Daily Mashriq

پاکستان کے دردناک واقعات کی یادیں

پاکستان کے دردناک واقعات کی یادیں

14اگست1947ء کو قیام پاکستان کے بعد آج تک جتنے بھی بڑے بڑے المناک واقعات رونما ہوئے اور جس نے پاکستان کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کئے، حساس اور محب وطن پاکستانی پوری زندگی وہ ایام اور مہینے آنے پر اُن کی درد کی ٹھیس محسوس کرتے رہیں گے اور اپنے آپ سے تنہائی میں کبھی ان واقعات پر غور کرتے ہوئے اُن کے اذہان میں کتنے سوال کلبلاتے رہیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم محمد علی جناح کو کراچی ایئرپورٹ سے لانے کیلئے جو گاڑی بھیجی گئی وہ راستے ہی میں کیوں خراب ہوئی؟ ان دیکھی (Un forseen) کیلئے بطور کوراپ دوسری کوئی گاڑی ساتھ کیوں نہیں رکھی گئی۔ کیا واقعی اس کے پیچھے کوئی سازش یا ہمارے بعض تجسس اور سنسی پسند لکھاریوں وغیرہ نے یوں ہی اس گاڑی کی تقدیراً خرابی کو سازش کیساتھ جوڑ دیا اور اگر ایسی کوئی بات نہیں تھی تو پھر ایسی باتیں منصۂ شہود پر لانے کیلئے تاریخ پاکستان کی کتابوں میں نئی نسل کے قلوب واذہان میں خواہ مخواہ مخمصہ پیدا کرنے کی کوشش کیوں کی گئی۔ بابائے قوم کے جانے کے بعد اُن کے دست راست مخلص دوست اور آپ کے بعد تحریک پاکستان کے بے لوث کارکن لیاقت علی خان کو دن دیہاڑے بھرے جلسے میں کیوں شہید کیا گیا۔۔۔ آج تک قیاس آرائیوں اور موشگافیوں کے علاوہ نئی نسل کو تاریخ پاکستان کے طور پر کوئی ٹھوس اور مدلل مواد فراہم نہیں کیا گیا۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک تحریر نظر سے گزری جس میں شہید ملت کی شہادت میں اُس وقت سپرپاورز کے درمیان سیاسی چپقلشوں کو اہم وجہ قرار دیا گیا تھا۔ جنرل ایوب خان کو سکندر مرزا نے ملازمت میں توسیع کیوں اور کس کے دباؤ پر دی یہ آج تک معلوم نہ ہو سکا۔ ویسے کبھی کبھار ’’ذہنی عیاشی‘‘ کے طور پر سوچتا ہوں کہ اگر ایوب خان کو توسیع نہ ملتی تو وہ مارشل لاء نہ لاتے اور یوں شاید نوزائیدہ پاکستان جمہوریت کی پٹڑی سے نہ اُترتا اور نہ ایوب خان مارشل لاء کے دس طویل برسوں میں کشمیر کیلئے بغیر انتظامات اور دفاعی وعسکری پلاننگ کے بے تکی آپریشن جبرالٹر ہوتی اور نہ ہی 1965ء کی جنگ ہوتی اور نہ ہی بنگالیوں کو اس جنگ میں بغیر کسی دفاعی حصار کے چھوڑ کر اُن کے دلوں میں علیحدگی کے جراثیم پیدا ہوتے۔ نہ ہی ایوب مارشل لاء کے بعد یحییٰ خانی مارشل لاء آتا اور نہ مشرقی پاکستان مرحوم کی جگہ بنگلہ دیش جنم لیتا۔ اتنے اہم واقعے اور سانحے کے بارے میں حمودالرحمن کمیشن بنا بھی تو اُس کی رپورٹ کے کچھ حصے پاکستان میں منظرعام پر آنے کے بجائے بھارت سے سامنے آئے۔ہماری نئی نسل کو تاریخ پاکستان کے اس اہم ترین واقعے کے بارے میں حقیقی تفصیلات شاید کبھی فراہم نہ ہوں۔ کرنل شفیق الرحمن مرحوم نے اسی بات کو بہت شگفتہ انداز میں یوں لکھا ہے۔ ’’مغربی عورت سے شادی نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سب کے سب یہ کہتے ہیں کہ لڑکا ولایت سے میم بھگا لایا ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ اُمید بھی ظاہر کی جاتی ہے کہ انشاء اللہ میم کسی دن ضرور واپس بھاگ جائے گی‘‘ اسی طرح جب سے پاکستان بنا تھا مغربی حصے کے مقتدر حلقوں نے اس خدشے کو یقین کیساتھ بیان کرنا شروع کر دیا تھا کہ بنگالی ایک دن ہم سے الگ ہو جائیں گے۔ اتنے بڑے المئے اور سانحے کے بعد بھی ہم نہیں سنبھلے اور نہ ہی کوئی سبق سیکھا۔ 1977ء میں مرد مؤمن کا مارشل لاء آیا جس نے افغانستان کے معاملات کے ذریعے دو سپرپاورز کی دھینگا مشتی میں پاکستان کو یوں پھنسایا کہ اسی ہزار جانوں اور اربوں ڈالرز کی قربانی دیکر بھی آج تک بحال نہیں ہوسکے ہیں۔ اسی اہم واقعے کے تسلسل میں دسمبر کا مہینہ اور اس کی 16تاریخ جہاں ہم حساس لوگوں کو سقوط ڈھاکہ کے تلخ ودردناک واقعات کی یاد دلاتی ہے کہ یہ عالم اسلام کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے وہاں اے پی ایس کے فرشتہ صورت وخصلت سینکڑوں بچوں کی شہادت دلوں کو کباب کرنے کیلئے ہر سال آتی رہے گی اور ہم جیسے بے چاروں کو تو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ 16دسمبر کو پہلے سقوط ڈھاکہ اور اس کے المناک واقعات کو روئیں یا اے پی ایس کے شہداء اور اُن کے زندہ لاشوں کی مانند والدین کیساتھ غم میں شریک ہو جائیں ۔ بینظیر شہید کی شہادت ایک اور پُراسرار واقعہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کیساتھ ملکر پاکستان کی سیاست اور سماج پر ہمیشہ اپنے اُداس اثرات مرتب کرتے رہیں گے لیکن کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ ایسا کیوں اور کس نے کیا۔ وطن عزیز میں آئی ڈی پیز اور گم ہو جانے والے لوگوں کا المیہ الگ سے حساس دلوں کو صبح وشام چھیڑتا رہتا ہے لیکن ہم دعا اور احساس کے ذریعے اپنے غموں کو تازہ اور ہرا رکھنے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ فیض احمد فیض نے جہاں بنگلہ دیش کی سرزمین پر بیٹھ کر۔ ہم کہ ٹھہرے اجنبی کتنی مداراتوں کے بعد۔۔ پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد۔ لکھا وہاں ہم جیسوں کو حوصلہ دلاتے ہوئے یہ بھی لکھا

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

بس یہ سب ان واقعات کو یاد کرنے کے بہانے ہیں۔

متعلقہ خبریں