Daily Mashriq


دہشت گردی کی لہر، فوری ردعمل اور طویل حکمت عملی

دہشت گردی کی لہر، فوری ردعمل اور طویل حکمت عملی

گزشتہ چار پانچ دن کے اندر ملک کے چاروں صوبوں اور فاٹا میں دہشت گردوں کے آٹھ حملوں پر فوجی اور سیاسی قیادت کی طرف سے فوری ردِعمل آیا ہے۔ سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف جنرل باجوہ کا پیغام تھا کہ پاک فوج قوم کے ساتھ ہے۔ اگلے ہی روز سیہون شریف ہی میں وزیر اعظم نواز شریف کے زیر قیادت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں کلیدی وفاقی وزراء کے علاوہ آرمی چیف بھی شریک تھے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف نے فورسز کو فری ہینڈ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوںکو جہاں کہیں وہ ہیں ختم کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں وسیع پیمانے پر دہشت گردوںکی تلاش اور تعاقب کے لیے آپریشن شروع کر دیے گئے۔ افغانستان کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو راولپنڈی جی ایچ کیو میں بلا کرنہ صرف احتجاج کیا گیا بلکہ اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے 76افراد کی ایک فہرست بھی حوالے کی گئی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں یا ذمہ دار ہیں۔ مہمند ایجنسی اور خیبر ایجنسی سے متصل افغان علاقے میں جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر گولہ باری بھی کی گئی ہے اور طور خم اور چمن میں پاک افغان سرحد بند کر دی گئی ہے جہاں سے روزانہ تیس پینتیس ہزار افراد سرحد پار کرتے ہیں۔ اس طرح باقاعدہ اعلان کیے بغیر ملک بھر میں دہشت گردوںکی سرکوبی کے لیے ہنگامی حالت برپا ہے۔

بعض مبصر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ افغانستان میں افغان سفارت کاروں کو فوج کے ہیڈکوارٹر میں بلانے کو ناپسند کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی دفتر خارجہ ہی کو کرنی چاہیے تھی۔ لیکن مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے بھی اسی روز افغانستان کے سلامتی کے امور کے مشیر سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اسے روکا جائے۔ اس سے پہلے ایسے شواہد موجود ہیں کہ افغان حکمران پاک فوج ہی سے رابطے کرتے رہے ہیں ۔ صدر اشرف غنی نے جب پاکستان کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے خود جی ایچ کیو میں فوجی قیادت سے ملاقات پر اصرار کیا تھا۔صدر اشرف غنی نے پچھلے دنوں جنرل باجوہ کوافغانستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ اس لیے افغان ناظم الامور کو جی ایچ کیو بلایا جانا کوئی اہم ایشو نہیں ہونا چاہیے۔ طورخم سرحد کو بند کرنے سے متعلق کہا جارہا ہے کہ اس بندش سے تاجروں کا نقصان ہو گا اورٹرکوں میں لدی ہوئی تازہ سبزیاں اور پھل تلف ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کچھ لوگ افغانستان سے علاج معالجے کی غرض سے بھی پاکستان آتے ہیں، انہیں روکنا مناسب نہیں۔ لیکن پاک افغان سرحد کے بند کرنے کی وجہ اہم ہے کہ افغانستان سے آ کر دہشت گرد پاکستان میں ہلاکت خیز کارروائیاں کرتے ہیں۔ اور ان کارروائیوں کی ذمہ داری بھی دھڑلے سے قبول کرتے ہیں۔ افغانستان کے حکام کو معلوم ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں فرار ہو کر یہ افغانستان میں کہاں پائے جاتے ہیں ۔ لیکن افغانستان کی طرف سے ان کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کرنے یا روکنے کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد طویل ہے۔ پاک فوج نے احکام جاری کیے ہیں کہ اس سرحد کے خفیہ راستوں سے اگر کوئی غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونا چاہے تو اسے گولی مار دی جائے۔ افغانستان کی طرف سے اس پر احتجاج کی بجائے توقع یہ ہے کہ افغان حکومت اپنی سرحد کے اندر سے فرار ہو کر آنے والے دہشت گردوںکے خلاف کارروائی کرے۔ افغانستان کی طرف سے بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کرنے والے پاکستان کے علاقے میں مقیم ہیں۔ افغانستان کی طرف سے بھی پاکستان کو مطلوب افراد کی فہرستیں دی جا چکی ہیں۔ اس لیے ضروری یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان جو دونوں ہی دہشت گردی کا شکار ہیں دہشت گردی کے خلاف آپس میں تعاون کریں جو دونوں کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کی طرف سے متعدد بار تعاون کا ہاتھ بڑھایا جا چکا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان کب اس تعاون پر آمادہ ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے خلاف فوری ردِعمل کے علاوہ ایک پہلو یہ بھی زیرِ بحث کہ دہشت گرد خواہ بیرون ملک سے کہیں سے بھی آتے ہوں آخر انہیں سہولت کار تو پاکستان کے اندر ہی سے میسرآتے ہیں ۔ یہ جنگ کئی برس سے جاری ہے ۔ لہٰذا ایسے بیانیہ کے تدارک کی ضرورت ہے جو مذہب کے نام پر قتال اور دہشت گردی کو جائز قرار دیتا ہے اور ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ ملک میں موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں کاقلع قمع کیا جا سکے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کی حامل تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے مرتب ہونے والے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے پر بحث کی جا رہی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان ہو یا کومبنگ آپریشن، اس کی کامیابی کے لیے عام لوگوں کا تعاون ضروری ہے۔ فوج نے اس حوالے سے ایک ہیلپ لائن کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ کہا جاتارہا ہے کہ مشکوک اشیاء کی اطلاع ان ٹیلی فون نمبروں پر دی جائے لیکن عوام کا مؤثر تعاون گزیرپا دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا تعاون نہ ایک حکم کی بات ہے نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فوری طور پر جیتی جا سکتی ہے۔تعاون کے لیے عوام کو تحفظ چاہیے۔ اس کے لیے پولیس اور فوجداری عدالتوں کی کارکردگی مثالی بنائی جانی چاہیے۔ پولیس نگرانی میں مستعد ہو،مقدمات درج ہوں، ان کی پیروی صحیح خطوط پر کی جائے ۔ گواہوں کو تحفظ حاصل ہو اور عدالتیں جلد فیصلے کریں۔ ایسے ماحول میں عام لوگوں کا اعتماد بڑھے گا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں ۔ تاہم فوری طور پر یہ ضروری ہونا چاہیے کہ یونین کونسل سے لے کر ارکان قومی اسمبلی تک سبھی منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے عوام سے رابطے میں رہیں اور حاصل ہونے والی اطلاعات سے انتظامیہ کو آگاہ کریں۔

متعلقہ خبریں