Daily Mashriq

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کامیاب سفارت کاری

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کامیاب سفارت کاری

مقبوضہ وادی میں 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد آج 14روز ہو گئے ہیں ‘ ڈیڑھ کروڑ نہتے کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ‘ بھارت نے کھلی جارحیت کرتے ہوئے 9لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں‘ 14روز کے مسلسل کرفیو اور ذرائع ابلاغ کی بندش سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے ۔ قابض بھارتی افواج نے کشمیریوںکو نماز جمعہ کی ادائیگی کی بھی اجازت نہ دی‘کرفیو کے ان ایام میں کھانے پینے کی اشیاء اور جان بچانے والی ادویات کی قلت پیداہو گئی ہے‘ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے‘ بھارتی افواج نے سخت کرفیو کو برقرار رکھنے کیلئے مقبوضہ وادی کے اطراف میں بڑی تعداد میں افواج اور پولیس اہلکار تعینات کررکھے ہیں جس سے مقبوضہ وادی اہل کشمیر کیلئے اندھا کنواں ثابت ہو رہی ہے، جہاں اہل کشمیر بند ہیں اور ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے پر مجبور ہیں۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کھلی جارحیت‘ 9لاکھ آرمی اور آر ایس ایس کے بلوائیوں کی موجودگی کے باوجود پاکستان مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہا ہے‘ پاکستان کی طرف سے بار بار امن کی خواہش اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کو خطے کا امن عزیز ہے ‘ پاکستان خطے کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے بھارت کی درندگی اور کھلی جارحیت کے جواب میں مذاکرات اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ یہ پاکستان کی سیاسی و عسکری کامیابی ہے کہ 50 سال کے بعد مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کے زیر بحث آیا جہاں پاکستان کے ہمسایہ اور دیرینہ دوست ملک چین نے کھل کر پاکستان کی حمایت اور مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدام کی مخالفت کی‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں اور دنیا کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم سے آگاہ ہو رہی ہے‘ تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ جس انداز میں پیش کیا ہے کہ ’’انسانی حقوق کا معاملہ دو طرفہ نہیں بلکہ یہ ضمیر کی آواز ہے ۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کو فوری طور پر کشمیر میں بھارتی افواج اور پولیس کی جانب سے سخت پابندیاں اور کرفیو کو ختم کرانا چاہیے‘ انسانی حقوق کے ضمن میں دنیا کی خاموشی پر سوالیہ نشان اٹھائے جائیں گے۔ گزشتہ 14ایام میں بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اس کا بنیادی مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ کشیدگی کو ختم کر کے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل تلاش کیا جائے لیکن پاکستان کی تمام تر امن کی کوششوں کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہا‘ پاکستانی حکام کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کیخلاف جارحیت کر سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستانی قیادت نے بھارت کی ممکنہ کارروائی سے متعلق بین الاقوامی برادری کو آگاہ کر دیا ہے تاہم پاکستان نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ پاکستان مکمل طور پربھارتی جارحیت سے نمٹنے کیلئے تیار ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی کہ پاکستان نے آرٹیکل 370کو کبھی بھی اہمیت نہیں دی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو مستقل حل ہونا چاہیے جس کا بھارت سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پابند ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت پلوامہ جیسی نام نہاد کارروائی کر سکتا ہے تاکہ اُسے جواز بناتے ہوئے وہ پاکستان پر مہم جوئی کرے‘ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان کو روح تک سمجھنے کی ضرورت ہے ’’پلوامہ جیسے حملے پاکستان اور کشمیر کیساتھ غداری ہو گی کیونکہ پاکستان اس سطح پر ایسے حملوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان نے بہترین سفارت کاری کی ہے جس میں بظاہر پاکستان کی جانب سے روایتی مذمت دکھائی دے رہی ہے لیکن پوری دنیا پاکستان اور اہل کشمیر کیساتھ کھڑی ہو گئی ہے۔ دنیا پر عیاں ہو چکا ہے کہ بھارت کشمیر میں طاقت کے زور پر ریاستی دہشت گردی کر کے نہتے کشمیریوں کے حقوق پامال کر رہا ہے ‘ لندن میں بھارتی سفارت خانے کے آس پاس کا پورا علاقہ لوگوں سے بھر جانا اور بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے نعرے لگانا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے‘ کشمیر میں انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ پر پابندی کی وجہ سے دنیا کشمیریوں کے مؤقف سے آگاہ نہیںہو پا رہی تھی‘ لیکن لندن میں بین الاقوامی آزاد میڈیا نے کشمیریوں کی آواز پوری دنیا میں پہنچادی ہے‘ یہ پرامن احتجاج یقیناً بہترین سفارت کاری کاہی نتیجہ ہے اب جبکہ برسوں بعد اس سفارت کاری کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت آیا ہے تو ہماری جانب سے کوئی ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے کہ جس سے بھارتی مؤقف کو تقویت ملتی ہو یا مسئلہ کشمیر حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہو جائے۔

متعلقہ خبریں