Daily Mashriq

طلبہ میں منشیات کا بڑھتا رجحان

طلبہ میں منشیات کا بڑھتا رجحان

اچھے وقتوں میں ہماری تعلیم کی وزارت' وزارت تعلیم و تربیت کہلاتی تھی۔ تب اساتذہ کرام اپنے آپ کو رئیس المعلمینۖ کا وارث سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو اس حیثیت میں رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اس بھلے زمانے میں استاد ماسٹر جی بھی کہلاتے تھے۔ ماسٹر جی اپنے پیشے کو مشن سمجھ کر قوم و ملک کے نو نہالوں کی تعلیم و تربیت کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے تھے۔ تب ہمارے ٹاٹ سکولوں سے ایسے نا بغہ پیدا ہوئے کہ ایک طرف سوشل سائنسز کی دنیا میں مولانا ابوالکلام آزاد' سید ابوالاعلیٰ مودودی' مولانا محمد علی جوہر اور مولانا عبدالماجد دریا آبادی پیدا ہوئے اور اس ذیل کی فہرست اتنی طویل ہے کہ یہ چند نام بطور نمونہ پیش کئے گئے اور دوسری طرف نیچرل سائنسز میں آئی ایچ عثمانی' ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند جیسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ لیکن پھر ہمیں ایسی نظر بد لگ گئی کہ ہمارے ہاں کے تعلیمی اداروں سے ایسے لوگ فارغ ہونے لگے جن کا مطمح نظر دولت اور جاہ و اقتدار کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسی صورتحال نے ہمیں 16دسمبر1971ء کا سیاہ دن دکھایا جس میں بہت ارمانوں اور قربانیوں سے قائم کئے گئے مملکت خداداد کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ وہ دن اور آج کاد ن ظاہراً تو عمارات' سڑکوں' کارخانوں اور بعض دیگر شعبوں میں ہم ضرور آگے بڑھے ہیں اور بڑھنا بھی چاہئے تھا کہ یہ ایک نیچرل پراسس ہوتا ہے کہ زمانہ اپنے فطری چال کے ساتھ آگے ہی بڑھتا ہے اور یہ تھوڑی بہت مادی ترقی پوری دنیا میں مغرب میں سائنسی انقلاب کی وجہ سے ہوئی ۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ ہمارے ہاں جو بڑا زوال آیا وہ وزارت تعلیم سے لفظ ''تربیت'' کا غائب ہونا تھا۔ اب صرف تعلیم ہی تعلیم رہ گئی ہے۔ پاکستان ایک فیڈرل مملکت ہے۔ فیڈریشن کی مضبوطی کے لئے نصاب تعلیم کا ایک ہونا بے حد لازمی ہے۔ لیکن تعلیم کا شعبہ جب صوبوں کو منتقل ہوا تو حکومتی سطح پر پہلے سے بد حال سکولوں اور کالجوں وغیرہ کی صورتحال اور بھی خراب ہوگئی جس سے پرائیویٹ شعبے کو واک اوور (Walk over) کا موقع مل گیا۔ پرویز مشرف کے دور کی روشن خیالی اور اٹھارہویں ترمیم کی صوبائی خود مختاری کے تحت شعبہ تعلیم کی آزادی نے مل کر جو فضاء قائم کی اس کے نتائج اس صورت میں ہمارے سامنے آرہے ہیں کہ ہر ضلع کی سطح پر سرکاری اور نجی سطح پر یونیورسٹیاں قائم ہوگئی ہیں اور وہاں مخلوط تعلیم اتنی آزادی کے ساتھ جاری و ساری ہے کہ تعلیم تو شاید بہت کم نظر آئے البتہ تہذیب و ثقافت یعنی کلچر منوں کے حساب سے نکل رہی ہے۔ بقول انورمسعود۔

اجڑا سا وہ نگر کہ ہڑپہ ہے جس کا نام

اس قریہ شکستہ و شہر خراب سے

عبرت کی ایک چھٹانک میسر نہ آسکی

کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے

ہمارے ملک میں تعلیم کے زوال کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایم اے کی ڈگری ہاتھ میں' لیکن روز گار کے حصول کے لئے بقلم خود ڈھنگ کی درخواست عرائض نویس سے لکھوائی جاتی ہے۔ (اللہ ماشاء اللہ) میڈیکل کالجز( سرکاری و پرائیویٹ دونوں) کا یہ حال ہے کہ پچاس ساٹھ لاکھ روپے میں پرائیویٹ میڈیکل کالج ایک ڈاکٹر فارغ (Produce) کرتے ہیں اور ایم بی بی ایس کی ڈگری سے نوازتے ہیں لیکن مجال ہے کہ وہ ڈھنگ سے بلڈ پریشر' انجکشن یا انٹروین' کینولا یا خون لے سکے۔ یہ اور اس قسم کی بہت ساری دیگر کمی کو تاہیاں اپنی جگہ لیکن اب ہمارے تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کا جو جنازہ نکل رہا ہے وہ اس شکل میں سامنے آرہا ہے کہ استاد اور بزرگوں کا احترام قصہ پارینہ بن رہا ہے۔ یورپی تہذیب اس تیزی کے ساتھ ہماری نئی نسل کو دبوچ چکی ہے کہ نوجوانوں کا لباس' بالوں کی تراش خراش' اٹھک بیٹھک اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جامعات میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی اصطلاحات بغیر تردد اور شرم و حیا کے سنائی جا رہی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر آج کا جو لمحہ فکریہ اور المیہ ہے وہ یہ کہ منشیات کا رجحان اتنا عام ہوگیا ہے کہ ہمارے ہاسٹلوں میں سگریٹ' نسوار اور چرس کو تو ''قومی نشہ'' سمجھتے ہوئے قبولیت عام حاصل تھی اب اس میں اضافہ آئس (Ice) کی صورت میں ہوا۔ سال ڈیڑھ قبل ''شیشہ'' کی وبا آئی لیکن پھر حکومت نے اس پر گیسٹ ہائوسز اور ہوٹلوں میں پابندی لگوائی تو کچھ کمی دیکھنے میں آئی۔ لیکن اب آئس کی جو وبا آئی ہے یہ ہماری نوجوان نسل کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔ خیبر پختونخوا کی مایہ ناز ڈاکٹر اور سوشل ورکر پروین اعظم خان نے ایک نشست میں اس کیمیکل نشے کے متعلق جو معلومات اور اعداد و شمار اور ہمارے معاشرے اور تعلیمی اداروں پر اثرات سے متعلق معلومات فراہم کیں وہ اتنی خوفناک ہیں کہ اگر حکومت' عوام اور والدین نے مل کر اس وبا کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا نہ کیا تو اس کا نتیجہ خدانخواستہ چینی افیمچیوں اور یورپ کے ہپیوں (Happies) کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر منشیات کے خلاف سخت قانون سازی کرے اور لا اینڈ آرڈر نافذ کرنے والے اداروں اور اینٹی نارکوٹکس فورس کو بیدار کرے کہ ہماری جامعات اور تعلیمی اداروں کے قریب ایسے افراد پھٹک بھی نہ سکیں جو اس مذموم دھندے میں ملوث ہیں۔

متعلقہ خبریں