مجھ کو تو دشمنی کیلئے بھائی چاہیئے

مجھ کو تو دشمنی کیلئے بھائی چاہیئے

تحریک کیا ہے ، کس چڑیا کا نام ہے ، بڑھکیں مارنے اور الفاظ کے طوطا مینا اڑانے سے اسے تجسیم نہیں کیا جا سکتا ، دھمکی آمیز بیانات سے ملک میں خانہ جنگی کو ہوا تو دی جا سکتی ہے جو شاید گروہی مفادات کی تکمیل تو کر لے مگر اس سے ملک میں پہلے ہی سے موجود افراتفری کو مہمیز تو مل سکتی ہے ، تحریک کی اصل شکل کہیں نظر نہیں آسکتی ، تحریک وہ ہوتی ہے جس میں ہر طبقہ فکر ، آبادی کا ہر حصہ اپنا کر دار ادا کرے ، بلا تخصیص ، اور صرف ایک آدرش کی بنیاد پر ، ایک صاف شفاف فکر کا علم اٹھائے ہوئے مقصد کی تکمیل کا سفر ، اگر صرف نعرے بازی کر کے کوئی ایک گروہ کسی دوسرے گروہ کو للکارے تو اسے تحریک کبھی نہیں کہا جا سکتا ، اس سے انار کی تو پھیل سکتی ہے ، جس سے کوئی اور گروہ یا طبقہ ہی فائدہ اٹھانے میں کامیاب تو ہو سکتا ہے مگر اس کے ساتھ قومی مفادات کو جو دراڑیں سہنی پڑتی ہیں ان کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے ، ہمارے چاروں جانب جو حالات ہیں ، ہمارے وجود کو درپیش جس قسم کے چیلنجز درپیش ہیں ، ہمیں تقسیم در تقسیم کرنے کیلئے جو بساط بچھائی جارہی ہے ، اور ہمارے ازلی دشمن جو چالیں چل رہے ہیں ، ہمیں اقتصادی طور پر جو زک پہنچا ئی جارہی ہے تاکہ ہم اپنا وجود برقرار رکھنے کے قابل ہی نہ رہیں اور عالمی سطح پر منڈلانے والے گدھ ہمیں نوچ کھا جائیں ، ہمارے اثاثوں پر قبضہ کر کے ہمیں بے دست و پا کردیں ، ہمیں فکری اور وجودی سطح پرتہس نہس کر کے اپنے گریٹ گیمز کو تکمیل تک پہنچائیں اس صورتحال سے غافل ہو کر ہم اپنی نادانیوں کا خود شکار ہونے جارہے ہیں ، ایک دوسرے کو تحریک چلانے کی دھمکیاں دے کر اپنے دشمنوں کا کام آسان کر رہے ہیں ۔ 

غیروں سے کیوں لڑوں گا مسلمان ہو ں جناب
مجھ کو تو دشمنی کیلئے بھائی چاہیئے !
مسلمانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ، انہیں اس وقت تک کسی دوسری قوم یا طاقت نے شکست نہیں دی جب تک یہ اندرونی طور پر خانہ جنگی کا شکار نہیں ہوئے ۔ آج ہم قومی سطح پر ایک بار پھر اسی صورتحال سے دوچار ہیں، ہمارے دشمنوں نے خود ہمارے ہی بھائیوں کو ہمارے خلاف صف آراء کررکھا ہے ، تخریب کاری اور دہشت گردی کا عفریت ایک بار پھر سراٹھا رہا ہے ، نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں ایک بار پھر خود کش حملوں کاسلسلہ شروع ہو چکا ہے بلکہ حکمت عملی میں ایک بار پھر تبدیلی لاتے ہوئے غیر مسلموں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، تاکہ عالمی برادری میںہمیں بدنام کر کے عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بڑھا وا دیا جا سکے ، جبکہ ادھر ملک کے اندر ہمارے بعض سیاسی رہنما (رہنمائی کی جن پر تہمت ہی لگا ئی جا سکتی ہے ) ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ انہوں نے سیاست کو ذاتی دشمنی بنا کر قوم کو تقسیم کر دیا ہے ، اس گروہی سیاست نے مخالفتوں کا وہ طوفان اٹھا دیا ہے کہ ہم بارود کے ایک ڈھیر پر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں ، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے لوگ موقع ملنے کے منتظر ہیں ، ذاتی دشمنیاں پالی جارہی ہیں ، پرانے حساب چکتا کئے جارہے ہیں ، بعض گرگ باراں دیدہ نام نہاد سیاستدان اپنے پرانے زخموں سے اٹھتی ہوئی ٹیسوں سے اس قدر برافروختہ ہیں کہ خود تو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، مگر ان کی سوچوں پر شیطان غلبہ پا چکا ہے اور وہ دوسروں کے کاندھے پر بندوق رکھ کر شکار کر رہے ہیں ، ان کی چالوں سے بے خبر لوگ آجکل تحریک چلانے کی دھمکیاں دیکر ملک میں افراتفری کی کیفیت پیدا کر رہے ہیں ۔ مد مقابل بھی کم نہیں ہیں ، وہ ایک عرصے سے ملکی سیاست کے گروہیں ، جوابی وار سے کب چوک سکتے ہیں ، انہوں نے بھی لگتا ہے چو مکھی لڑائی لڑنے کا تہیہ کر لیا ہے ، وہ اداروں کے حوالے سے جس صورتحال کو ہوا دے رہے ہیں اس سے بھی منفی تاثر میں اضافہ تو ہو سکتا ہے مگر ظاہر ہے نتیجہ حسب منشاء نہیں آسکتا ، دریں حالات قومی تقاضے کو ملحوظ خاطر رکھنا اہم ہے
راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا
رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں
دل خون کے آنسو نہ روئے توکیا کرے ، اب وہ رہنما کہاں ہیں جو ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دیتے تھے ۔ جو قوم کی رہنمائی کر کے انہیں منزل مقصود تک لے جانے کی سعی کرتے ہوئے نوجوان نسل کی تربیت کرتے تھے ۔ جو عالمی ریشہ دوانیوں سے قوم کو بروقت خبردار کرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار کرتے تھے ، معاف کیجئے گا اب تو سیاست کو بھی طبلے کی تھاپ اور گھنگھرئوں کے جھنکار سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے ، بات کرو ، غلطی کا احساس دلائو تو لیڈر وں کا لائو لشکر لٹھ لیکر پیچھے پڑ جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی اٹھا کر وہ مغلظات بکتا ہے کہ آدمی کی عزت سادات خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ مگرکیا کیا جائے ، عادت پڑ جائے تو اس سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے اور بقول شاعر
ہم کو عادت ہے مسکرانے کی ، یعنی ہم اپنی وضع بدلنے سے تو رہے چاہے انہیں اپنی خو چھوڑنے پر آمادہ نہ کر سکیں، اسی لئے تو ان دنوں یہ جو سیاسی میدان میں تحریک چلانے اور جواب میں اسی لہجے میں للکارنے کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے ، اس سے تحریک چلنے کی کوئی صورت تو دکھائی نہیں دیتی کیونکہ دھمکی دینے والے بھی اپنی صفوں تک محدود رہیں گے اور دوسرے طبقوں اور گروہوں کو ساتھ ملانے کی سوچ ، سوچ ہی رہے گی ۔ البتہ اس سے خانہ جنگی ضرور پیدا ہوگی ، جو نہ قومی مفاد میں ہے نہ ہی ملکی سا لمیت کے تقاضوں پر پوری اتر سکتی ہے ، سیاست کو سیاست ہی رہنے دیں ،ذاتی دشمنیوں سے آلودہ مت کیجئے ۔

اداریہ