Daily Mashriq

پودے،گومل یونیورسٹی اور شمالی اضلاع کے مسائل صحت

پودے،گومل یونیورسٹی اور شمالی اضلاع کے مسائل صحت

خدمت خلق کے اس ہفتہ وار کالم میں مختلف عوامی مسائل ارسال کرتے ہوئے بعض اوقات قارئین طویل برقی پیغامات ارسال کرتے ہیں جس کا اکثر پہلا حصہ موصول نہیں ہو پاتا بعض پیغامات پشتو میں لکھے گئے ہوتے ہیں جسے پڑھنا اور سمجھنا میرے لئے ممکن نہیں۔ کچھ پیغامات میں مسائل کے حوالے سے سمجھنا مشکل ہوتا ہے اسلئے واضح طور پر پیغام بھیجنا شمولیت کالم کی شرط ہے۔ اس کالم میں ہر مسئلے کو اہمیت دی جاتی ہے، اجتماعی مسائل پر خاص توجہ رہتی ہے۔ ایک خاتون قاری نے خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے جگہ جگہ پھلدار درخت لگانے کے منصوبے کی تحسین کرتے ہوئے اس ضمن میں استعمال شدہ صاف پانی مثلاً مساجد میں وضو اور ہوٹلوں وغیرہ میں ہاتھ دھونے کیلئے استعمال میں لائے گئے پانی کو براہ راست یا ٹینک میں ذخیرہ کر کے استعمال کرنے کے طریقۂ کار کو وضح کر کے اسے لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے تاکہ ان پودوں کی آبیاری کا بندوبست ہوسکے۔ ان کی تجویز ہے کہ جس جس علاقے میں پھلدار پودے لگائے جائیں اس علاقے کے عمائدین کی ایک کمیٹی بنا کر پودوں کی آبیاری اور نگہداشت کی ذمہ داریوں میں ان کو بھی شریک کیا جائے تاکہ سرکاری اہلکاروں کے کام میں آسانی ہونے کیساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی ہو۔ ایک قاری نے حیات آباد کے ایک پارک کے مالی کی اس گفتگو کا حوالہ دیکر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مالی کے مطابق دن میں پی ڈی اے کی طرف سے اس کو پارک میں پودے لگانے کیلئے دیئے گئے لیکن اندھیرا چھانے پر پی ڈی اے کا ایک افسر آیا اور گملے گاڑی میں رکھوا کر لے گیا۔ صرف یہی نہیں مالی کو شکایت ہے کہ وہ جتنا بھی محنت کرکے پودوں کی نگہداشت کرتا ہے پارک میں آنے والے بعض لوگ پودوں کو اکھاڑنے اور روندنے سے دریغ نہیں کرتے جس سے پارک ویران نہ ہوں گے تو کیا ہوں گے۔ انہوں نے نواب مارکیٹ کے سامنے پی ڈی اے کے عملے کی محنت سے لگائے گئے پودوں اور چمن کو ہر گزرنے والے کی طرف سے روندنے کا حوالہ دیا جو سرکاری طور پر اخراجات اور عملے کی طرف سے جدوجہد کے باوجود لاحاصل نظر آتا ہے۔ ان ساری تفصیلات پر میں سوائے افسوس کے اظہار کے کچھ نہیں کر سکتی، جب شہریوں کا رویہ یہ ہوگا کہ وہ چمن اور پودوں کی حفاظت اور اپنے بچوں کو احتیاط سے گزرنے کی تعلیم دینے کی بجائے مقررہ جگہ سے خود بدمست ہاتھیوں کی طرح سے گزریں گے تو پھلدار پودوں کو کون چھوڑے بلکہ پھلدار پودے لگانا پودوں کا ضیاع ہی ٹھہرے گا۔ گومل یونیورسٹی ٹیچنگ سٹاف کے چھیانوے ممبران کو جس میں گولڈ میڈلسٹ بھی شامل ہیں وائس چانسلر کی جانب سے اس ہدایت نامے پر سخت اعتراض ہے جس میں وائس چانسلر نے کہا ہے کہ چونکہ ان کا انتخاب 2008ء میں سلیکشن بورڈ کے ذریعے نہیں کیا گیا تھا لہٰذا وہ اس دوران وصول شدہ تنخواہیں واپس کر دیں۔ وائس چانسلر اس بنا پر تو حق بجانب ہیں کہ وہ سلیکشن بورڈ اور ضروری قانونی لوازمات پوری کئے بغیر تعینات عملے کیخلاف خواہ وہ گولڈ میڈلسٹ ہی کیوں نہ ہوں قوانین اور ضوابط کے مطابق کارروائی کریں اور ان کی تقرریوں کو باقاعدہ بنائیں، ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ عملے کا تقرر قانونی نہیں تھا۔ بہرحال اس بارے زیادہ تفصیلات کا علم نہیں اس کی نیب سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ جہاں تک وصول شدہ تنخواہوں کی واپسی کا سوال ہے یہ ایک نازک مسئلہ ہے جس میں قوانین کیساتھ ساتھ اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے چونکہ قانونی وغیرقانونی طور پر انہوں نے دس سال تک خدمات انجام دی ہیں اسلئے ان سے اس مدت کی تنخواہ کی وصولی سے عدالت بھی شائد اتفاق نہ کرے مستزاد اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کتنے افراد بھرتی کے اہل تھے اور کتنے میرٹ کے بغیر بھرتی کئے گئے۔ بہرحال وائس چانسلر کو نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور معاملے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے فواد کو شکایت ہے کہ آبادی کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے ڈویژن ڈیرہ اسماعیل خان میں دانتوں کی صحت کے حوالے سے کوئی سہولت دستیاب نہیں۔ یہاں کی سترہ لاکھ آبادی کیلئے ہسپتال میں کوئی فعال شعبہ دندان موجود نہیں۔ سترہ لاکھ کی آبادی کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور مفتی محمود ہسپتال میں صرف چار ڈینٹل سرجن تعینات ہیں جن کے پاس طبی آلات اور آلات دندان سازی کی صفائی کا کوئی بندوبست بھی نہیں۔ پورے شعبہ دندان میں ایک بھی اعلیٰ مہارت رکھنے والا ماہر ڈاکٹر نہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لکی مروت‘ کرک‘ ٹانک اور بنوں کے شعبہ ہائے دندان کی حالت اس سے بھی بدتر ہے جہاں دانتوں کے امراض کی واجبی علاج کی سہولت تو موجود ہے مگر آلات جراحی وآلات دندان سازی کی صفائی کا بندوبست نہ ہونے سے مریض ہیپاٹائٹس اور ایڈز کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں صحت کی سہولتوں کی ابتری کا جو نقشہ ہمارے قاری نے کھینچا ہے اس سے کسی طور یہ نہیں لگتا کہ گزشتہ ادوار میں اس خالص انسانی مسئلے کی طرف کسی نے توجہ دی ہو حالانکہ سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی خود بنوں کے تھے جبکہ ایم ایم اے حکومت کے باوائے آدم مولانا فضل الرحمان ڈیرہ اسماعیل خان کے مکین ہیں۔ موجودہ وزیر صحت ڈاکٹر ہشام کا تعلق بھی اسی خطے سے ہے جس کیلئے یہ شکایات کسی طور اچنبھے کا باعث اسلئے نہیں ہوں گے کہ وہ اولاً اسی علاقے کے رہائشی ہیں جبکہ دوم وہ خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں۔ اگر ان کے دور میں بھی خدا نخواستہ محولہ مسائل کے حل کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں