Daily Mashriq

دمار خپہ او۔۔۔۔

دمار خپہ او۔۔۔۔

پشتو میں د مار خپہ او د انذر گل ' سانپ کے پائوں اور انجیر کا پھول کے محاورے' نایاب چیزوں کے ذکر کے وقت بولے جاتے ہیں۔ سرکار کی بے بسی کو دیکھ کر ہمیں یہ محاورے اکثر یاد آجاتے ہیں۔ ہماری مراد حکومت کی رٹ کے نفاذ میں ناکامی سے ہے۔ جب بھی عوامی مفاد کا کوئی حکم نامہ جاری ہوتا ہے اور مفاد پرست عناصر کے مفادات پر اس کی زد پڑتی ہے تو پھر جلسے' جلوسوں' دھرنوں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ بالعموم یہ احتجاجئے اور بلوائی اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ گوالوں سے کہا جائے کہ خالص دودھ بیچا کرو اور قیمتیں بھی مناسب رکھو تو وہ دکانیں بند کرکے گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ سبزی فروش' سرکاری نرخ پر سبزیاں فروخت کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مالکان پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باوجود سرکار کا کرایہ نامہ نہیں مانتے۔ سی این جی اور پٹرول سٹیشن کے مالک کسی قانون کی پاسداری نہیں کرتے اور کاروبار بند کرکے غائب ہو جاتے ہیں۔ سرکار پھر انہیں منانے کی کوشش کرتی ہے ۔ مذاکرات ہوتے ہیں اور پھر احتجاجیوں کی شرائط پر سمجھوتہ ہو جاتا ہے۔ عوام جائیں بھاڑ میں۔ یہ سب کچھ ہمیں 13فروری کو لاہور کے مال روڈ پر فارما انڈسٹری کے مالکان کے احتجاجی دھرنے پر یاد آیا۔ بات صرف اس قدر تھی کہ پنجاب اسمبلی نے 8فروری کو ڈرگ ایکٹ 1976ء ترمیمی بل منظور کیا تھا جس کے تحت غیر معیاری ادویہ سازی پر 6ماہ سے 5سال تک قید اور ایک کروڑ سے 5کروڑ تک جرمانہ جبکہ کوالیفائیڈ پرسن کے موجود نہ ہونے پر 30دن سے لے کر 5سال تک قید اور 5لاکھ سے 50لاکھ روپے تک جرمانہ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے مذکورہ بل ماننے سے انکار کردیا۔ ادویات کی سپلائی بند کردی۔ صرف ہول سیل ہی نہیں ریٹیلر اور میڈیکل سٹور بھی بند رہے۔ ان کی جانب سے جواز یہ سامنے آیا کہ ڈرگ ایکٹ کا یہ ترمیمی بل ادویہ سازی کے کاروبار کو تباہ کرنے اور مریضوں کو مارنے کا بھارتی منصوبہ ہے۔ جیسے کہ قوم کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے کسی بھی معاملے میں جب کسی طبقے کے مفادات پر زد پڑتی ہے تو اس میں بھارت کی دخل اندازی کا حوالہ ضروری ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح اس مسئلے میں بھی یہی حربہ استعمال کیا گیا۔ ادویہ ساز کمپنیوں کی اس دلیل میں کہاں تک صداقت ہے ہم اس پر کوئی ماہرانہ رائے نہیں دے سکتے۔ غیر ملکی ادویات درآمد کرنے اور ان کے فروخت کے لئے الگ قوانین موجود نہیں اور ان کا بظاہر ڈرگ ایکٹ ترمیمی بل سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ وہ اس لئے کہ مریض بھارتی ادویات براہ راست نہیں منگوا سکتا بلکہ بھارتی دوائیاں' فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی وساطت سے ہی دکانوں تک پہنچتی ہیں۔

ہمیں تو یہاں تک بتایاگیا ہے کہ بھارتی ادویات زیادہ موثر اور کم قیمت ہوتی ہیں۔ چنانچہ دوا ساز کمپنیاں ان پر اپنا لیبل لگا کر زیادہ مہنگی قیمتوں پر میڈیکل سٹورز کو سپلائی کر دیتی ہیں۔ پنجاب کی حکومت کو ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ بار بار کی تنبیہہ کے باوجود دوا ساز کمپنیاں' جعلی اور مضر صحت دوائیاں فروخت کرنے سے باز نہیں آئیں۔ لازم نہیں کہ ملک کی تمام فارما سیوٹیکل کمپنیاں اس کاروبار میں ملوث ہوں۔ محکمہ صحت کی چشم پوشی یا پھر کسی غفلت کی وجہ سے چند کالی بھیڑوں نے اس پورے شعبے کو بدنام کردیا ہے۔ براہ راست جڑی بوٹیوں اور قدرتی اجزاء سے تیار کی جانے والی ادویات کے معیار پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اب تو گلی کوچوں میں بھی ایسی فیکٹریاں کام کرنے لگی ہیں جہاں تیار ہونے والی دوائیاں' بیماریوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ ہمیں یہ بتانے کی اجازت دیجئے کہ ایسی دوائیوں میں وٹامنز' سکون آور اور ایک تیسری دوا جس کا نام ہم یہاں لینا مناسب نہیں سمجھتے بطور خاص مارکیٹ میں سرعام فروخت ہوتی ہیں اور یہ بھارتی دوائوں کے نام پر نہایت ہی کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ بلا شبہ ایسے لوگوں پر مضبوط ہاتھ ڈالنا اور انہیں قانون کے مطابق سزائیں دینا حکومتی اداروں کے فرائض میں شامل ہے۔ اس امر کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ قوانین کے نفاذ میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے تاکہ نیک نیتی سے کام کرنے والے دوا فروش اس سے متاثر نہ ہوں اور انہیں مریض سے یہ بات پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے کہ دارو ارزان درکڑم کہ گران' سستی دوا چاہئے یا مہنگی۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ سستی کے نام سے دکانوں پر جعلی دوائیاں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ ظاہرہے گدھے اور گھوڑے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے سے شور تو ضرور اٹھے گا۔ دھرنے ضرور دئیے جائیں گے اور ڈرگ سٹورز بند ہونے پر صرف مریضوں کو اذیت کا سامنا ہوگا۔

13فروری کی شام کو لاہور کے مال روڈ پر دوا ساز کمپنیوں کا احتجاج اور پھر اس موقع پر دہشت گردی کا المناک سانحہ ہر دو جانب سے کوتاہیوں کی وجہ سے ہی رونما ہوا۔ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ مفاد پرست عناصر اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد تک جانے سے دریغ نہیں کرتے۔ حکومت کو بھی اس ضمن میں سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ نتیجہ تو عوام کی تباہی ہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ جیسے ہا تھیوں کی جنگ میں مینڈکوں کی ہی شامت آتی ہے۔ حکومت کی رٹ تو پہلے ہی سے د مار خپہ بن چکی ہے۔