Daily Mashriq

بھارتی ارکان پارلیمنٹ کی ہی تقلید کی جائے!

بھارتی ارکان پارلیمنٹ کی ہی تقلید کی جائے!

بھارت میں شادیوں کی حوصلہ شکنی اور اربوں روپوں کے اخراجات پر ٹیکس عاید کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں بل لانے کے اقدام کی ہمارے ارکان پارلیمنٹ کو بھی تقلید کرلینی چاہئے۔ وطن عزیز میں شادی میں بے جا نمود و نمائش اور جس قسم کے اسراف کا مظاہرہ کیاجاتا ہے وہ دینی اور معاشرتی ہر دو لحاظ سے کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ ہمارے ہاں شادی کی فضول رسومات کے باعث ایک اہم فریضہ جتنا مشکل ہوگیا ہے اس سے نکاح مشکل اور بے راہروی سہل ہوگئی ہے جو ہمارے معاشرے کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ شہروں میں سادگی سے نکاح و رخصتی کی ریت تو دم توڑ چکی ہے قصبات اور دیہات میں بھی طرح طرح کی رسومات اسراف و فضول خرچی کے باب کھل گئے ہیں۔ اوسط درجے کی شادی میں بھی جو اسراف اور بدعات کے مظاہر سامنے آتے ہیں ان کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ امراء و رساء تو شادیاں بھی بیرون ملک مہنگے مقامات پر کرتے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے ہی ایک معروف سیاستدان کی بیٹی کی بیرون ملک مہنگے کلب میں شادی ہوئی ہے۔ ایسے میں روساء کی نمائندگی کرنے والے ارکان پارلیمنٹ سے کسی کارخیر کی توقع تو نہیں مگر پارلیمنٹ میں اوسط درجے کے عوام کی بھی نمائندگی موجود ہے خاص طور پر دینی اور اسلامی جماعتوں کے نمائندے موجود ہیں جن کا فرض بنتا ہے کہ وہ کم از کم ایک ہندو ملک کے ارکان پارلیمنٹ کے اچھے اقدام کی تقلید کرکے پاکستان میں بھی شادی پر کروڑوں اربوں روپے لٹانے والوں پر بھاری ٹیکس عاید کریں۔ شادیوں میں ون ڈش اور رات دس گیارہ بجے تک شادی کی تقریبات کے اختتام بارے قوانین پر بھی عملدرآمد کرایا جائے۔

متعلقہ خبریں