Daily Mashriq

عالمی سازشیں اور حکمت سے عاری قیادت

عالمی سازشیں اور حکمت سے عاری قیادت

قیادت میں ایمانداری اور اخلاص کیساتھ ساتھ قابلیت اور حکمت کا ہونا بھی لازمی ہے، ایمانداری اور اخلاص کے دعویدار تو بیسیوں دستیاب ہیں لیکن قابلیت اور حکمت کی حامل قیادت صدیوں بعد جنم لیتی ہے، تحریک انصاف کی قیادت نے سارا زور ایمانداری اور اخلاص پر رکھا ہے حالانکہ عالمی چال بازیوں کو سمجھنے کیلئے حکمت کی اشد ضرورت ہوتی ہے، یہ سیاست اور حکمت ہی تو ہے کہ بھارت نے عالمی دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں جبکہ کشمیریوں پر بھارت کے واضح مظالم کو ہم آج تک دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکے ہیں۔ یہ بات ہمیں ہمیشہ اپنے ذہن میں واضح رکھنی چاہئے کہ ملک کی داخلی سیاست، علاقائی تنازعات اور عالمی کشمکش آپس میں باہم منسلک ہیں۔ جس طرح قومی زندگی مختلف شعبوں میں تقسیم ہونے کے باوجود یہ شعبے ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں، اسی طرح عالمی تناظر کے بغیر ہم قومی زندگی کے اصل رخ کو نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستان میں حکومتوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تعلق بھی اسی بات سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت اگر آتی ہے تو اس کا بھی ایک عالمی تناظر ہے۔

پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کیساتھ بھی سب سے بڑا چیلنج علاقائی اور عالمی سیاست ہے۔ حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ کرے یا نہیں۔ اسی طرح ’’وار آن ٹیرر‘‘ کے حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ہیں جس نے ہماری داخلی قومی زندگی کو بری طرح تباہ کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف سے نیا قرض لیا جائے گا یا نہیں، اس کا ابھی تک تو کوئی فیصلہ ہو نہیں سکا ہے لیکن روپے کی قیمت میں کمی اور ڈالر کی قدر میں غیرمعمولی اضافے نے اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ توانائی کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ اس بات پر قومی اتفاقِ رائے ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے اور ریاست کے تمام ستون کرپشن اور بدعنوانی میں لتھڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبے میں عملاً ایک مافیا حکمران ہے۔ قومی زندگی میں مافیا کی حکمرانی اور طاقت کے وجود کا مطلب یہ ہے کہ ہم قومی سطح پر اخلاقی بحران کا شکار بھی ہیں۔ اسی طرح حکمران جماعت کرپشن اور بدعنوانی کیخلاف تحریک چلا کر حکومت میں آئی ہے لیکن غیرجانبدار اور شفاف احتساب کی طرف ابھی تک پہلا قدم بھی نہیں اُٹھایا جا سکا ہے۔ عالمی تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کیسے ہیں؟ پاکستان امریکی ’’وار آن ٹیرر‘‘ کا اتحادی بنا جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے درست الفاظ استعمال کئے ہیں کہ اب ہم کرائے کے سپاہی نہیں بنیں گے۔ انہوں نے خوشخبری سنائی ہے کہ اب امریکہ ہمیں ’’ڈومور‘‘ کہنے کے بجائے ہماری بات سننے لگا ہے لیکن یہ تاثر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ امریکہ نئے انداز سے پاکستان پر اپنا دباؤ ڈال رہا ہے۔ ماضی کی طرح ہمیں اب بھی یقین نہیں ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ اب بھی قومی خودداری کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے اس کی وجہ حکمران طبقات خوف اور طمع ولالچ میں مبتلا ہیں۔ تبدیل شدہ حالات یہ ہیں کہ دنیا کی سب سے غریب اور پسماندہ قوم افغانوں نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو شکست دی ہے۔ اس شکست نے عالمی منظرنامے کو تبدیل کیا اور چین نئی عالمی طاقت بن کر اُبھرا ہے۔ عالمی سرمایہ داری کا مرکز یورپ وامریکہ سے ایشیا منتقل ہوگیا ہے۔ اس خطے میں عالم اسلام کو مرکزیت حاصل ہے۔ چین کا ون روڈ ون بیلٹ منصوبہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی قیادت کی تبدیلی کا اشارہ ہے، جس کا ایک حصہ سی پیک ہے۔ اسی وجہ سے سی پیک کو خطے میں ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیا گیا ہے اور بجاطور پر قرار دیا گیا ہے۔ عالمی نظام میں تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کیلئے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس کا اثر پاکستان کی داخلی سیاست پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس تناظر میں نئے انداز سے امریکی دباؤ سامنے آئے گا۔ اس کے دو مظاہر ہیں، آئی ایم ایف سے قرض کیلئے پاکستان کے مذاکرات آخری مرحلے پر ہیں، آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض دینے کا فیصلہ امریکی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ علاج کی کڑوی گولی کے نام پر ایسے فیصلے آگئے ہیں جن کی ہلاکت خیزی کو عوام الناس بھگت رہے ہیں۔ بجلی، گیس، پیٹرول کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، آئندہ آنیوالے دنوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ڈالر کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی کیساتھ جو ایک اور فیصلہ امریکہ کی طرف سے آیا تھا وہ یہ کہ پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں اقلیتوں کی آزادی سلب کی جاتی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کیا تھا اور اپنے مخالف ممالک کیساتھ پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ بھی پاکستان پر دباؤ کی صورت تھا، اس کا کوئی تعلق اقلیتوں کے تحفظ سے نہیں۔ اسی طرح منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ پہلے سے موجود ہے۔ ہمیں ایسے کوئی اشارے نظر نہیں آئے جن سے ظاہر ہو کہ پاکستان کی قیادت بڑی طاقتوں کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت رکھتی ہے حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار داخلی امور کیساتھ ساتھ خارجی امور پر بھی توجہ دیں، احتساب کی بات بہت ہو گئی ہے آئندہ بھی ہوتی رہے گی لیکن بھارت کی سازشوں کو سمجھا جائے اور اس کے آگے بند باندھا جائے ورنہ بھارت ہمیں عالمی دنیا میں تنہا کر دے گا اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے۔

متعلقہ خبریں