Daily Mashriq


جذباتی نہیں مربوط کارروائی کی ضرورت

جذباتی نہیں مربوط کارروائی کی ضرورت

گزشتہ دو چار دنوں کے اندر ہم جس قسم کی بدترین دہشت گردی اور حالات کا شکار ہوئے ہیں اس کیفیت میں حالات کا تقاضا ہر وہ کچھ کر گزرنے کا ہے جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی اس لہر سے چھٹکارا مل جائے۔ اس ضمن میں افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کرنے کااقدام جذباتی ہونے کے باوجود بھی قابل قبول اقدام گردانا جاسکتا ہے لیکن سرحد پار کارروائی کی حمایت مصلحت کے خلاف ہوگی۔ جہاں تک سرحدوں کی بندش کا تعلق ہے ہمسایہ ملک سے سرحدوں کی بندش اگرچہ کوئی موزوں عمل نہیں اور نہ ہی مسئلے کا حل ہے لیکن بہر حال وقتی طور پر اور پڑوسی ملک پر دبائو بڑھانے کے لئے کہ ایک تو دہشت گردوں کے داخلے کے امکانات کو معدوم کیا جاسکے دوم یہ کہ پڑوسی ملک کو اس امر کا احساس دلایا جائے کہ وہ اپنے علاقے میں موجود ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرے جو پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں بھی اگر حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لیا جائے تو افغانستان کی حکومت کی بے بسی کو ئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ افغانستان میں بھارت کا پورا نیٹ ورک کام کر رہا ہے جس پر افغان حکومت چاہنے کے باوجود بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ لیکن زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت نہ صرف اس نیٹ ورک پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتی بلکہ اس کی خوشنودی اور اعانت بھی ان عناصر کو حاصل ہے۔ افغانستان میں حکومت نہ تو طالبان کے خلاف کوئی پرقوت قدم اٹھا سکتی ہے اور نہ ہی جڑ پکڑتی داعش کو روک سکتی ہے۔ امریکہ کو اگر بلا شرکت غیرے حکمران ہی تصور کیاجائے تو غلط نہ ہوگا۔ افغانستان کی سرزمین کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف شدت سے اس وقت استعمال کیاگیا جب امریکہ میں مسلمانوں سے کھلم کھلا اظہار نفرت کرنے والے صدر کی حکمرانی قائم ہوگئی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے پہلے بھی امریکی حکمرانوں سے خیر کی توقع نہ تھی مگر وہ لگی لپٹی بہر حال رکھتے تھے۔ قصر ابیض کے موجودہ مکین کو تو یہ تکلف بھی گوارہ نہیں ۔ ہمارے تئیں اس صورتحال میں صرف افغان حکومت اور حکمران ہی پاکستان کی سالمیت اور امن و امان کے درپے نہیں بلکہ وہاں موجود مختلف قوتوں اور دہشت گردوں کے مقاصد و مفادات میں فرق کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود اس امر میں احتیاط ہی بہتر ہے کہ پاکستان افغانستان میں سرجیکل سٹرائیک اور دہشت گردوں کے کیمپوں کو از خود نشانہ بنائے ۔ البتہ اگر افغان سفارتکاروں سے جی ایچ کیو میں ملاقات کے دوران اس ضمن میں مشاورت کے بعد یہ اقدام اٹھایاگیا تو اسکی افادیت اور ا حسن ہونے میں کلام نہیں۔ کسی دوسرے ملک کی سرزمین کو نشانہ بنانا پاکستان کی پالیسی نہیں اور نہ ہی اس امر کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ کوئی پاکستان کی سرزمین کو نشانہ بنائے۔ جہاں جہاں دہشت گردوں کی طرف سے یا افغان فورسز کی طرف سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیاں دیکھی جائیں یا پاکستانی چوکیوں کو خطرات لاحق ہوں وہاں پر اپنا دفاع کرنا پاکستان کا بنیادی حق ہے خواہ اس دوران دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں کو ہی نشانہ کیوں نہ بنانا پڑے جہاں سے اس حملے کو قوت فراہم ہوتی ہو۔ پاکستان کا دہشت گردی کے واقعات پر افغانستان سے سفارتی سطح پر احتجاج اور دہشت گردوں کی فہرست دے کر ان کی حوالگی کا مطالبہ موزوں حکمت عملی ہے جس میں عدم تعاون پر یا دبائو بڑھانے کے لئے سرحدیں بند کرنے کا اقدام پاکستان کا حق ہے۔ ہمارے تئیں افغانستان کو اس قدر ہی زحمت دی جانی چاہئے جتنی اس کی وقعت اور صلاحیت ہے۔ افغانستان کی حکومت کو اولاً اپنے علاقے میں موجود طاقتور عناصر کے خلاف از خود کارروائی کرنی چاہئے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ بصورت ناکامی پاکستان کو اس امر کا از خود موقع پوری رضا مندی سے دینا چاہئے کہ پاکستان اس کی سرزمین پر اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرے۔ عملی طور پر ایسا ہونا اچنبھا سا ضرور لگتا ہے لیکن کیا یہی فارمولہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان غیر اعلانیہ اور اندرونی طور پر طے شدہ نہیں تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور ایک مرتبہ تو بندوبستی علاقے میں بھی امریکی ڈرون طیاروں کے حملے زیادہ دنوں کی بات نہیں۔ یہی طریقہ کار اگر پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں اختیار کریں تو اسی خطے میں اس قسم کی نظیر موجود ہونے کی بناء پر اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہمارے تئیں یہی طریقہ کار ہی دونوں ملکوں کی مشکلا ت اور مجبوریوں کا درمیانی حل ہوسکتا ہے۔ ہمارے تئیں پاکستان اور افغانستان کی طویل دشوار گزار اور مسام دار سرحدوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا اور غیر قانونی اور خاص طور پر دہشت گردوں کی آمد و رفت کی روک تھام کے تناظر میں ایسا کرنا نہایت مشکل کام ہے اس لئے اس کی روک تھام کے لئے جذباتی اقدامات اور جذباتی نوعیت کے انتظامات کی بجائے دونوں ملکوں کی قیادت کو ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں دونوں ممالک کا مفاد بھی ہے اور یہ دونوں ملکوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ جب تک پاکستان اورافغانستان حکومتی سطح پر اس ضمن میں ایک دوسرے سے خلوص اور دیانتداری سے تعاون کا فیصلہ نہ کریں اور مشترکہ اقدامات یقینی بنانے میں اپنا اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا شروع نہ کریں یکطرفہ اقدامات اور انتظامات کا موثر ہونا سوالیہ نشان ہی رہے گا۔ پاکستان اور افغانستان اکیلے اکیلے دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑ سکتے ان دونوں ممالک کو تعاون کی راہ اپنانا ہوگی۔ حملوں کی زد میں آنے والے عوام کو جذباتی بیانات اور جذباتی اقدامات سے وقتی طور پر نفسیاتی کیفیت سے شاید نکالا جاسکے لیکن یہ پر مغز اور ٹھوس پالیسی کا نعم البدل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی پائیدار اور دیرپا ہوسکتے ہیں۔ داعش کی صورت میں خطے کو جن نئے خطرات کا سامنا ہے ان خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہوگا اور اس خطرے کو پھیلنے سے روکنے کے لئے پاکستان اور افغانستان کو خواہی نخواہی ایک دوسرے سے رابطہ رکھنا ہوگا اور مشترکہ طور پر دہشت گردی کے اس عفریت کا سر کچلنا ہوگا۔ افغانستان میں طالبان اور داعش دونوں ہی سے امن کو خطرات لاحق ہیں اور یہی عناصر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سر گرم بھی ہیں جن کا صفایا اسی صورت ہی ممکن ہوگا جب دونوں ممالک ان کے خلاف بیک وقت کارروائی شروع کریں اور سرحد کے دونوں جانب ان عناصر کے خلاف پوری قوت سے کارروائی ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں