Daily Mashriq


دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات

دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات

اتوار کے روز دہشت گردوں کا ریلوے سٹیشن کوئٹہ کے قریب شاہراہ زرغون پر واقع ایک ایسے علاقے میں چرچ کو نشانہ بنانا جہاںہروقت وی آئی پی مومنٹ رہتی ہے اور ساتھ ہی مختلف مقامات پر سیکورٹی فورسز کی چوکیاں بھی ہیں جو سیکورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کا باعث ہے۔ اگرچہ دہشت گردوں کو چرچ کے اندر جا کر بد ترین تباہی کا موقع نہ ملا لیکن گیٹ پر ان کوجس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی کئی سوالات کا باعث ہے ایک دہشت گرد صدر دروازہ بہ آسانی پھلانگ کر عبور کیا جبکہ باہر سے آنے والے دہشت گرد کے دوسرے ساتھی کو واضح طور پر دیکھا گیا کہ اسے چند اں مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ چرچ کے باہر سیکورٹی کا کوئی معقول بندوبست نہیں تھا اس کے باوجود کہ نہ صرف دہشت گردی کے خطرے کیلئے انتباہ کا اجراء کیا جا چکا تھا جبکہ اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے حوالے سے مبینہ طور پر موبائل پیغامات بھی زیر گردش تھے ۔ بلوچستان میں جہاں آئے روز دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوتے ہیںوہاں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کی ضرورت تھی۔ گزشتہ روز چرچ حملے کے موقع پر کسی طور وہ انتظامات اور اقدامات نظر نہ آئے جو حالات پر قابو پانے کیلئے ضروری تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب بھی پولیس اور انتظامیہ سکھ کا سانس لینے لگتی ہے دہشت گرد اس کی بھنک پا کر متحرک ہوجاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دونوں صوبوں میں سیکورٹی کے انتظامات اور صورتحال میں نرمی نہ لائی جائے اور اس وقت تک ہائی الرٹ رکھا جائے جب تک دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا نہیں ہوجاتا۔ اس وقت تک کی صورتحال کی بہتری اس حد تک ہی دیکھنا حقیقت پسندانہ امر ہوگا کہ دہشت گردوں کی کمر تو ضرور ٹوٹ چکی ہے لیکن وہ اس ٹوٹی ہوئی کمر کو لیکر بھی ہمارے حفاظتی نظام کو چیلنج کرنے کا جب بھی موقع دیکھتے ہیں دہشت گردی سے دریغ نہیں کرتے ۔ کوئٹہ اور پشاور سمیت دونوں صوبوں میں بد امنی کے واقعات میں اضافہ ہونا حکومتی سیکورٹی اداروں اور عوام سبھی کیلئے نہایت پریشانی کا باعث امر ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کرسمس کی آمد کے موقع پر کوئٹہ میں چرچ پر حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں اس سے پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح پر منفی تاثرات کا بننا فطری امر ہوگا اس حملے کے پس پردہ بھی یہی مقصد کارفرما ہوگا ایک ایسے وقت کا انتخاب کر کے جب کرسمس کی تیاریاں جاری ہوں اور مسلمانوں میں القدس کے حوالے سے امریکی فیصلے سے سخت غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے، دہشت گردوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی دانست میں اس سخت ردعمل سے ان کو داخلی ہمدردیاں مل سکتی ہیں خام خیالی ہی ہے کیونکہ اسلام میںکسی بھی شخص کو خواہ اس کا تعلق کسی دین و مذہب اور رنگ ونسل سے ہو اسے مارڈالنا توکجا اس کو بے جا تکلیف دینے کی بھی گنجائش نہیں ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی غیر ملکی سر پرستی اور حالات خراب کرنے کی ایک بڑی وجہ بلکہ اصل وجہ سی پیک کے حوالے سے اس کا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہونا ہے چند ماہ سے رونما ہونے والے واقعات سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ بعض بیرونی طاقتوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات خراب کرنے کیلئے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور آنے والے دنوں میںبھی خدشہ ہے کہ ایسے واقعات میں تیزی آئے جن کا ہدف ملک اور صوبے کو غیر مستحکم کرنا ہو۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ سیکورٹی فورسز کی شبانہ روز مساعی کے باعث دہشت گردی کی سطح میں کمی ضرور آئی ہے لیکن کچھ عرصے کے تعطل کے بعد یکے بعد دیگر ے ایسے بڑے واقعات سامنے آتے ہیں کہ ان مساعی کے ثمرات بارے شکوک وشبہات کی فضاجنم لیتی ہے گزشتہ دو واقعات میں ایک قدر مشترک یہ سامنے آیا ہے کہ پشاور میں زرعی مرکز اور کوئٹہ میں چرچ کو تعطیل کے روز نشانہ بنایا گیا، چرچ میں اجتماع اتوار کے روز ہی ہونا ہوتا ہے لیکن پشاور میں اتوار کے روز حملے سے طریقہ کار میں تبدیلی کا گمان اس لئے ہوتا ہے جس کی ایک بڑی وجہ تعطیل کے دن سڑکوں پر رش نہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی میں بھی کمی ہونا ہے۔ اس نکتے کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکورٹی کے اداروں کو بھی حفاظتی انتظامات میں ردوبدل کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی یکے بعد دیگرے ان شہروں کو نشانہ بنانے سے دہشت گردی کی نئی لہر اور دہشت گرد عناصر کے ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے کا اظہار ہوتا ہے جس کا ادراک کر کے پشاور اور اس کے مضافات میں ایک مرتبہ پھر تلاشی اور چھان بین کی کارروائیاں شروع کی جائیں ۔ پے در پے سامنے آنے والے واقعات سے ہماری کمزوری کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کمزوریوں پر قابو پانے کیلئے اقدامات کئے جائیں ایسے واقعات کے تسلسل سے دہشت گردی کے عود کر آنے اور دہشت گردوں کے دوبارہ منظم ہونے کا تاثر ملتا ہے جو حکومت اور سیکورٹی اداروں کی ساکھ کے حوالے سے سوال کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی بے حد غیر یقینی کی صورتحال کا باعث بن رہا ہے ۔ جس کا بروقت تدارک ضروری ہے ۔

متعلقہ خبریں