Daily Mashriq


کوئٹہ میں چرچ پر دہشت گرد حملہ

کوئٹہ میں چرچ پر دہشت گرد حملہ

کوئٹہ میں زرغون روڈ چرچ پر دہشت گردوں کا حملہ اس سال کے دوران شہر میں دہشت گردی کی چھٹی بڑی واردات ہے جس میں چار خواتین سمیت 9عزیز ہم وطن اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ اور ساٹھ کے قریب زخمی ہوئے۔ اس واردات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ چر چ پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مسیحیوں کا سب سے بڑا تہوار کرسمس چند دن کے بعد آنے والا ہے۔ اور مسیحی برادری کے ارکان چرچ میں اس حوالے سے دعائیہ تقریب میں مصروف تھے۔ اس واردات کی صدر مملکت وزیر اعظم اور آرمی چیف سمیت ملک کی سبھی اہم شخصیات نے مذمت کی ہے۔ اس حملے کے کئی مقاصد دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عین کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کونشانہ اس لیے بنایا گیا کہ امریکہ ‘ یورپ اور دنیا کے دوسرے بڑے ملکوں میں آباد مسیحی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات پاکستان کے خلاف بھڑکائے جائیں ۔ اور امریکہ اور یورپی ممالک میں بلوچستان کے باغی عناصر بلوچستان کی علیحدگی کی جو پراپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں اس کے لیے یہ تاثر دے کر حمایت حاصل کی جائے کہ بلوچستان میں مسیحی محفوظ نہیں ہیں۔ اس سے پہلے دہشت گرد عناصر پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے مختلف کمیونٹیوں اور فرقوں کے ارکان اور ان کے قائدین پر حملے کرتے رہے ہیں ۔ اب یہ تاثر دے کر کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں اقلیتوں کو اتنا ہی تحفظ حاصل ہے جتنا کہ اکثریتی آبادی کو۔ دہشت گرد بالعموم ہمسایہ ملک افغانستان سے آ کر پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں جہاں انہیں بھارت کی خفیہ کار ایجنسی ’’را‘‘ کی سرپرستی حاصل ہے ۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے جس کا پاکستان میں منظم وجود نہیں ہے اور ذمہ داری قبول کرنے کے اعلان کا صحیح یا مشتبہ سمجھنا بھی غور طلب ہے۔ یہ اعلان گمراہ کن بھی ہو سکتا ہے اور اس کا مقصد تفتیش کو غلط راستے پر ڈالنا بھی ہو سکتا ہے تاکہ دہشت گردوں کے مقامی سہولت کاروں کی طرف سے توجہ ہٹا کر تفتیش کو شام اور عراق کی طرف متوجہ کیا جائے حالانکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں کی اطلاعات عام ہیں اور افغانستان میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا وسیع نیٹ ورک بھی موجود ہے۔ 

پولیس اور سیکورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دہشت گرد حملے کے آغاز ہی میں جہنم واصل کر دیے گئے ۔ اگر یہ دہشت گرد دعائیہ تقریب کے ہال میں داخل ہو جانے میں کامیاب ہو جاتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھاکیونکہ ہال میں چار سو کے قریب افراد دعائیہ تقریب میں شامل تھے۔جہاں سیکورٹی اداروں کے ارکان کی مستعدی لائق تحسین ہے وہاں یہ بات بھی عام معلومات کا حصہ ہے کہ محض حساس مقامات پر سیکورٹی کی نگرانی دہشت گردوں کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ دہشت گرد چھپ کر حملہ کرتے ہیں اور ایسے ٹارگٹ تلاش کرتے ہیں جہاں تک رسائی ان کے لیے آسان ہو۔ اس لیے دہشت گردوں کے پاکستان میں داخلے کو روکنے کا انتظا م ضروری سمجھا جانا چاہیے۔ پاک فوج نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کی باڑھ بندی کا کام شروع کیا ہوا ہے۔ یہ کام زرِ کثیر کا تقاضا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کام کو ترجیحی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے اور دوسری مدات سے رقم بچا کر اس کام کے لیے فراہم کی جانی چاہیے۔ دوسرے پاکستان میں جو تیس لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں ان کی جلد واپسی یقینی بنانی چاہیے۔ کیوں کہ دہشت گرد ان میں تحلیل ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا کام شروع کیا گیا لیکن ان کی واپسی کے لیے کوئی مربوط پالیسی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ اسی طرح نیشنل ایکشن پلان کی دوسری متعدد شقوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ۔ انٹیلی جنس اداروں کے باہمی رابطے کو سریع الرفتار اور مضبوط نہیں بنایا جا سکا۔ بالعموم پنجاب سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہوتی ہیں کہ اتنے دہشت پاکستان میں آنے کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب کے انٹیلی جنس اداروں کے پاس بہتر آلات اور سامان ہے ۔ دوسرے صوبوں کو بھی انٹیلی جنس کے لیے بہتر سازوسامان اور تربیت مہیا کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔انٹیلی جنس شراکت کے انتظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ عوام کو دہشت گردی کے خلاف مستعد کرنے کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے۔ مقامی قیادت مثال کے طور پر بلدیاتی اداروں کے ارکان ‘ ائمہ مساجد ‘ سکولوں کے اساتذہ اور اہم مقامی افراد کے علم میں یہ ہوتا ہے کہ ان کے علاقے میں کون اجنبی آیا ہے ۔ یا کس کے گھر میں اجنبی آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ یہ معلومات متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم نکتہ فوجداری عدالتوں کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ آپریشن رد الفساد کے تحت بالعموم دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی گرفتاری اور ان کے اسلحہ کے ذخیروں کے برآمد ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس کے بعد یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان گرفتار ہونے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔ دہشت گردوں کے تمام مقدمات کی کارروائی میڈیا کو فراہم کی جانی چاہیے تاکہ عام لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کام کس رفتار سے ہو رہا ہے اور اس سے دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ بلوچستان کی صورت حال میں رپورٹنگ بہت دشوار ہے اس لیے بلوچستان کے ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ضلع میں کم از کم جرائم کی خبریں میڈیا کو فراہم کیا کرے۔ اس سے میڈیا کے کارکنوں کو بہتر رپورٹنگ کرنے کی تحریک ہو گی۔

متعلقہ خبریں