دارالحکومتوں کی سیاست

دارالحکومتوں کی سیاست

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے اور یروشلم کو اسرائیل کانیا دارالحکومت تسلیم کرنے کو خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ کہا جاسکتا ہے لیکن اس اعلان میں دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے تمام تر لوازمات موجود ہیں ۔ جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ اعلان سے مشرقِ وسطیٰ میں آگ لگنے کا خطرہ موجود ہے وہیں یہ اعلان دنیا بھر کے یہودیوں کے لئے ایک نویدِ مسرت ہے کیونکہ اس اعلان کے بعدیروشلم پر اسرائیل کے دعوے کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔دنیا بھر میں دارالحکومتوں کو زیادہ تر انتظامی امور میں آسانی کی وجہ سے تبدیل کیا جاتا ہے اور دارالحکومتوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا ہمیشہ سے ایک پیچیدہ عمل رہا ہے ۔ مصطفی کمال نے اپنے دورِ حکومت میں تُرکی کے صدیوں پرانے دارالحکومت استنبول کو ایک کم مشہور شہر انقرہ منتقل کردیا تھا ۔ مصطفی کمال نے دارالحکومت منتقل کرنے کے اس عمل کو تیکنیکی بنیادوں پر درست ثابت کردیا تھا ۔ انقرہ شہر ایک ایسی جگہ پہ واقع تھا جو اناطولیا کے جغرافیائی مرکز سے زیادہ قریب تھی جس کی وجہ سے ترکی کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے لئے دارالحکومت کا فاصلہ کم ہوگیا تھا ۔انقرہ کی نئی طرزِ تعمیر نے استنبول۔ازمت کے علاقے سے دور ہونے کی وجہ سے ایک نئے ترکی کی بنیاد ڈالی جس سے تُرکی کے مشرق میں واقع دیہی علاقوں اور مغرب میں واقع شہری علاقوں کے درمیان ایک توازن قائم کرنے میں مدد ملی۔اگر کرہِ ارض جنوبی کی بات کی جائے تو برازیل کے صدر جوسولینو کوبٹس چیک نے 1950ء کی دہائی میں برازیلیا کو نیا وفاقی دارالحکومت بنانے کا کام شروع کیا اور کامیابی سے برازیل کا دارالحکومت نئے شہر میں منتقل کردیا۔ دارالحکومتوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے اور ان شہروں کو تعمیر وترقی پر خرچ ہونے والے اخراجات کی وجہ سے ان ممالک کی حکومتوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کی طرح بہت سے ممالک کو دارالحکومت ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کرنے کے فیصلے پر سیاسی مخالفت کا سامنا بھی رہا۔ 1947ء میں جب برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کی گئی تو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے تمام انتظامی اداروں کو کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر تھا جو سمند رکے ذریعے مشرقی پاکستان سے قریب ہونے کے علاوہ کسی بھی دارالحکومت کے لئے ضروری دیگر تمام خصوصیات کا حامل بھی تھا جس میں انفراسٹرکچر کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت قرار دینے کے کچھ عرصہ بعد حکومتِ پاکستان نے کراچی شہر سے کچھ25 کلو میٹر دور ایک نیا شہر بنانے اور اسے پاکستان کا دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ یہ فیصلہ پرانے اور نئی دہلی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد ملٹری۔ بیوروکریٹک اتحاد نے دارالحکومت کو کراچی شہر سے کہیں دور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔کراچی میں مزدوروں اور سٹوڈنٹس کے احتجاج کی وجہ سے حکومت گھبراہٹ کا شکا رہوگئی اور 1950ء کی دہائی کے درمیان میں دارالحکومت کو کراچی سے دور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ نقل مکانی اور شہری منصوبہ سازی پر حکومت کی مشاورت کرنے والے ایک یونانی ماہر ، سی۔اے۔ڈوکسیاڈس کودارالحکومت منتقل کرنے کا کام سونپا گیا ۔مذکورہ ماہرِ تعمیرات و نقل مکانی نے تحقیق کے بعد مارگلہ ہلز کے دامن میںنیا دارالحکومت بنانے کی تجویز پیش کی جسے اس وقت کی فوجی حکومت نے منظور کر لیا۔مشرقی پاکستان کے عوام دارالحکومت کو منتقل کرنے کے اس فیصلے سے ناخوش تھے کیونکہ نیا دارالحکومت ان کے لئے بہت دور تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لئے حکومت نے دو دارالحکومتوں کی تجویز پیش کی جن میں سے ایک انتظامی دارالحکومت اور دوسرا قانون سازی کا دارالحکومت تھا۔ بنگالیوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ڈھاکہ میں ایک کمپلیکس بھی تعمیر کیا گیاتھا اور ڈھاکہ اسمبلی کی عمارت ماہرتعمیرات لوئس آئی۔کہن نے ڈیزائن کی تھی اور اس سکیم کو ایوب نگر کا نام دیا گیا تھا۔ جب اسلام آباد بنایا گیا تھا تو بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس شہر کا سرسبزوشاداب ماحول ہمیشہ قائم رہے گا ملبری درختوں کی لمبی قطاریں اعلیٰ بیوروکریٹک قیادت کو کام کرنے کے لئے بہترین ماحول فراہم کرے گا لیکن یہ امیدیں وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوگئیں اور آج اسلام آباد کی سڑکوںپر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اسلام آباد کے اصل پلان کے برخلاف اس وقت اسلام آباد کے اندر بہت سی فیکٹریاں اور انڈسٹریز کام کر رہی ہیں۔ان انڈسٹریز میں سٹیل کی بھٹیاں، تیزاب کی فیکٹریاں، سنگ مر مر کاٹنے کی فیکٹریاں ، دھاتوں کو پگھلانے کی فیکٹریاں اور سیمنٹ کے پلانٹ شامل ہیں جبکہ شہر میں سیوریج کی ٹریٹمنٹ کاکوئی نظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی فضلے کو زمین میں دبانے کا کوئی مناسب انتظام موجود ہے۔ اسلام آباد کو عام لوگوں کے دارالحکومت کے طور پر بسایا گیا تھا نہ کہ صرف امیر طبقے کے لئے، لیکن اس شہر میںورکنگ کلا س کی رہائش کے منصوبے انتہائی کم ہیں اور نہ ہی شہر کے غریبوں کو مناسب ہائوسنگ فراہم کرنے کے لئے کوئی مناسب زمین الاٹ کی گئی ہے۔ اس لئے ملک کے عام لوگ اسلام آباد کو ایک ایسا شہر سمجھتے ہیں جو صرف امیروں کے لئے بنایا گیا ہے۔

(بشکریہ: ڈان ،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ