Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ظالموں کی بہت سی عبرتناک مثالیں موجود ہیں ۔مثلاً عامر بن طفیل رسول اقدس ؐ کی جان کا دشمن تھا آپؐ کو شہید کرنا چاہتا تھا ۔ آپ ؐ نے اسے بد دعا دی تو رب تعالیٰ نے اس کے حلق میں گلٹی نکال دی ، جس سے وہ دردو الم میں چیختا ہوا مرگیا ۔ اربدین قیس رسول اکرمؐ کو ایذاد یتا تھا ۔ آپ ؐ نے اس کو بد دعا دی ، رب تعالیٰ نے اس پر اور اس کے اونٹ پر بجلی گرادی ۔ حجاج جب سعید بن جبیرؒ کو قتل کرتا ہے تو شہادت سے چند منٹ پہلے سعید ؒ اسے بد دعا دیتے ہیں : خدا یا ! اس کو میرے بعد کسی پر مسلط نہ کرنا ۔ چنانچہ حجاج کے ہاتھ میں پھوڑ ا نکل آیا ، جو پورے بدن میں پھیل گیا ۔ اس کے منہ سے بیل کی سی آوازیں نکلتی تھیں ، پھر افسوسناک حالت میں مر گیا ۔ سفیان ثوری ؒ خلیفہ منصور کے خوف سے چھپ گئے ۔ منصور حرم مکی میں داخل ہونے کے ارادے سے چلا ۔جس میں حضرت سفیان ثوری ؒ چھپے ہوئے تھے ، حضرت سفیان ؒنے گڑ گڑا کر کعبہ کے پردے پکڑے ، دعا کی کہ خدایا ! منصور کو کعبہ میں داخل ہونے نہ دینا ۔ چنانچہ وہ مکہ داخل ہونے سے پہلے ہی بئر میمون کے نزدیک مرگیا ۔

معتزلی قاضی نے امام احمد بن حنبل ؒ کو تکلیفیں دینے میں حصہ لیا ۔ امام صاحب کی بد دعا سے اس پرفالج گرا ۔ وہ کہا کرتا تھا کہ میرے نصف بدن پر مکھی گر جائے توقیامت معلوم ہوتی ہے ۔ لیکن آدھے جسم کو قینچیوں سے بھی کاٹ دیا جائے توپتہ نہیں چلتا ۔ احمد بن حنبل ؒ نے وزیر ابن زیاد کو بھی بد دعا دی ۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے اس پر ایسا آدمی مسلط کردیا ، جس نے اسے پکڑ کر آگ میں ڈال دیا اور اس کے سر میں کھیلیں گاڑدیں ۔ مصر کے سابق صدر جمال دین الناصر نے صالح مسلمانوں کو جیل میں ڈال دیا ، جہاں موذی حمزہ الیسیونی انہیں طرح طرح کے عذاب دیتا اور گستاخی سے کہتا’’تمہارا خدا کہا ںہے ؟ میں اسے بھی زنجیر میں جکڑ دوں گا ‘‘ (نعوذباللہ )۔ وہ قاہرہ سے اسکندریہ جارہا تھا ، اس کی کار ٹرک سے ٹکڑا گئی ۔

ٹرک میں لوہا تھا ، اس کے جسم میں سر سے پائوں تک لوہا گھس گیا ، جسے بڑی مشقت سے جسم سے نکالا گیا ، نکالنے میں پورا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ۔

حق تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’کہنے لگے ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے ، کیا انہوں نے نہیں دیکھا خدا ، جس نے پیدا کیا ہے وہ زیادہ قوت والا ہے ‘‘۔ مظلوم کی بد دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں ۔ (بحوالہ : غم نہ کریں )

حضرت دائود طائی ؒ نے بیس دینار میراث میں پائے تھے ، ان کو بیس سال تک کھاتے رہے ، آپ روٹی کو چبا کرنہ کھاتے تھے بلکہ گھول کر پی لیتے تھے ، آپ فرماتے کہ روٹی چبانے میں جس قدروقت صرف ہوتا ہے ، اتنی دیر میں قرآن شریف کی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہوں ، کیا ضرورت کہ وقت کو ضائع کروں ،اس لئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے ۔

(مخزن صفحہ 300)

متعلقہ خبریں