Daily Mashriq


تحفظات

تحفظات

آزاد عدلیہ کے لئے بے مثال جدوجہد کرنے والے اورمشرف آمریت کے سامنے ڈٹ جانے والے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے عمران خان کی بریت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اورعمران خان کے کیس ایک جیسے ہیںلیکن عمران خان کو ریلیف دیا گیا جبکہ نواز شریف کو نہیں دیا گیا۔معروف قانون دان بابر ستار نے عدالتی فیصلے کوآئینی توازن کی تبدیلی سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بریت سے جمہوری اداروں کی طاقت کم ہوگی اور غیر نمائندہ اداروں کی طاقت بڑھے گی۔جسٹس وجیہہ الدین نے حیرت ظاہر کیا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں پانچ سال کی قد غن لگانے کی کیا ضرورت تھی؟فیصلے کے بعد سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر ،سپریم کورٹ بار کے کچھ سابق صدور کے علاوہ نامور صحافیوں نے بھی اس پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ پانامہ اور عمران نا اہلی کیس میں ’’ بھول‘‘ کی مختلف تعریفیں سامنے آئیں۔ایک اورسینئر صحافی نے لکھا کہ جج صاحبان نے عمران خان کے مقدمات میں نرم رویہ اختیار کیا۔دوسری طرف چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کسی پلان کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پر دبائو ڈالنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے ان کے بعد ان کی اولاد شرمندہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ کسی منصوبے کا حصہ ہوتی تو حدیبیہ کا یہ فیصلہ نہ آتا جو آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ فیصلے پر تنقید کر سکتے ہیں ۔یہ کہہ سکتے ہیں کہ فیصلے میں دی گئی دلیل کمزور ہے لیکن نیت پر شبہ نہ کریں۔عمران خان نا اہلی کیس میں کپتان نے کئی بار موقف تبدیل کیا۔نیازی سروسز کا بینی فیشل اونر ہونے کا اعتراف بھی کیا لیکن فیصلہ ان کے حق میں آیاتو اس پر ایک نئی بحث چھڑ گئی اور یہ بحث اس قدر بلند آہنگ تھی کہ چیف جسٹس کو وضاحت کرنا پڑی کہ عدلیہ کسی پلان کا حصہ نہیں لیکن قانون دان ،سابق چیف جسٹس اور بعض دیگر ذمہ دار لوگ فیصلے پر جو تبصرہ آرائی کر رہے ہیں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ عام لوگ نہیں ہیں اور آئین و قانون کو سامنے رکھ کر فیصلے پر تبصرہ کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر عمران خان کو بھی نا اہل قرار دے دیا جاتا توایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہو جاتا اور الیکشن سے صرف چھ ماہ پہلے یہ سیاسی بحران ایک بڑا مسئلہ بن جاتا کیونکہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پہلے ہی نا اہل ہو چکے ہیں اور اگر عمران بھی نا اہل ہو جاتے تو سیاسی بحران سنگین ہو سکتا تھا۔نواز شریف اور عمران خا ن پر جو مقدمات چلے اورنواز شریف کے بعد جہانگیر ترین بھی نا اہلی کی زد میں آئے اس معاملے پر مسلسل غور کے بعد ہم تو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سیاستدانوں کے معاملات کے لئے عدالتی فورم کی بجائے الیکشن کمیشن کا فورم استعمال کیا جانا چا ہئے کیونکہ سیاست کے گندے کپڑے دھونے کے لئے اعلیٰ عدلیہ کافورم نہایت غیر مناسب ہے اور ایسے معاملات سے عدلیہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔پانامہ کے لئے بھی مناسب ترین فورم الیکشن کمیشن تھا اورعمران خان نا اہلی کیس میں بھی یہی مناسب ترین فورم تھا۔جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب ٹھیک نہیں ہوا انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ جو آگے ہو گا وہ اس سے بھی تکلیف دہ ہوگا کیونکہ سیاست میں مخالفت جس حد تک آگے چلی گئی ہے اس کے بعد ان گنت سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف عدالتی فورم کو استعمال کریں گے اور صادق اور امین کا سوال اٹھائیں گے جس پر پورا اترنا کسی پاکستانی مسلمان کے بس کی بات نہیںخواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے یا ادارے سے ہو۔عدلیہ کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ جب عدالتیں آمریت کا سامنا کرتی ہیں تو اس وقت یہ سیاستدان ہی عدلیہ کا علم اٹھا کر میدان میں نکلتے ہیں۔عدلیہ کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ڈکٹیٹر شپ چلی بھی جائے تو بھی اس کے اثرات موجود رہتے ہیں۔وہ لوگ بھی بڑی تعداد میں باقی رہتے ہیں جو آمریت کے منتظر ہوتے ہیں کیو نکہ ان کے تمام تر مفادات آمریت سے وابستہ ہوتے ہیں۔درحقیقت یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو حقیقی سیاستدانوں کے خلاف سب سے زیادہ شور مچاتے ہیں تاکہ عدلیہ اور فوج کو ان کے خلاف اکسایا جائے۔یہ لوگ خود بھی سیاستدانوں کے بہروپ میں ہوتے ہیں لیکن ہمہ وقت مارشل لا کے لئے کوشش کرتے ہیں۔پنجاب کے چوہدری برادران کو ہی لے لیں۔مشرف کی آمریت میں ان کی پوزیشن اور آج کی پوزیشن کا فرق دیکھ لیں۔کہاں گئی ان کی وہ ق لیگ جس نے مرکز اور صوبوں میں حکومتیں بنائیں؟ان لوگوں کو پتہ ہے کہ ان کی بقا صرف آمریت میں ہے اسلئے صرف سیاستدان ہی نہیں فوج اور عدلیہ بھی ان سے ہوشیار رہے کہ انہی میں سے کچھ لوگ ہوتے ہیںجو افواہ سازی کے ذریعے ہر وقت ملک میں بے یقینی کی کیفیت برپا کئے رکھتے ہیں۔اس کا ملک کو جو نقصان ہوتا ہے ان کی بلا سے کیونکہ انہیں ملک سے زیادہ اپنے مفادات کی فکر ہے۔اس امر کی بھی شدت سے ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ دونوں اہم مقدمات کے حوالے سے ماہرین قانون کے تحفظات کو توجہ سے سنے تاکہ اگر کوئی سقم ہیں تو آئندہ کے لئے ان سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں