Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت ربیع بن خثیم بڑے ولی کامل گزرے ہیں۔ ان کی شہرت اور قبولیت کی وجہ سے کچھ لوگوں کو ان سے حسد ہوگیا اور ان حاسدین نے ایک خوبصورت عورت کو ایک ہزار درہم دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حضرت ربیع بن خثیم کو فتنہ میں مبتلا کرے تاکہ ان کے تقویٰ اور عبادت کی شہرت ختم ہو جائے۔ ہزار درہم وصول کرکے اس عورت نے کہا کہ ربیع کو بہکانا بائیں ہاتھ کاکھیل ہے۔ چنانچہ اس نے عمدہ لباس زیب تن کیا' خوشبو لگائی اور زیور سے آراستہ ہو کر اپنے حسن و جمال کا فریفتہ کرنے کے لئے حضرت ربیع کے سامنے آئی۔ چونکہ ربیع بن خثیم حقیقی ولی تھے اس لئے انہوں نے نظر اٹھا کر بھی اس عورت کو نہیں دیکھا۔ جیسے وہ سامنے آئی تو آپ معاملہ سمجھ گئے اور آپ نے اس کو مخاطب کرکے صرف تین جملے ایسے ادا کئے کہ اس عورت کی زندگی بدل گئی اور مرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کو عابدہ بنا لیا۔

1۔آپ نے فرمایا کہ بہن! آج تجھے جس حسن پر ناز ہے اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیرا چہرہ کسی بیماری کے سبب بگڑ جائے' اس کی رونق ختم ہو جائے اور تو ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے۔

2۔آپ نے فرمایا اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تجھے قبر میں ڈالا جائے گا اور تیرے جسم پر کیڑے چلیں گے' جو تیرے گالوں اور تیری ہڈیوں کو نوچ لیں گے اور تو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جائے گی۔

3۔آپ نے فرمایا: وہ دن یاد کر جب قبر میں منکر نکیر آئیں گے اور تجھ سے سوال کریں گے' آپ نے یہ تین جملے اس درد کے ساتھ ادا فرمائے کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑی۔ جب ہوش آیا تو اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑی عابدہ بنا دیا۔ وہ مستجاب الدعوات بن گئی اور لوگ اس کے پاس دعائیں کرانے آتے تھے۔یہ تین جملے انسان کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہیں جس نے اس خاتون کی زندگی بدل دی۔ یہ باتیں ہر انسان کے ساتھ ہو کر رہیں گی۔ روز ہم اپنے سامنے ایسے واقعات دیکھتے ہیں کہ کل تک جو ہمارے عزیز دوست رشتہ دار ہمارے ساتھ تھے آج ہمارے درمیان موجود نہیں۔ اس لئے اپنے آپ کو اس حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرنا چاہئے۔

حضرت ابن نافع فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک شخص فوت ہوگیا۔ ایک آدمی نے اس کو خواب میں دیکھا گویا کہ وہ آگ میں جل رہا ہے۔ وہ اس بات سے بڑا غمگین ہوگیا۔ ایک یا دو دن کے بعد اس شخص نے اسے خواب میں دوبارہ دیکھا۔ گویا وہ جنت والوں میں سے ہے۔ اس نے مرنے والے سے پوچھا' تم نے کہا تھا گویا کہ میں دوزخ والوں میں سے ہوں ؟ (اور اب جنت والوں میں ہو' یہ کیا ماجرا ہے) اس نے کہا' بات یہی تھی' مگر ہوا یہ کہ ایک نیک شخص میرے پہلو میں دفن کیاگیا' اس نے 40آدمیوں کے لئے (عذاب ہٹائے جانے) کی شفاعت کی۔ (اور اس کی شفاعت قبول ہوئی) میں ان 40 میں سے ایک تھا۔(سبق آموز واقعات)

متعلقہ خبریں