Daily Mashriq

عوام کے مسائل عوام کی زبانی

عوام کے مسائل عوام کی زبانی

مشرق ٹی وی کی ٹیم نے نوتھیہ کے علاقے میں فورم کا انعقاد کر کے عوام کے مسائل عوام کی زبانی کی جو کاوش کی ہے یہ احسن سعی ہے جس سے میڈیا کا مثبت کردار ہی اُجاگر نہیں ہوتا بلکہ یہ عوام کی بھی بڑی خدمت ہے اور اگر دیکھا جائے تو یہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام اور حکمرانوں کے کام میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش ہے جن کو ماتحت اداروں اور عملے کے کردار وعمل کا حقیقی چہرہ دکھایا جاتا ہے اور وہ اپنے محکمے حلقے اور شہر کے مسائل سے بآسانی واقف بھی ہوتے ہیں اور عوامی ردعمل سے آگاہی بھی حاصل ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کیمرے کی آنکھ اور زبان خلق کا متبادل کچھ اور ممکن ہی نہیں لیکن اگر اس کے باوجود حکمران اور متعلقہ اداروں کے حکام ٹس سے مس نہ ہوں تو اس کا کوئی حل نہیں سوائے اس کے کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔ نوتھیہ قدیم میں آئس کے دھندے اور نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کی شکایت صرف اس ایک علاقے ہی کا مسئلہ نہیں پورے شہر اور پورے صوبے میں منشیات کے دھندے کے باعث ہزاروں، لاکھوں زندگیاں اور افراد اور خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں میگا فون لگا کر اشیاء بیچنے والوں سے نہ صرف لوگوں کا سکون وآرام غارت ہو جاتا ہے بلکہ اس کی آڑ میں جو دھندہ ہوتا ہے وہ زیادہ تکلیف کا باعث امر ہے۔ شہر کے بعض مہنگے علاقوں میں جہاں دکانوں کے کرائے لاکھ روپے سے کم نہیں بلکہ زائد ہیں وہاں کے بعض عاقبت نااندیش تاجروں کے بھی منشیات فروشی میں ملوث ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔ ریلوے لائن پر تجاوزات بھی صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں، جہاں جہاں ریلوے لائن گزرتی ہے تجاوزات اور غیرقانونی آبادی سے خالی نہیں۔ اسی طرح نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہے، گزشتہ حکومت نے شاپنگ بیگز کی تیاری وفروخت پر پابندی لگائی تھی مگر ہنوز یہ دھندہ جاری ہے اور نکاسی آب کے نالوں کی بندش کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ اس ضمن میں ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے کے حکام کو بھی صوبائی حکومت سے شکایت لیکر رجوع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبائی حکومت ان کو درپیش مسئلے کے حل کیلئے بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔ ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کیلئے دو ڈسپنسریاں اور ادویات کی ناپیدگی علاقے کے تناظر میں اتنا سنگین مسئلہ نہیں جتنا اضلاع میں ہوتا ہے کیونکہ علاقے کے عوام تھوڑی سی زحمت کر کے بڑے ہسپتال پہنچ سکتے ہیں لیکن بہرحال یہ مسئلہ حل طلب ضرور ہے۔ شہید آصف باغی پارک کی بھینسوں کے باڑے میں تبدیلی کی شکایات باربار پہلے بھی کی جاتی رہیں جس کا عدم حل اس امر پر دال ہے کہ متعلقہ حکام کی نظر میں یہ کوئی مسئلہ نہیں، ورنہ جہاں بچوں کو کھیلنے کا موقع دینا چاہئے وہاں بھینسوں کا باڑہ بننے پر وہ خاموشی تو نہ اختیار کرتے۔ علاقہ ایس ایچ او کی فورم میں آمد سے گریز ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس اپنی دفاع میں کچھ کہنے کیلئے نہ ہوگا وگرنہ میڈیا کے سوالوں اور عوام کی شکایات کو رفع کرنے میں امر مانع کیا تھا؟۔

ٹریفک حکام کی ڈھٹائی رپورٹ

ٹریفک حکام کا ضلع کونسل کے اجلاس میں پچاس ہزار رجسٹرڈ رکشوں کی موجودگی کا اعتراف ہی کافی نہیں امر واقع یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں صرف غیررجسٹرڈ رکشے ہی نہیں چلتے بلکہ انہی ٹریفک پولیس افسران اور عملے کی غیرقانونی ویگنیں اور ٹیکسیاں بھی چلتی ہیں۔ ایس پی ٹریفک بجائے مسئلے کے حل میں سنجیدگی اختیار کرنے کے حیرت انگیز طور پر بی آر ٹی کی تکمیل کے بعد صورتحال کی بہتری کا مسژدہ سنا رہے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی آر ٹی کی تکمیل سے ٹریفک نظام میں آنے والی ممکنہ بہتری میں ٹریفک پولیس کا کارنامہ کیا ہوگا۔ ٹریفک پولیس کے حکام چاہیں تو اپنے ہی ماتحتوں اور ذاتی غیرقانونی ٹرانسپورٹ اور اڈوں کیخلاف کارروائی کر کے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ اگر کھنچاتانی کی بجائے اپنے اپنے فرائض پر توجہ دیں اور ذمہ دارانہ کردار اپنائیں تو شہر میں ٹریفک مسائل میں کمی اور ٹریفک کے اژدھام کو روانی میں بدلنا ممکن ہوگا یا پھر کم ازکم بہتری ضرور ممکن ہے۔ عوامی نمائندوں کو ٹریفک پولیس کے حکام کی بریفنگ اور ان کے نقطۂ نظر کو سننے پر اکتفا کرنے کی بجائے ان کی ناکامی، غفلت اور کوتاہیوں کی جواب طلبی اور ان کیخلاف کارروائی کی حکومت کو سفارش کرنی چاہئے۔ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے والی صورتحال جاری رہے گی اور عوامی شکایات ومشکلات کا ازالہ ممکن نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں