Daily Mashriq

معیشت میں فوری تحرک

معیشت میں فوری تحرک

عمران خان نے وفاقی ایوان صنعت وتجارت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک جو غلطیاں ہوئی ہیں وہ انہیں ٹھیک کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی ٹیم کی اب تک کی جو کارکردگی رہی ہے اس میں یہ واضح نہیںہو سکا۔ عمران خان کی تحریک انصاف نے ماضی کے ادوار میں کرپشن کے فروغ کی تشخیص کی اور کرپشن کے خاتمے کو اپنی مہم کا اہم حصہ قرار دیا لیکن آج کاروبار حکومت میں جس وسیع آگہی کی ضرورت ہو سکتی تھی اس سے آگاہی کیلئے ایسی کوششیں نہیںکیں جن کے نتیجے میں حکومت کے قائم ہوتے ہی مثبت تبدیلی واضح صورت میں سامنے آ سکتی۔ وزیراعظم نے خود ابتدائی سو دن کی کارکردگی پیش کرنے کا اعلان کیا اور اس مدت کے مکمل ہو جانے کے بعد انہوں نے کہا کہ ابھی مثبت تبدیلی کے محسوس ہونے میں مزید مدت درکار ہو گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے انتخابات سے پہلے پارٹی کی شیڈو گورنمنٹ نہیں بنائی جس کے ارکان اس وقت کی حکومت کی غلطیوں کا اندازہ کرتے رہتے اور ان ممکنہ اقدامات پر غور کرتے رہتے جو حکومت ملنے کے بعد انہیںکرنے چاہئیں تھے۔ عقل مند آدمی اپنی غلطیوں کی بجائے دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ صرف ایک اسد عمر کو مستقبل کا وزیر خزانہ نامزد کیا گیا ۔ حکومت میں آنے کے بعد ایک طرف کہا جاتا رہا کہ آئی ایم ایف سے مدد نہیں لی جائے گی اور دوست ملکوں کی مدد سے ادائیگیوں کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل کیاجائے گا لیکن اس کیساتھ ساتھ وزیر خزانہ یہ بھی کہتے رہے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔ یہ کہا جاتا رہا کہ آئی ایم ایف سے کم بوجھ کا پروگرام حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس بحث میں تین ماہ گزر گئے لیکن آئی ایم ایف سے قطعی مذاکرات نہیں ہو پائے۔ یہ مطالعہ پہلے مکمل ہو جانا چاہیے تھا کہ آئی ایم ایف سے کتنی مدد درکار ہو گی اور اس کے نتیجے میں عوام کی تنگ دستی میں کتنا اضافہ ہو گا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف سے مدد لینے کے بعد دیگر بین الاقوامی اداروں سے قرض لینے میں آسانی ہو جائے گی اور ان قرضوںکے بل پر ملک کی معیشت کو استوار کیا جائے گا۔ یہ حقیقت تسلیم کہ آج کی دنیا میں معاشی پالیسی اور قرض کو الگ نہیں کیاجا سکتا لیکن فیصلے بروقت ہو جائیں تو کنفیوژن دور ہو جاتا ہے جبکہ گومگو کی کیفیت معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ ضروری ہونا چاہیے کہ حکومت آئی ایم ایف سے جو بھی معاملت کرنا چاہتی ہے وہ کر لے تاکہ صنعت کار اور تاجر اپنی ترجیحات طے کریں اور کاروبار آگے بڑھیں۔ وزیر اعظم نے ایک تشخیص یہ کی ہے کہ سابقہ حکومتوں نے صنعت پر مناسب توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے برآمدات کو فروغ حاصل نہیںہوا اور نتیجہ یہ نکلا کہ تجارتی خسارے کے باعث قرضوں میں اضافہ ہوتا رہا۔

سابقہ حکومتوں نے عوام کااعتماد قائم رکھنے کے لیے ڈالر کی قیمت کم رکھنے کی خاطر آٹھ ارب ڈالر خرچ کر دیے۔ یہ سب کچھ بجا لیکن اس صورت حال کو ٹھیک کرنے کے لیے کیا محض یہ ضروری تھا کہ ڈالر کی قیمت کو کھلا چھوڑ کر عوام کی قوت خرید میں تیس بتیس فیصد کمی کر دی جائے۔ سابقہ حکومتوں کی غلطیوں سے سیکھنے کا مطلب یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کی غلطیوں کی سزا عوام کو دینے کی بجائے ماہرین کی مدد سے کوئی ایسا راستہ اختیار کیا جاتا جس سے عوام کی تنگ دستی میں یکایک اس قدر اضافہ نہ ہوتا۔ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ وہ صنعتوں کو بہتر کریںگے اور برآمد کنندگان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی صنعتکار پاکستان میں سرمایہ لگانے پر تیار ہیں۔ انہوں نے تیل اور گیس کی امریکی کمپنی ایکسن کا ذکر کیا ہے اور کاریں بنانے والی متعدد کمپنیوں کا ذکر کیا ہے جو پاکستان میں کاریں بنانے کے کارخانے لگانے پر آمادہ ہیں۔ ایکسن کمپنی کب سمندر کی تہہ میں تیل کے متوقع ذخائر تک پہنچے گی اور کب تیل کی پیداوار شروع ہو گی۔ یہ دیر طلب کام ہے اور پھر یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کن شرائط پر معاہدہ طے پا ئے گا۔ جو تیل نکلے گا وہ محض پاکستان میں صرف ہو گا یا کمپنی اسے کسی اور ملک کو بھی فروخت کرنے کے لیے آزاد ہو گی۔ کاریں بنانے والی کمپنیاں کب تک پاکستان میںکارخانے لگا سکیں گی ان کے لیے افرادی قوت کی تربیت کب مکمل ہو گی اور کاریں کب تیار ہونے لگیں گی اور کب برآمدہو ں گی یہ بھی دیر طلب کام ہے۔ پاکستان کی معیشت کو جلد از جلد تیز رفتار تحرک کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر برآمدی شعبہ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں زراعت کے لیے کہیں سے مہارت‘ ٹیکنالوجی اور تجربہ لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ برآمدی زرعی پیداوار پر فوری توجہ دی جائے تو اس سے جلدزرِمبادلہ حاصل ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے کھاد ‘ بیج اور بجلی کی قیمت کم کرنا ہو گی۔ حکومت کو ان پر سبسڈی دینا ہو گی ‘ کسانوں کو قرضے فراہم کرنے ہوں گے۔ چینی ‘ گندم اور کپاس کی فصلیں زرِ مبادلہ کما سکتی ہیں ان کی پیداواری لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکسٹائل میں ہمارے ملک کا بڑا نام تھا۔ اس کے کارخانے اور مہارت یافتہ افرادی قوت اب بھی موجود ہیں ۔ اس صنعت کی پیداواری لاگت میں کمی کرنے سے یہ بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ کر سکتی ہے۔ نئی صنعتیں ضرور لگنی چاہئیں لیکن ترجیحات قائم کرتے ہوئے ان شعبوں پر توجہ دی جانی ضروری ہے جن میں تربیت یافتہ افرادی قوت اور تجربہ کار کارخانے دار اور کاروباری موجود ہیں۔ ایوان صنعت و تجارت اس حوالے سے مشاورت فراہم کر سکتا ہے جو حاصل کی جانی چاہیے ۔ خود وزیر اعظم یہ کہتے رہے ہیں کہ کاروباری طبقوں سے مشاورت کے ذریعے پالیسیاں بنائی جائیں گی اس کے لیے آئی ایم ایف سے جتنی جلدی معاملت مکمل ہو جائے اور اس میں برآمدی زراعت اور صنعت کے لیے آسانیاں حاصل کی جا سکیں تو مسائل جلد حل ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں