Daily Mashriq

ڈیپ فریزر کی نعمت متبرکہ

ڈیپ فریزر کی نعمت متبرکہ

عیدالاضحی کے پانچویں روز ہمارے دیرینہ دوست جلالی باوا، جو عید پر ہم سے شرف ملاقات سے بے بہرہ ومحروم رہ گئے تھے، ہمیں اپنی چوڑی وکشادہ چھاتی اور گندھی ہوئی توند سے مِلاتے، بلکہ مَلتے مَلاتے ہوئے، اپنی رفتہ وگزشتہ جوانی اور عید قرباں میں کھائی جانے والی مرغن غذاؤں کی اضافی طاقت (قوت کا لفظ شاید زیادہ موزوں ہو) کے بل بوتے پر ہم سے ملتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’جناب گزری ہوئی عید مبارک ہو‘‘۔ ہم ان کے اس نیم تشددآمیز معانقے پر چیں بہ جبیں تو ہوئے ہی ساتھ ہی ایک چِیں کی غیرارادی آواز بھی حلق سے جب برآمد ہوئی تو ہم اپنے اس جارحانہ دوست سے اپنی چِیں والی خفت مٹانے کیلئے یوں گویا ہوئے کہ ’’قبلہ جلالی باوا! قربانی والی عید کہاں باسی ہوتی ہے۔ اللہ بھلا کرے جاپانیوں کا اور اب چینیوں کا اور بالخصوص پاکستان میں سمگلنگ کی اشیاء ’’بہم‘‘ پہنچانے والوں کا کہ ان کی بدولت گھر گھر میں فرج اور ڈیپ فریزر آگئے ہیں، خوشحالی ہی خوشحالی ہے اور راوی چَین ہی چین لکھتا ہے‘‘ ایک بہت ہی ٹیکنیکل موضوع پر ہماری جلالی باوا سے توتو میں میں ہوگئی کہ جب انہوں نے ہمیں اپنے گھر بڑے گوشت کے پسندے کھلانے کی دعوت دے ڈالی، عام دنوں میں یہ دعوت ایک عیاشی ہوتی ہے لیکن عید کے پانچویں دن یہ دعوت کسی پیغور سے کہاں کم تھی۔ ہم نے غصے میں کہا کہ قبلہ ہمارا گھر قریب ہے سو آپ کو ہمارے ساتھ چل کر مٹن کے کباب کھانے چاہئیں، ہمارے دوست بھی بڑے غیرت مند واقع ہوئے ہیں (غیرت مند ہونے اور واقع ہونے میں فرق ملحوظ خاطر رہے) انہیں بھی ہماری طرح اس بات پر غصہ آیا، اپنی توہین ان سے بھی برداشت نہ ہوئی لیکن اخلاقاً چپ اس وجہ سے رہ گئے کہ ہم نے عید سے ایک ہفتہ پہلے انہیں مارکیٹ میں سب سے گہرا ڈیپ فریزر قسطوں میں اپنی ضمانت پر دلوایا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ جلالی باوا کی معاشی حیثیت مشکوک تھی بلکہ عید سے پہلے مارکیٹ میں ڈیپ فریزر کی ’’لوڈشیڈنگ‘‘ چل رہی تھی، گویا ڈیپ فریزر مارکیٹ سے ’’مترا‘‘ ہی ہوگئے تھے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے ایک پڑوسی کا جو ایک الیکٹرانک کی دکان پر سیلزمین ہیں، انہیں ہمارا ایک احسان یاد رہ گیا تھا سو انہوں نے ہمیں ایک ڈیپ فریزر دلوا کر احسان کا بدلہ چکا ہی دیا۔ احسان بھی کیا تھا ایک دن ان کا ایک کبوتر ہماری منڈیر پر آگیا تھا ہم ابھی اسے روسٹ کرنے کے ارادے سے حلال کرنے ہی والے تھے کہ ہمیں ان دنوں چلنے والی برڈفلو کی وباء کے خوف نے آجکڑا، یوں ہم نے وہ کبوتر اپنے اس ہمسائے کو واپس کر دیا اور اس ہمسائے کے اگلے پچھلے سارے کبوتروں کی گمشدگی کے اپنے حوالے سے سارے شکوک وشبہات بھی زائل کر دئیے۔ خیر یہ تو مقطع میں سخن ’’کبوترانہ‘‘ بات آگئی تھی، بات ہورہی تھی ہماری اپنے دوست کیساتھ ہونے والی توتو میں میں کی۔ بیچ سڑک پر ہم ایک دوسرے کو اپنے اپنے گھر لے جانے کیلئے کھینچا تانی میں مصروف تھے کہ ہمارے ایک شاعر اور مشترکہ دوست درمیان میں کود پڑے اور اس بات پر ہمارا راضی نامہ کروا دیا کہ دونوں کو نمبر نمبر پر ایک دوسرے کی ضیافت کرنی ہوگی، ہمارا دوسرا نمبر لگا، جلالی باوا کا تیسرا جبکہ ہمارے شاعر ومُصنف دوست کو خوش قسمتی سے پہلا نمبر مل گیا اور یوں ہم نے اس شاعر دوست کی انہتر انہتر اشعار کی اڑھائی سہ غزلوں، سلاد، چٹنی کیساتھ زعفرانی کباب کھائے، کولڈ ڈرنک کا اضافی خرچہ ہم نے اور جلالی باوا نے ملکر برداشت کیا اور یوں بیچ چوراہے میں ایک شاعر دوست کی وجہ سے فساد کرتے کرتے بچے۔ شاعروں کی امن پسندی کے تو ہم قائل تھے ہی، اس واقعے کے بعد اپنے دوست کی شاعری کی بھی قدر اس انداز سے کرنے لگے ہیںکہ خود اپنے شاعر نہ ہونے پر کچھ کچھ افسوس سا ہونے لگا ہے۔ جلالی باوا، اب بھی مصر ہیں کہ گزرا ہوا زمانہ اچھا تھا۔ بھئی کیسے اچھا تھا؟ تو فرماتے ہیں کہ قربانی کے بعد گوشت کو تین حصوں میں بانٹنا، ٹوکرے میں دوستوں رشتہ داروں کیلئے ان کے بخروں کی بھاجیاں ڈالنا، گھر گھر ان گوشت کی بھاجیوں کو پہنچانا، رشتہ داروں سے ملنا ملانا، دوچار روز میں گوشت سے ’’مکھتی‘‘ حاصل کرلینا۔ گوشت کا زیادہ حصہ غرباء ومساکین کو ملنا وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے پوچھا یہ کیا بڑی بات ہوئی؟ بولے کہ اب ذبیحہ کے بعد جوان موبائل فون سے عید مبارک کے میسج فارورڈ کرتے رہتے ہیں یا فیس بک فیس بک کھیلنے میں مشغول رہتے ہیں۔ گوشت فریزر اور فرج کے سردخانوں کی نذر، اس زمانے میں نہ فریزر نہ فریج کا مسئلہ، نہ حرص نہ لالچ، غریبوں کو ملنے والا گوشت رسیوں پر ڈال کر سُکھا دیاجاتا، اب گوشت کون سُکھائے، تازہ بہ تازہ فریزر سے نکالو، خود بھی کھاؤ، دوستوںکو بھی کھلاؤ۔ ہم نے کہا جب اگلے زمانے کو یاد کرتے ہو تو زمین دوز گہرائیوں والا فریزر کیوں خریدا، تو بولے کہ خانگی مسائل نہ ڈسکس کئے جائیں تو دوستی برقرار رہنے کے امکانات قائم رہتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ ہمارے رویوں میں حرص کیوں بڑھ گئی ہے۔ بولے کہ مادہ پرستی ہمارے خون کا حصہ بن چکی ہے سو یہ حرص اس کا سائیڈ افیکٹ ہے۔ جلالی باوا کا کمال یہ ہے کہ بے وقوفی کی باتیں پوری سنجیدگی اور سنجیدہ باتیں انتہائی غیرسنجیدگی کیساتھ کرتے ہیں۔ ہم نے ان سے کہا گوشت کو کم ازکم چالیس ڈگری فارن ہائیٹ پر فریزر میں دو یا زیادہ سے زیادہ چار دن تک رکھا جاسکتا ہے کیونکہ گوشت میں بیکٹیریاز اپنا عمل کرتے رہتے ہیں،(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں