Daily Mashriq

برٹرینڈ رسل اور ژاں پال سارترے کہاں ہیں؟

برٹرینڈ رسل اور ژاں پال سارترے کہاں ہیں؟

دنیا کو ایک اور برٹرینڈ رسل، ایک اور ژاں پال سارترے کی ضرورت ہے، ایک اور محمود علی قصوری کی تلاش ہے، اگرچہ خود بھارت کے اندر سے ایک آواز اُٹھی ضرور ہے مگر جو کردار برطانیہ کے فلسفی برٹرینڈ رسل اور فرانس کے ژاں سارترے نے ادا کیا اور ویت نام میں امریکی جارحیت پر امریکہ کیخلاف بین الاقوامی سطح پر تحقیقاتی کمیشن قائم کرکے اس پر بربریت کے الزامات میں مقدمہ چلانے کیلئے جنگی ٹربیونل میں دنیا کے اہم ممالک سے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اس ٹربیونل میں شامل کیا، جس میں پاکستان سے میاں محمود علی قصوری شامل تھے، وہ انسانی عظمت کے ایک روشن باب کی طرح آج بھی تاریخ کے ماتھے پر جگمگا رہا ہے۔ برطانیہ میں برٹرینڈ رسل کا جو مقام تھا وہ رسل عالمی سطح پر ایک عظیم مفکر کے طور پر برطانیہ کیلئے قابل فخر تھا۔ اسی طرح فرانس میں ژاں پال سارترے کی آزادی فکر سے تنگ آتے ہوئے ایک طبقے نے اس وقت کے صدر ڈیگال سے بارہا شکایت کی کہ وہ سارترے کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کریں مگر صدر ڈیگال نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا۔ کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ میں ’’فرانس کو ہتھکڑیاں پہناؤں؟ سارترے تو فرانس ہے‘‘۔ ادھر پاکستان میں میاں محمود علی قصوری بھی ایوبی آمریت کے سخت ناقدین میں سے تھے اور یوں برٹرینڈ رسل، سارترے اور ان کے دوسرے ممبران ٹربیونل نے امریکہ پر ویت نام میں جنگی جرائم کا بین الاقوامی سطح پر مقدمہ قائم کرکے امریکہ کو نہ صرف جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا بلکہ اسے اپنی افواج ویت نام سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ بھی سنا دیا۔ یہاں تک کہ امریکہ کے اندر بھی رائے عامہ بیدار کرنے میں اس ٹربیونل نے اہم کردار ادا کیا۔ سعید دوشی نے کہا تھا

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر

گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

ضمیر مردہ ہو چکے ہیں، سچ بولنے والوں کا کال پڑا ہے، بھارتی آرمی چیف نے اپنی افواج کو نہتے کشمیریوں پر سیدھی سیدھی گولیاں چلانے کا حکم دیکر انسانیت کو شرمندگی کی اتاہ گہرائیوں میں دفن کر دیا ہے، ایک ٹی وی انٹرویو میں جنرل بپن نے نہایت ڈھٹائی سے کہا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ ہاتھوں میں پتھر اُٹھانے والوں کو دہشتگرد قرار نہیں دیا جاسکتا اس کے باوجود میں نے انڈین آرمی کے جوانوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ انہیں سیدھی سیدھی گولی ماریں، گویا وہ جو گزشتہ کئی مہینوں سے بے گناہ کشمیریوں پر پیلٹ گنز سے حملے کر کے کشمیریوں کو آنکھوں سے محروم کرنے کی کارروائیاں جاری تھیں ان پر بھی بھارتی جنرل کا دل ٹھنڈا نہیں ہوا اور گزشتہ روز براہ راست گولیاں برسا کر کئی مظاہرین کو شہید کرنے پر بھی موصوف کو نہ افسوس ہوا نہ شرمندگی بلکہ اس بربریت کو جاری رکھنے کی نئی پالیسی متعارف کروا دی ہے جنرل بپن نے۔ ہماری قومی اسمبلی نے البتہ قرارداد مذمت سے کام چلاتے ہوئے اس پالیسی کا اعادہ ضرور کر دیا ہے جو شروع ہی سے ہم نے اختیار کی ہوئی ہے کہ ہم کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی طور پر پشتبانی جاری رکھیں گے، او آئی سی نے بھی گزشتہ روز کے واقعے کی مذمت کر کے خود کو ایک بار پھر ’’اوہ آئی سی‘‘ کی پوزیشن برقرار رکھنے کا تکلف کر ہی لیا ہے کیونکہ متاثرین کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت سے مزید کیا نتیجہ نکالا جا سکتا ہے ماسوائے ’’Oh I See‘‘ کے، سو وہ نتیجہ نکل آیا ہے۔ یعنی بقول حسن نثار

مرا حسینؓ ابھی کربلا نہیں پہنچا

میں حرؓ ہوں اور ابھی لشکر یزید میں ہوں

وہ جو کردار امریکہ نے ویت نام سے اختیار کر رکھا تھا وہ اب بھی جاری ہے حالانکہ تب امریکہ پاکستان کیساتھ تعلقات کی وجہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا حامی تھا اور سابق سوویت یونین ہی کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل میں لائی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کر دیتا تھا۔ آج جبکہ سوویت یونین کے ٹکڑے ہو چکے ہیں اور روس نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ کسی نئی آنے والی قرارداد کو ویٹو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے مگر آج ویت نام سے شروع ہوئی جارحیت امریکی سرپرستی میں کہیں بالواسطہ اور کہیں بلاواسطہ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری ہے، افغانستان میں امریکہ خود ملوث ہے، کشمیر میں انسانیت کیخلاف جنگی جرائم بھارت کر رہا ہے جبکہ اس کی پشت پر امریکہ پوری طرح موجود ہے اور بھارت کے اس بیانیہ کی مکمل حمایت کر رہا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ’’دہشتگردی ہے‘‘۔ دنیا کے باقی اقوام کو بھی سانپ سونگ گیا ہے اور وہ بھی خاموشی سے اس ننگی بھارتی جارحیت پر ایک لفظ تک بولنے کو تیار نہیں ہیں، آج دنیا کو ایک اور برٹرینڈ رسل ایک اور ژان پال سارترے کی تلاش ہے، اگرچہ سابق بھارتی چیف جسٹس مارکنڈے کاٹجو بھارتی افواج کے ضلع پلوامہ میں تازہ قتل عام پر اپنے ہی آرمی چیف پر پھٹ پڑے ہیں اور جنرل بپن راوت کو طنزاً مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ معصوم کشمیریوں کے قتل نے جلیاں والا باغ کے واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے۔ سابق بھارتی چیف جسٹس نے ایک مضمون میں مزید لکھا کہ بھارتی فوج کو شاباش جنہوں نے نہتے کشمیریوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے۔ اس صورتحال پر سابق بھارتی چیف جسٹس کو یہی کہا جاسکتا ہے کہ

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

یہ بھی توہین ہے عدالت کی

جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے اس سچ کے بعد دیکھتے ہیں کہ عالمی ضمیر کب جاگتا ہے اور بھارت کیخلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ قائم کرنے کیلئے رسل سارترے طرز کا کوئی ٹربیونل قائم کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں