Daily Mashriq

کیا ہم کامیاب ہوگئے؟

کیا ہم کامیاب ہوگئے؟

ہم جاگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اسی لئے بھارت پریشان ہے لیکن کیاہمارا جاگا ہوا ہونا اتنا پریشان کن ثابت ہو بھی سکتا ہے! کئی سوال ہیں جو ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔ تانے بانے ہیں جو بن رہے ہیں‘ اُلجھ رہے ہیں اور لگتا ہے کہ یہ اُلجھائو بڑھتا چلا جائے گا۔ اس خطے سے صرف خطے کے باسیوں کا ہی مفاد وابستہ نہیں کئی دوسرے ممالک کے بھی مفادات وابستہ ہیں۔ ہم جانتے ہیں‘ دیکھ سکتے ہیں کہ بھارت ایک عرصے سے اس علاقے میں اپنے قدم مضبوط کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ایران اور افغانستان کیساتھ تعلقات میں بہتری اور مضبوطی کیلئے بھارت نے د ونوں ہی ملکوں میں کئی ارب کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اپنا رنگ اکثر دکھاتی محسوس ہوتی ہے۔ امریکہ اگر اس خطے میں موجود نہیں لیکن اس خطے میں اس کا دشمن موجود ہے۔ چین اور روس دونوں ہی امریکہ کو اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ چین فی الحال ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور روس آہستہ آہستہ اپنی طاقت مجتمع کر رہا ہے۔ امریکہ ان دونوں پر اپنا دبائو رکھنا چاہتا ہے۔ یہ اس وقت بہترین صورت میں ممکن ہے جب امریکہ اس خطے میں موجود ہو۔ اس خطے میں اپنی موجودگی کی امریکہ بار ہا کوششیں کر چکا ہے۔ افغانستان میں تو وہ موجود ہے ہی مسئلہ صرف اتنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے ارد گرد مسلسل طالبان نام کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ جنگ میں موجودگی کی خواہش امریکی نفسیات کا حصہ ہے لیکن جنگ کے نتیجے میں موت کا خوف امریکہ کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ یہ ایک عجیب امتزاج ہے اس لئے امریکہ نے افغانستان کے علاوہ پاکستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی۔ سوات کے حوالے سے یہ کوششیں ناکام ہوگئیں۔ اب کشمیر کی صورت میں امریکہ کے ہاتھ ایک نیا موقع آیا ہے۔ بھارت کشمیر میں اگر معاملات کے بگاڑ کو اس حد تک لے آئے کہ پھر بین الاقوامی افواج کو علاقے میں امن برقرار رکھنے کیلئے داخل ہونا پڑے تو یقینا امریکہ کے اس علاقے میں داخلے کا جواز پیدا ہو جائے گا۔ معاملات کچھ اسی نہج پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس وقت اس خطے میں جو صورتحال ہے اس کا کئی نہج سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ ضروری ہے کہ ہم سمجھ سکیں کہ کشمیر میں در اصل کیا ہو رہا ہے۔ اس سارے منظرنامے کی صرف داخلی وجوہات ہی نہیں بلکہ خارجی عناصر بھی اس صورتحال کی ابتری میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی لئے امریکہ کے کردار کے حوالے سے میں نے آپ سے پہلے بات کی ہے۔ اب ذرا نگاہ داخلی معاملات کی جانب کرنی بھی ضروری ہے۔ بھارت کشمیر میں معاملات کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لیکر آگے بڑھ رہا ہے اور پاکستان اس حوالے سے ذرا ضرورت سے زیادہ سادگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر کے حوالے سے پہلی بار صدارتی حکم نامہ جاری نہیں کیا بلکہ 1954ء سے آج تک ایک لمبی فہرست ہے جو مختلف معاملات کے حوالے سے جاری کئے گئے صدارتی حکم ناموں کے حوالے سے موجود ہے۔ اس فہرست کو ذرا غور سے دیکھنے کی ضرورت ے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ در اصل بھارت ایک سوچی سمجھی پالیسی سے اس معاملے کو ایک خاص طریقے سے اپنے لئے حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ 1954ء سے پہلے تمام ریاستوں کو ایک عارضی‘ عبوری اور خصوصی حیثیت حاصل تھی جب تک کہ وہ اپنے لئے ایک آئین ‘ جھنڈے اور داخلی معاملات کے انتظام کا طریقہ کار نہ بنا لیتیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مخصوص کئے گئے وقت میں ساری ریاستیں تمام تر کام کرنے میں ناکام رہیں اور 1954ء میں ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیاگیا جس کے تحت آئین کی ان شقوں کو مخصوص کیاگیا جو ان ریاستوں کی خصوصی حیثیت کاتعین کرتی تھیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کیساتھ 35A نے کشمیر کے لوگوں کے جائیداد اور اراضی کے قوانین کو بھی واضح کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں کشمیری قومیت کے علاوہ لوگ اراضی وجائیداد نہ خرید سکتے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ مسئلہ آرٹیکل 370 کو ختم کردینے سے جنم لے رہا ہے۔ سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بھی بلایا گیا۔ اس میں اقوام عالم نے شرکت کی۔ اس بات کا فیصلہ بھی ہوگیا کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ چین نے ‘ روس نے کھل کر پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ پاکستان کے وزیراعظم نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون بھی کیا اور معاملے کی حساسیت سے آگاہ بھی کیا۔ پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں ویٹو کی طاقت رکھنے والے تمام تر مستقل ممبران کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی۔ فرانس کے علاوہ تمام ملکوں سے رابطہ بھی ہوا پاکستان سفارتی سطح پر اس سب کو اپنی بہت بڑی کامیابی بھی سمجھ رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان کیساتھ اس معاملے پر بات چیت کرنے کی حامی بھی بھرلی ہے لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا اس سب کے نتیجے میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کو دوبارہ نافذ کردیاگیاہے؟ کیا کشمیر کے عوام اور علاقے کی خصوصی حیثیت بحال کردی گئی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کونسی کامیابی ہے جس کا بار بار ذکر ہو رہا ہے۔ 31اکتوبر 2019ء تک جموں کشمیر تعمیرات نو ایکٹ کو بھی حتمی صورت (Jammu & Kashmir Reorganisation Act) حاصل ہوجانی ہے کیا اس کا راستہ روک لیاگیا ہے؟ کیا واقعی ہمیں کامیابی حاصل ہوئی ہے؟

متعلقہ خبریں