Daily Mashriq

شملہ کے قبرستان سے نیویارک کے ایوان تک

شملہ کے قبرستان سے نیویارک کے ایوان تک

مسئلہ کشمیر پر بحث کا آغاز ہی اقوام متحدہ کے عالمی ایوان سے ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت کشمیر کی زمین پر جنگ لڑ رہے تھے اور بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو جنگ بندی کی درخواست لئے عالمی ایوان میں پہنچے۔ اس درخواست پر غور کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے دونوں فریقوں کو سننے کا فیصلہ کیا۔ اس بحث کی کئی جہتیں کھلتی اور کئی پرتیں بنتی چلی گئیں۔ طویل بحث ومباحثے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کئی قراردادیں منظور کر کے ان پر عمل درآمد کے امکانات اور اسباب کے حوالے سے ایک کمیشن بنا کر معاملے سے الگ ہوئی۔ ان قراردادوں پر عمل درآمد کی نوبت نہ آسکی یہاں تک کہ 1965میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال پر بحث کی اور سوویت قیادت کو جو بھارت کیساتھ قریبی تعلقات رکھتی تھی حالات کو معمول پر لانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ماسکو سے واشنگٹن تک کئی ممالک اس جنگ کو ختم کرنے کیلئے سرگرم ہوئے اور اس دور کے سوویت یونین کے شہر تاشقند میں سوویت قیادت کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کی قیادتوں جنرل ایوب خان اور لال بہادر شاستری کو ایک میز کے گرد بٹھا کر معاہدہ کرایا گیا جسے تاشقند معاہدے کا نام دیا گیا۔ یہ تنازعہ کشمیر کے عالمی ایوان سے بتدریج کھسک کر باہر آنے کا نکتۂ آغاز تھا۔ عالمی ادارہ غائب تھا اور اس کی جگہ سوویت یونین ثالث کے طور پر موجود پردے کے پیچھے موجود تھا۔ 1971میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی اور دونوں کے درمیان ایک اور معاہدے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔ اس بار سوویت یونین کی طرح تیسرے فریق اور ثالث کا وجود پوشیدہ ہی رکھا گیا ہے۔ یہ بات تو طے تھی کہ دونوں ملکوں کو میز پر بٹھانے کیلئے کئی کردار سرگرم تھے مگر تاشقند معاہدے کے برعکس کوئی بھی کھل کر آگے آنے کو تیار نہ تھا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھارت کے شہر شملہ گئے اور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کیساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر آئے جسے شملہ معاہدہ کہا گیا۔ یہ مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو مرحلہ وار طور پر دو ملکوں کے علاقائی تنازعے تک پہنچانے کی سوچی سمجھی سکیم کا حصہ تھا۔ شملہ معاہدے میں بہت سی اصطلاحات تھیں اور مندرجات ایسے تھے جو تنازعے کی نوعیت کو کسی حد تک تبدیل تو کر رہے تھے مثلاً سیزفائر لائن کو کنٹرول لائن قرار دینا وغیرہ مگر اس میں کہیں یہ شق موجود نہیں تھی کہ اس معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی قراردادیں فسخ قرار پائیں گی۔ معاہدے میں طے پایا کہ جموں وکشمیر کی لائن آف کنٹرول پر دونوں فریق ایک دوسرے کی تسلیم شدہ پوزیشن کا احترام کریں گے۔ کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کرے گا۔ بلالحاظ باہمی اختلاف اور قانونی وضاحتوں کے دونوں فریق اس لائن کی خلاف ورزی کیلئے دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے اجتناب کریں گے۔ شملہ معاہدے کے بعد بھارت نے پاکستان سے مسئلہ کشمیر پر کارکردگی دکھانے سے بڑھ کر فقط زبانی کلامی کردار ادا کرنے کا حق بھی چھین لیا۔ جب بھی پاکستان نے کسی بیرونی فورم پر لفظ کشمیر لب پر لانے کی کوشش کی بھارت نے اسے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیکر ٹوک دیا اور یوں پاکستان احساس مروت اور معاہدے کے احترام میں بات ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوتا رہا۔ یوں بھارت نے اس معاہدے کو کشمیر کے حوالے سے لبوں کے تالے اور پیروں کی زنجیر کے طور پر استعمال کیا۔ یہاں تک کہ 1988میں کشمیر میں ایک عوامی اور داخلی مزاحمت کا آغاز ہوگیا۔ گویاکہ تنازعے کے اصل فریق نے انگڑائی لیکر اپنے لئے خود راہ عمل متعین کرنے کا فیصلہ کردیا۔ وادی میںشروع ہونے والی مزاحمت حقیقت میں شملہ معاہدے کی قید سے خلاصی کا اعلان واظہار تھی۔ اس مزاحمت نے کشمیریوں سے زیادہ پاکستان کو اس شملہ معاہدے کی قید سے آزاد کرا دیا۔ ظاہر ہے جس فریق پر معاہدے کا اطلاق ہونا تھا وہی معاہدے کے چیتھڑے اُڑا رہا تھا تو ایسے میں کوئی دوسرا معاہدے کے احترام کی دہائی تو دے سکتا تھا مگر اس پر عمل کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا تھا۔ نریندر مودی نے بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35A ختم کرکے شملہ معاہدے کے تعفن زدہ مردے کے کفن دفن کا سامان کر دیا۔ شملہ معاہدے میں جس مسئلہ کشمیر کو ’’دوطرفہ‘‘ مسئلہ جیسی اصطلاحات کا کفن پہنا کر مزید ’’بات چیت‘‘ کے وعدۂ فردا کے تابوت میں بند کرکے شملہ کے قبرستان میں تزک واحتشام کیساتھ دفن کر دیا تھا، اڑتالیس سال بعد اسی مسئلہ کشمیر کی چیخیں نیویارک کے عالمی ایوان میں سنی گئیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان بند کمرے میں سہی مگر اس مسئلے کی سنگینی پر بات کرکے ’’اٹوٹ انگ‘‘ ’’داخلی مسئلہ‘‘ ’’اپنے لوگ‘‘ جیسے بھارتی دعوؤں کی نفی کر رہے تھے۔ وزیرخارجہ شاہ محمو قریشی نے اقوام متحدہ کی صدر کے نام ایک خط میں لکھا کہ بھارت اپنے آئین کی دفعات ختم کرکے مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے جس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ خط میں بھارتی فوج کی طرف سے عام آبادی کیخلاف کلسٹر بم جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا نوٹس لینے کی بات بھی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی صدر نے شاہ محمود قریشی کے خط کیساتھ اقوام متحدہ کی مبصرین سے رپورٹ بھی طلب کی اور اس پر بحث کیلئے ایک دن مقرر کیا۔ عوامی جمہوریہ چین کے مندوب نے پانچ رکنی فورم پر پاکستان کے وکیل کا کردار ادا کیا۔ بھارت نے ہر ممکن طریقے سے کوشش کی کہ یہ معاملہ اس عالمی ایوان میں زیربحث ہی نہ آئے۔ اس کیلئے رکن ممالک کو دھونس اور ترغیب بھی دی گئی مگر وہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو زیربحث آنے سے نہ روک سکا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر بھارت کا داخلی نہیں بلکہ عالمی طور پر مسلمہ مسئلہ ہے۔ یوں مسئلہ کشمیر دوبارہ علاقائی کی بجائے ایک عالمی رخ اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں