Daily Mashriq

صحت سہولت پروگرام کا اجراء

صحت سہولت پروگرام کا اجراء

وزیر اعظم عمران خان نے خصوصی افراد کیلئے صحت سہولت پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر درست کہا ہے کہ غریب کی سب سے بڑی پریشانی مہنگا علاج ہے بالخصوص جب وہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس ضمن میں کہا ہے کہ ہم نے ایک ایک چیز پر تفصیل سے کام کیا ہے ‘ غریب گھرانے میں جب بیماری آتی ہے تو سارے گھر کا بجٹ تباہ کر دیتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے 25سے 40فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کیلئے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا جو کہ احسن امر ہے جس کی ہر سطح پر تحسین کی جانی چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ’’احساس‘‘ کے نام سے غربت مٹاؤ پروگرام کا بھی آغاز کیا جس کے تحت طالب علموں کو گرانٹ ‘ خواتین کی بہبود ‘ مزدوروں اورکسانوں کیلئے آسان شرائط پر قرض دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان کے غریب عوام کی فلاح کیلئے اُٹھایا جانے والا ہر اقدام قابلِ ستائش ہے تاہم حکومت کیلئے یہ امر غور طلب ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنے انتخابی نعروں کے برعکس اپنا پہلا باقاعدہ پروگرام لانے میں ایک سال کا وقت لگا دیا‘ جس پر عمل درآمد ہوتے ہوتے مزید وقت درکار ہو گا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومتی سطح پر منصوبہ سازی کا فقدان ہے۔ آج پاکستان جن مسائل سے دوچار ہے اور جس پیمانے پرادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے‘ اس تناظر میں دیکھا جائے تو برق رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے‘ دن رات کی محنت شاقہ سے ہی ہم بحرانوں سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ شفافیت کیساتھ ساتھ منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے بھی ٹھوس میکنزم بنائیں کیونکہ کاغذات کی حد تک تو ماضی میں بھی متعدد منصوبوں کا آغاز کیا گیا لیکن ان منصوبوں سے عوام مستفید نہ ہو سکے۔

ایف بی آر کا اسمگل شدہ مال کی روک تھام کیلئے اقدام

اسمگل شدہ اشیاء کی روک تھام اور ان کیخلاف کریک ڈاؤن میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ان کی خصوصی مشترکہ ٹیمیں ملک کے تمام بڑے شہروں کے کاروباری علاقوں کا دورہ کر کے بڑے ریٹیلرز سے ان کے پاس فروخت کیلئے دستیاب اشیاء کی درآمدی دستاویزات دیکھیں گی۔ ایف بی آر چیئرمین شبر زیدی کے مطابق اس کریک ڈاؤن کا آغاز یکم ستمبر سے ہو گا۔ کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت ایف بی آر کے پاس درآمدی دستاویزات طلب کرنے کا اختیار موجود ہے۔ واضح رہے کہ مقامی مارکیٹوں میںغیر ظاہرشدہ درآمدی اشیاء کی بھرمار ہے جسے پاکستان کی بندرگاہوں سے کسٹمز حکام کی ملی بھگت سے کلیئر کروایا جاتا ہے ‘ اس کے علاوہ ایران اور افغانستان سے بھی کئی اشیاء اسمگل کی جاتی ہیں۔ اسمگل شدہ سامان کی روک تھام کیلئے ایف بی آر کے اس اقدام سے مثبت پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے تاہم ایف بی آر کو کسٹمز کے ان افسران کیخلاف بھی کارروائی عمل میں لانی چاہیے کہ جن کی ملی بھگت سے اسمگل شدہ مال کلیئر ہو کر مارکیٹوں تک پہنچتا ہے‘ اگر ایف بی آر نے کسٹمز حکام کیخلاف ٹھوس کارروائی نہ کی تو ہرکچھ عرصہ کے بعد اسمگل شدہ مال بندرگاہوں سے کلیئر ہو کر مارکیٹوں تک پہنچتا رہے گا ‘ کسٹمز حکام کیخلاف کارروائی ہی اس مسئلے کا ٹھوس حل ہے کیونکہ جب تاجروں کو معلوم ہو گا کہ بندرگاہوں پر انہیں کلیئرنس نہیں ملے گی اور ان کا لاکھوں کروڑوںکا مال بندرگاہوں پر ہی پڑے رہے گا تو تجارت کیلئے قانونی اور دستاویزی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

صوبائی حکومت کے صنعتی ترقی کیلئے اقدامات

کسی بھی خطے کی ترقی کااندازہ اس کی صنعتی ترقی سے لگایا جاتا ہے کیونکہ صنعتی ترقی سے معاشی استحکام کیساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں‘ اس لئے مقامی حکومتیں صنعتی زونزکو فعال بنانے کیلئے سہولیات کی فراہمی سے لیکر تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے سمیت ہر طرح کے اقدامات اُٹھاتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے حطار ‘ رشکئی اور بونیر اکنامک زونز سمیت ماربل انڈسٹری کو جلد فعال بنانے کی ہدایت کی ہے،وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تحسین کی جانی چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ وزیر اعلیٰ نے اکنامک زونز کو فعال بنانے سمیت جن سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی ہے جلد از جلد اسے عملی جامہ پہنچایا جائے گا ۔ اس اقدام سے خیبر پختونخوا کے عوام کو بہتر روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ‘ صوبے کی معیشت مستحکم ہو گی اور محاصل میں اضافہ سے صوبہ اپنے وسائل میںخود کفیل ہو جائے گا۔ صوبے میں صنعت کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے ضروری ہے کہ تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کیساتھ ساتھ روڈز اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر و بحالی یقینی بنائی جائے کیونکہ ان سہولیات کی فراہمی کے بغیر صنعتی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو گا۔

متعلقہ خبریں