Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

محکمہ تعلیم خیبر کے سابق افسر کے تین بیٹوں کا متعلقہ محکمے میں جعلی طور پر بھرتی اور پندرہ سال تنخواہوں کی وصولی ان لوگوں کیلئے اچھنبے کا باعث ضرور ہوگا جن کو فاٹا سکریٹریٹ اور سابق فاٹا میں سرکاری ملازمین کے بارے میں آگاہی نہ ہو۔ قبائلی اضلاع میں چھان بین کی جائے تو ایسے سکول اور ایسے ملازمین قدم قدم پر ملیں گے جن کی عمارت اور ان افراد کا یا تو وجود نہ ہوگا یا پھر ہو تو ان عمارتوں میں حجرہ یا مویشی خانہ اور ملازمین کی موجودگی تنخواہوں کی فہرست تک تو ہوگی مگر انہوں نے اس دفتر میں جہاں وہ کام کر رہا ہے کبھی Joining Report کیلئے بھی نہیں گیا ہوگا۔ یہ کوئی سنی سنائی کہانی نہیں۔ ہمارے وہ مہربان آج بھی موجود ہیں جو یہ آپ بیتی سناتے ہیں اگر نیب یا کسی تحقیقاتی ادارے کو اس کہانی کے کرداروں سے رابطہ کرنا ہو تو رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ فاٹا کے مختلف علاقوں میں دستکاری وکشیدہ کاری کے خواتین انسٹرکٹروںکی آسامیاں مشتہر ہوئیں۔ ایک خاتون نے درخواست جمع کرا دی تو کال نہ آئی، خاتون ریٹائر ہونیوالے اسسٹنٹ یا ڈپٹی ڈائریکٹر کے علاقے کی رہائشی تھی۔ مدت ملازمت کے آخری دنوں کے پورے ہونے کے منتظر، نہ صرف نیک وپارسا شخص تھے بلکہ ہمدردی کا جذبہ رکھنے کی شہرت بھی رکھتے تھے، بہرحال انہوں نے جاتے جاتے اس خاتون کی درخواست ملازمت کو گم ہونے نہ دیا، ان کی سبکدوشی کے بعد خاتون کو تجوڑی کے علاقے میں ایک دستکاری سنٹر کیلئے انٹرویو دینے لکی مروت کے ڈی سی آفس طلب کیا گیا۔ واضح رہے یہ وہ ایام تھے جب اغواکار ارسل کی جانب سے حافظ قرآن خاتون تک پر مظالم ڈھانے کی گونج تھی۔ لوگ تجوڑی جو ایف آر لکی مروت میں ہے کا نام لینے سے بھی گھبراتے تھے، گوکہ خاتون کا تعلق ایک ایسے علاقے سے تھا جہاں کے لوگوں کیلئے اس قسم کے علاقے تک رسائی بھی مشکل تھی کجا کہ وہاں جا کر کوئی ملازمت کرے۔ خاتون کا شوہر ایک ایسے ادارے سے منسلک تھا جس کا دائرہ کار پورے صوبے کے اضلاع تک ہی نہیں بلکہ ایک مکمل وموثر نیٹ ورک کا حامل بھی تھا۔ بہرحال خاتون لکی مروت پہنچی صبح معلوم ہوا کہ وہ انٹرویو توکینسل کر دیا گیا تھا۔ بہرحال خاتون نے ہار نہ مانی تو ان کو میرانشاہ کا کہا گیا، خاتون وہاں نہ صرف بآسانی گئیں بلکہ درپہ خیل کے ایک بااثر خاندان سے اپنے شوہر کے روابط کے باعث محافظین کیساتھ کینٹ میں واقع انٹرویو کے مقام پہنچ کر فاٹا سکریٹریت کے عملے کو حیرت زدہ کر دیا۔ مختصر مجبوراً ان کی تقرری کردی گئی مگر جب بھی خاتون فاٹا سکریٹریٹ سے شمالی وزیرستان میں اس دفتر کا پتہ پوچھتی جہاں جا کر ان کو دستکاری سکھانا تھی تو بتانے سے گریز کیا گیا، اُلٹا فاٹا سکریٹریٹ کے عملے نے احسان جتاتے ہوئے کہا کہ بہن جی ادھر جا کر Joining Report کی زحمت کی کیا ضرورت ہے، بس سمجھ لیں آپ نے وہاں رپورٹ دیدی اور بیٹھے بٹھائے تنخواہ بنک آف خیبر کے چوک یادگار برانچ کے اکاؤنٹ میں آنے لگی۔

متعلقہ خبریں