کہلوانے کے پہلے ہی درجے میں اپنے کردار کی تعمیر میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہت نایاب ہوتے ہیں ایسے لوگ جنہیں صحیح معنوں میں انسان کہا جاسکے۔

سرائے زیست کا عالم بڑا سنسان ملتا ہے

بڑی مشکل ہے مشکل سے کوئی انسان ملتا ہے

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ مخلوق خدا کی اس دنیا میں انسانیت کا درد رکھنے والے یا انسان کہلوانے والے لوگ موجود ہی نہیں۔ خالق کن فیکون نے اپنے ہر بندے کو انسان اور انسانیت کا دکھ سکھ بانٹنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھیں کروبیاں

شاعر مشرق دانائے راز نے یہ بات ایسے ہی نہیں کہہ دی۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ فرشتوں اور انسانوں کے درمیان فرق پیدا کرنے والی یا حد فاصل کھینچنے والی لکیر انسانوں کے دل میں انسانیت کے درد کی موجودگی ہے۔ انسانیت سے محبت کے اسی معیار کو ہم انسانی ہمدردی کا نام دیتے ہیں۔تصوف کی اصطلاحات میں عارف اور سالک کے درجات مومن مسلمان کے ایسے مدارج ہیں جہاں پہنچنے والوں کو صاحبان قلب ونظر پہنچے ہوئے ولیوں اور بزرگوں کے منصب پر فائز دیکھتے ہیں۔ وہ اصحاب کشف کرامات بن جاتے ہیں مگر ان سب مدارج کو طے کرنے کیلئے انسان کا مسلمان ہونا ضروری ہے اور اس کے مسلمان ہونے کیلئے اس کا انسان ہونا بہت ضروری ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں انسانیت کا درد نہیں، جو بے گناہوں کے قتل وغارت کے کلچر کو فروغ دیتے ہیں، جو کسی کو محض اس لئے اذیت پہنچاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں تو آپ یقین کریں وہ نبی رحمت کے بتائے ہوئے راستے پر نہیں چل رہے۔ آپ سارے جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپ اس دنیائے آب وگل میں تشریف لانے سے پہلے بھی رحمت اللعالمین اور محسن انسانیت تھے اور جب بھیجے گئے تب بھی تمام جہانوں کے لوگوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے ہمیں انسانیت سے محبت اور انسانی ہمدردی کے جو درس دئیے آج اہالیان مغرب انسانی ہمدردی کا عالمی دن منا کر آقائے نامدار کی تعلیمات کی تجدیدکرنا چاہتے ہیں لیکن افسوس کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے ان دعویداروں کو سلگتے کشمیر میں برپا کئے جانے والا انسانیت سوز ظلم وستم کیوں نظر نہیں آتا۔ فلسطین کے بیگناہ مسلمانوں سے ان کی آزادی اور امن وسکون چھنتا کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ چہروں پر منصفین اور انسانی حقوق کے تحفظ کی دعویداری کے ماسک یا خول سجانے والوں کو دنیا کے ہر کونے سے غربت اور ناداری ختم کرنا ہوگی۔ ان لوگوں کو جینے کا حق دینا ہوگا جن کے حقوق اقتدار کے حریص چھین کر ان کے نادار وناتواں وجود کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا کرتے ہیں اور پھر انسانی ہمدردی کا عالمی دن منا کر اپنے چہروں پر لگی ملامتی کے وہ داغ دھونے لگتے ہیں جو گزرے کل کی تاریخ اور عہد حاضر کے سچ اور صرف سچ بولنے والے آئینے میں بدنما داغ بن کر نظر آرہے ہیں۔ ہم من حیث القوم مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندے ہیں۔ ہم کو بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے وہ فرمودات یا رہنے چاہئیں جو انہوں نے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد ارشاد فرمائے تھے۔ انہوں نے حصول آزادی کے فوراً بعد کی جانے والی اپنی بے بدل تقریر میں کہا تھا کہ اب آپ سب آزاد ہیں۔ آپ مسجدوں مندروں اور گرجا گھروں میں جہاں چاہیں جاکر نہایت آزادی سے اپنی عبادات ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی یہ تقریر اس مرد مومن کی تقریر تھی جو ارتقا کی ان منزلوں پر فائز تھا جن کو آزاد مملکت پاکستان میں صرف مسلمان ہی نظر نہیں آرہے تھے ہر نسل مقام اور مذہب کے لوگ غرض پوری انسانیت کے نمائندے اس ملک میں موجود تھے اور ان سے ہمدردی کرنے کا پیغام بانی پاکستان پوری قوم کو دے رہے تھے۔

متعلقہ خبریں