Daily Mashriq

تاریخی قلعہ بالاحصار کو مرکز سیاحت بنانے کا فیصلہ اور تقاضے

تاریخی قلعہ بالاحصار کو مرکز سیاحت بنانے کا فیصلہ اور تقاضے

اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ قلعہ بالاحصار صدیوں سے اس صوبے اور خاص طور پر اس شہر کا ورثہ ہے جسے عوام اور سیاحوں کیلئے کھولنے کی افادیت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ قلعہ بالاحصار کی ایف سی کیلئے اہمیت اور ضرورت سے بھی انکار ممکن نہیں بلکہ ایف سی نے اس کی حفاظت ومرمت اور بڑی حد تک اصلی صورت میں برقرار رکھنے میں جو کردار ادا کیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس تاریخی قلعے کے اردگرد تجاوزات سے لیکر اس تاریخی حیثیت کے حامل عمارت کی داخلی ہیت میں نجانے کیا تبدیلی آتی۔ شہر میں قومی ورثہ جات کا حلیہ بگاڑنے کا جو عمل تسلسل کیساتھ جاری ہے اس میں شہری تو برابر کے قصوروار ہیں ہی ثقافت وسیاحت اور شہری ادارے اور ضلعی انتظامیہ یعنی پوری حکومتی مشینری کی روایتی غفلت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسجد مہابت خان جیسے تاریخی مسجد کے تحفظ وبحالی کیلئے متعلقہ محکمے کی تیاریاں بھی مکمل ہیں جبکہ فنڈز بھی مختص کئے جا چکے ہیں مگر اردگرد کی دکانیں خالی نہ کئے جانے کے باعث مسجد کی عمارت اور میناروں کی بنیادوںکی بحالی ومرمت کا کام ممکن نہیں، جس کے باعث مینار جھکتے جا رہے ہیں اور کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے وگرنہ شہر میں اس قسم کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ جس شہر کے لوگ اور جس شہر کی انتظامیہ اور حکمران اپنے ہاتھوں شہر کے درپے ہوں تو اس شہر میں قدیم طرز زندگی، اس کے آثار اور ثقافتی ورثہ کے تحفظ کی کس سے توقع رکھی جائے لیکن مقام اطمینان یہ ہے کہ صورتحال کا قدرے احساس دکھائی دیتا ہے اور حکومتی اقدامات سے موہوم سی اُمید پیدا ہو رہی ہے۔ اس امر کے اعتراف میں کوئی حرج نہیں کہ خیبر پختونخوا میں تاریخی عمارتوں اور تاریخ وثقافت اور شہری قدیم اثاثوں کے تحفظ کا شعور ہی اب اُجاگر ہونے لگا ہے جو تگ ودو اس وقت نظر آتی ہے اگر یہی مساعی ایک دو دہائی قبل کی جا رہی ہوتیں تو آج صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ کے طول وعرض میں تاریخی وثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کی صورتحال مختلف ہوتی اور مٹتی ثقافت کا خطرہ درپیش نہ ہوتا۔ بہرحال جو ہو چکا سو ہو چکا، اس وقت خیبر پختونخوا کی حکومت اس ضمن میں جو سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اس سے اس امر کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ صوبے میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیاحت کے فروغ میں کامیابی ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قلعہ بالاحصار کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر جو سفارشات مرتب کی گئی ہیں ان پر عملدرآمد میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں ماضی میں بھی اجلاس اور مشاورت بہت ہو چکی ہیں سفارشات بھی مرتب ہوئے ہوں گے لیکن عملدرآمد کی نوبت آج تک نہیں آئی۔ ایک مرتبہ پھر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تاریخی اہمیت کی حامل قلعہ بالاحصار کو سیاحتی مرکز بنانے سے متعلق اعلان کے بعد فرنٹیئر کور (ایف سی) نے سفارشات اور تجاویز تیار کر لی ہیں جس کے مطابق قلعہ بالاحصار کو عوامی تفریح کا مرکز بنانے اور دیگر سہولیات فراہمی کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ سیاحوں کو قلعہ بالاحصار کی اہمیت اور ایف سی شہداء کے حوالے سے معلومات دی جائیںگی۔ بالاحصار میں میوزیم اور یادگار شہداء تعمیر کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ تیارکردہ سفارشات میں قلعہ بالاحصار میں داخلے کی انٹری فیس، کیفے ٹیریا، لیکچر ہال، لائبریری، نمائشی گیلری اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی، ابتدائی طور پر قلعہ ہر اتوار کو عوام کیلئے کھولنے اور میوزیم اور یادگار شہداء تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ قلعہ بالاحصار میں سرکاری تقریبات منعقد کرانے اور قلعے کو محفوظ رکھنے کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنڈز مختص کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ محکمہ سیاحت سات دن کے اندر قلعہ بالاحصار کو عوام کی سیر وتفریح کیلئے کھولنے سے متعلق ایک ہفتہ میں سفارشات مرتب کرے گی اور جونہی محکمہ سیاحت اپنی سفارشات تیار کرتی ہے تو ایف سی اور محکمہ سیاحت کی تیارکردہ سفارشات صوبائی حکومت اور بعدازاں وزیراعظم عمران خان کو پیش کئے جائیںگے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قلعہ بالاحصار کو جتنا جلد سیاحوں کیلئے کھولا جائے بہتر ہوگا۔ ایسا کرتے ہوئے اس کے تحفظ اور اس ورثے کو خراب اور خستگی سے بچانے کیلئے بھی پوری طرح سے منصوبہ بندی کی جائے۔ اس مقام کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی اس کے آس پاس کی اراضی کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہونا چاہئے۔ محکمہ سیاحت کے حکام کو اپنی سفارشات میں اولین نکتہ اس کی اصل حالت میں حفاظت اور سیاحوں کو اس حوالے سے بہتر معلومات کی فراہمی کو اولیت دینی چاہئے۔ تاریخی مقامات میں یادگار، میوزیم اور لائبریری کے قیام کی تو گنجائش ہے کیفے ٹیریا اور عوامی وسرکاری تقریبات کا انعقاد احسن نہ ہوگا۔ ایف سی کی تجاویز سے محکمہ سیاحت کے حکام کا اتفاق ضروری نہیں بلکہ ثقافتی وسیاحتی ماہرین جو تجاویز دیں وزیراعظم بہرحال انہی کو اولیت دیں گے۔ البتہ اس بارے دورائے نہیں کہ اس کا انتظام ایف سی ہیڈکوارٹر کی حیثیت سے نہیں بلکہ جذباتی وابستگی کی بناء پر اس کی حفاظت ونگرانی کی ذمہ داری میں اگر ایف سی کو شریک کیا جائے یا پھر اس کا انتظام ایف سی کے پاس رہنے دیا جائے تو اس کی حفاظت اور بہتر حالت میں رہنے کے تناظر میں احسن ضرور ہوگا۔

متعلقہ خبریں