Daily Mashriq

لہو لہوپاکستان

لہو لہوپاکستان

گزشتہ چند دنوں میں لاہور، پشاور، مہمند ایجنسی، کوئٹہ اور اب سندھ کے سیہون شریف میں خود کش حملوں میں ایک اندازے کیمطابق 100سے زائد لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔سیہون شریف کے کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات مطابق اس واقعے میں 83 سے زیادہ لوگ شہید اور 343زخمی ہوئے ہیں۔ پو رے ملک میں ہنگامی صورت حال ہے۔ بری فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے مشکل کی اس گھڑی میں قوم کو باور کرایاہے کہ دہشت گردوں سے شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔اُنہوں نے اپنے ہم وطنوںسے کہا ہے کہ وہ پُر سکون رہیں۔اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریںتو دہشت گردی کے ان واقعات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغانستان میں مُٹھی بھر عنا صر بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے موجودہ دہشت گر دی کے واقعات میں پوری طرح ملوث ہیں۔بھارت کے موجو دہ وزیر اعظم نریندرمو دی اور نئے چیف آف آرمی سٹاف بین روات کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور یہ دونوں ہر حال میں پاکستان کو غیر مُستحکم کرنا چاہتے ہیں۔جب سے پاکستان نے امریکہ کو کسی حد تک چھوڑ کر چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کئے اور چین کی مدد سے پاکستان میں سی پیک کے منصوبہ پر کام کا آغاز ہوا ہے تو اُسی دن سے امریکہ کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی میں ملوث ہونے اور دہشت گردوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

حالانکہ امریکہ اور پو ری دنیا کو معلوم کہ پاکستان دہشت گر دی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ اور امریکہ کی اس جنگ میں ہزاروں لوگوں کی قربانی کے علاوہ 80 ارب ڈالر کا نُقصان بھی اٹھا چکا ہے مگر امریکہ کا کلیجہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اس قسم کے بیانات سے امریکہ یہ بات ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گر د اور انتہا پسند ملک ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ، بھارت اور افغانستان کے مُٹھی بھر عناصر پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ حالانکہ پاکستان کا استحکام افغانستان اور ایشیاء اور دنیا کا استحکام ہے۔پاکستان میں حال ہی میں جتنے بھی خود کش حملے ہوئے ان سب کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔حالانکہ پاکستان، افغانستان، ، وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کو ایک اتحاد بنانا چاہئے کیونکہ یہ اتحاد ان ممالک اور اس خطے کے فائدے میں ہو سکتا ہے۔مگر بھارت اور افغانستان کے شر پسند عناصرپاکستان کو غیر مُستحکم کر کے بھارت اور امریکہ کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔کیونکہ امریکہ اور بھارت چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی سے پریشان ہیں اور اسکو اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔جہاں تک پا کستان کے ساتھ بھارت اور امریکہ کی دشمنی کا سوال ہے تو بھارت نے تو روز اول سے پاکستان کودل سے تسلیم نہیں کیا اور اس کو نُقصان پہنچانے کے لئے سا زشیں کر رہا ہے۔ جہاں تک پاکستان کے جُغرافیائی محل وقوع کا تعلق ہے تو امریکہ اور بھارت دونوں اس سے خائف ہیں۔ اور ان دونوں کی کو شش ہے کہ پا کستان کو غیر مُستحکم کرکے یہاں پر قبضہ جمایا جائے تاکہ وسطی ایشائی ریاستوں کے وسائل پر قبضہ کیا جائے۔ اور ساتھ ساتھ امریکہ اور بھارت دونوں علاقے کے دادا گیر بن جائیں۔علاوہ ازیں پاکستان کو غیر مستحکم کرکے اس کے اٹیمی ہتھیار چھین کر بھارت اور اسرائیل کو تحفظ دیا جاسکے۔ جہاں تک وطن عزیز کے اندرونی حالات کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک و شُبہ نہیںکہ کراچی، پشاور، قبائلی علاقہ جات میں امن و امان کے حالات پہلیکی نسبت بہتر ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ اگر رینجر نے کراچی، پشاور، قبائلی علاقہ جات میں امن و امان اور حکومتی رٹ کو بحال کرنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی آپریشن کئے تو پنجاب میں اس پر کیوں عمل نہیں ہوا۔ اب زیادہ دہشت گر د جنوبی پنجاب میں داخل ہو چکے ہیں ۔ پنجاب میں دہشتگردوں کی سر کوبی کے لئے فوجی آپریشن کی شدید ضرورت ہے۔

فاٹا کو جلد از جلد خیبر پختونخوا میں شامل کرکے اسکو قومی دھارے میں شامل کیاجائے۔بھارت کے سابق را کے جنرل رائو کمار نے 1969ء میں پاکستان کو ٹکڑے کرنے کے لئے رائو کے نام سے ایک منصوبہ بنایا تھا ۔ جسکے مطابق 1971ء میں مشرقی پاکستان کو پاکستان سے جدا کیا گیا اور اب اس منصوبے کے مطابق اس کی کو شش ہے کہ بلو چستان، کراچی، اور فا ٹا کے حالات کو خراب کرکے پاکستان کو تقسیم کیا جائے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ایک قوم کے طور پر متحد ہونا ہوگا۔ فوج کو بلا جھجک پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنا چاہئے۔ ملک میں بد عنوانی اور کرپشن کے لئے سخت سے سخت ترین سزا مقرر کرنی چاہئے۔ کیونکہ جب تک ملک میں کرپشن پر قابو نہیں پایا جاتا اُس وقت تک ملک اقتصادی ترقی نہیں کر سکتا۔ اور لوگوں کی فلاح و بہبود پر رقم خرچ نہیں کی جاتی اور جب تک ملک اور با لخصوص فاٹا ، جنوبی پنجاب میں عام لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی نہیں ہو گی اُس وقت تک دشمن ممالک کے لئے کرائے کے قاتل اور خود کش ملتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں