گیس کی لوڈ شیڈنگ ، تنگ آمد بجنگ آمد

گیس کی لوڈ شیڈنگ ، تنگ آمد بجنگ آمد

صوبائی دارالحکومت کی نصف آبادی کا گیس کی لوڈ شیڈنگ اور پریشر میں کمی کے باعث متاثر ہونا فوری قابل توجہ معاملہ ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت اور سوئی ناردرن کمپنی دونوں کو عوام کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں ۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی صوبے میں گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو چکی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ گھر یلو صارفین کیلئے گیس موجود نہیں مگر سی این جی سٹیشنز کو پورے پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے۔ گیس کمرشل بنیادوں پر ملی بھگت سے فروخت کیلئے تو بڑے پیمانے پر دستیاب ہے مگر گھریلو صارفین کی ضروریات کیلئے گیس نہیں ۔ بعض عاقبت نا اندیش عناصر گیس پریشر بڑھانے کیلئے پریشر پمپ اور کمپریسر کا استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث صورتحال مزید بد تر ہوتی جارہی ہے مگر نہ تو گیس کا پریشر بڑھانے کا کوئی بندوبست کیا جارہا ہے اور نہ ہی غیر قانونی پریشر پمپس اور کمپریسر لگانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہورہی ہے۔ اس صورتحال میں عوا م کے پاس سوائے سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کے کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ یہ صورتحال رہی تو سڑکوں پر گھیرائوجلائو کی نوبت آئے گی جب گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوں گے تو سڑکوں پر آگ لگانے کی راہ ہموار ہونے کا ہی راستہ باقی بچے گا ۔ سوئی گیس کی بد ترین لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر سے عوام کا جینا دو بھر ہوگیا ہے۔ اس مہنگائی کے عالم میں لوگ کھانا پکانے کیلئے مہنگے داموں کوئلہ ، لکڑی اور ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں استعمال میں کثرت سے آنے کے باعث متبادل ایندھن کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں رہی سہی کسر تندور پر پاپڑ کی طرح روٹیاں خریدنے سے پوری ہو جاتی ہے۔ ایسے میں عوام حکومت کو نہ کوسیں تو اور کیا کریں ۔ شدید سردی کے باعث لوگ بجلی کے ہیٹر چلانے پر مجبور ہیں جس سے یا تو ان کو بھاری بلوں کی صورت میں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے یا پھر بجلی چوری کے ارتکاب کا قبیح طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ سوئی گیس کا عملہ گھریلو صارفین کو گیس کی سپلائی بند کر کے سی این جی اور دوسرے تجارتی اداروں کو گیس فراہم کر کے مال بٹور نے میں مصروف ہے۔ سی این جی سٹیشنز اور دیگر تجارتی اداروں میں غیر قانونی کمپریسر پوری قوت سے استعمال ہورہے ہیں مگر ان سے احتراز برتا جارہا ہے ۔ عوام کو اس مشکل سے نجات دلانے کیلئے حکومت کو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر نے کی بجائے اس مسئلے کا سختی سے نوٹس لینے اور عوام کو اس مشکل سے نجات دلانے کی ضرورت ہے ۔ سی این جی سٹیشنز اور صنعتوں کو ایسے اوقات میں گیس کی فراہمی بند کر دی جانی چاہیئے اور گھریلو صارفین کی ضروریات کو مقدم رکھا جانا چاہیئے ۔
نا خالص شہد کی فروخت کا سختی سے نوٹس لیا جائے
خیبر پختونخوا میں غیر معیاری اور نقلی دودھ کی فروخت کے بعد اب مصنوعی نقلی اور غیر معیاری و ناخالص شہد کی خرید وفروخت کی شکایات کا سامنے آنا افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے ۔ حال ہی میں اخبارات میں جعلی چھتہ بنانے کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قدرتی چیز کی پیداوار کے مقابلے میں فراوانی از خود اس امر کی تقویت کا باعث ہے کہ اس قدرتی چیز کو مصنوعی اور جعلی طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں دودھ اور شہد کی پیداوار کے مقابلے میں اس کی کئی گنا زیادہ مقدار میں مارکیٹ میں ہروقت وافر مقدار میں موجود گی کوئی راز کی بات نہیں پنجاب سے جعلی اور ناخالص دودھ لانے کی کہانی بھی کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں۔ صوبے میں شہد کی مکھیاں پالنے کے کاروبار میں اضافے سے انکار ممکن نہیں لیکن جس بڑے پیمانے پر شہد کا کاروبار ہورہا ہے اور مارکیٹ میں جس مقدار کا شہد دسیتاب ہے اس سے از خود اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں شہد کے کارخانے کھل گئے ہوں گے ۔شہد جیسی پاکیزہ نعمت کے حوالے سے شکوک و شبہات ہی لوگوں کو اس سے دور کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ اخبارات کے ذریعے لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مارکیٹ میں خالص شہد بالکل بھی دستیاب نہیں ان کا مطالبہ ہے کہ محکمہ خوراک اور محکمہ صحت کے متعلقہ حکام مارکیٹ سے شہد کے نمونے حاصل کر کے اس کا تجزیہ کرے ۔ ہمارے تئیں اگر سرکاری محکموں کے اہلکار سونہ رہے ہوتے تو عوام کو اس طرح کا مطالبہ کرنے کی ضرورت نہ تھی بہر حال اب جبکہ عوام اس کا باقاعدہ طور پر مطالبہ کرنے لگے ہیں تو متعلقہ محکموں کو حرکت میں آجانا چاہیئے ۔ اس طرح کے شہد کی کھپت مقامی مارکیٹ میں ہی ہو سکتی ہے اگر متعلقہ حکام نہ چاہیں تو غیر معیاری اور ناخالص شہد کا کاروبار ایک دن بھی نہ کیا جا سکے گا ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ شفاء کی امید پر شہد خریدنے والوں کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف سرکاری ادارے حرکت میں آئیں گے اور عاقبت نا اندیش عناصر کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

اداریہ